Children’s Psychological Problems, Causes, and Prevention
بچے جہاں والدین کے لیے باعث مسرت ہوتے ہیں وہیں ان کے مسائل والدین کو پریشانیوں کے گرداب میں پھنسا دیتے ہیں اور بچوں کی محبت میں گم والدین رہنمائی کے اصولوں کو محبت اور دوستی میں ضم کردیتے ہیں اور اس چکر میں بچوں کی صحیح تربیت ممکن نہیں ہو پاتی اور وہ اپنے صحیح مدار سے ہٹ جاتے ہیں۔
اس میں شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ بچوں کے نفسیاتی مسائل میں زیادہ حصہ والدین کا عطا کردہ ہوتا ہے۔ دیکھا جاتا ہے بچے ضدی ہوجاتے ہیں۔ غصہ کرتے ہیں محفلوں سے یا لوگوں سے گھبراتے ہیں اکثر خاموش رہتے ہیں۔ روتے ہیں۔ والدین پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔

کچھ بچے غیر ضروری جبر، مارپیٹ یا ڈرانے دھمکانے کے سبب خوف کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں مختلف قسم کی چیزوں سے بلاوجہ خوف آنے لگتا ہے۔ جیسے جانور، کیڑے مکوڑے، نا واقف لوگ، بادل کی گرج، اندھیرا یا ہوائی جہاز کی آواز وغیرہ۔ کچھ بچوں میں یہ نفسیاتی عارضے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ بالکل بزدل ہوجاتے ہیں۔
حتیٰ کہ انھیں نیند میں بھی خوف آنے لگتا ہے اور ڈراؤنے خواب ان کی نیند میں مسلسل مداخلت کرتے رہتے ہیں۔سکول سے ڈر اور خوف بھی اس کی ایک قسم ہے۔ بچہ اسکول جانے سے گھبراتا ہے۔ اسے اپنے اساتذہ اور اسکول کے دوسرے بچوں سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے حوصلہ افزائی، پیار و محبت، انعام دے کر سکول میں کچھ وقت گزارنے کے لیے رضا مند کیا جائے۔ بچوں کے کچھ کامن مسلے اور ان کو کیسے حل کیا جائے
بچوں کا رات میں سوتے ہوئے ڈر جانا

ڈراؤنے خواب دیکھنے والے بچوں کو نیند کم آتی ہے۔ وہ بار بار جاگ جاتے ہیں یا سوتے میں بڑبڑاتے رہتے ہیں۔ نیند سے بیدار ہو کر رونے لگتے ہیں۔ بستر پر اِدھر اُدھر جگہ بدلتے ہیں۔
ان کی نیند پرسکون نہیں ہوتی، بلکہ وہ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں اور بے آرام دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ تر اچانک صدمہ، ڈر و خوف پر مبنی واقعات پیش آنے یا نیند سے قبل ڈراؤنی کہانیاں سننے، بار بار حوصلہ شکنی، والدین سے جدائی یا مارپیٹ وغیرہ کے سبب بچہ رات کو سوتے میں ڈرتا ہے۔ ایسے بچے کو حوصلہ دینے اور یقین دہانی کروانے کے علاوہ اسے اپنی ذات پر اعتماد بحال کرنے میں مدد دینا چاہیے۔ اگر ماں بچے کو اپنے ساتھ سلائے تو بہتر ہے۔ اس کے ذہن سے ڈر اور خوف کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
اور رات کو سونے سے پہلے اچھی باتیں بتائیں۔۔ ڈراؤنی کہانی سنانے یا بچوں کو ایسی کہانی پڑھنے سے روک دیں۔۔ بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارے۔۔ بچے کو جنوں، بھوتوں کی کہانیاں سنائیں گے یا کسی اور چیز سے ڈرائیں گے تو لامحالہ طورپر آپ اس کی ایک بزدل شخصیت بنا رہے ہیں۔ اس لیے بہت ضرورت ہے کہ آپ اسے بہادر لوگوں کی باتیں سنا کے ایک مضبوط انسان بنائیں
حسد
اکثر والدین کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کے بچوں میں جیلسی والی فیلنگز بہت زیادہ ہیں۔۔
دوسرے بہن بھائیوں اور خاندان میں موجود بچوں سے حسد کا پیدا ہونا ایک عام نفسیاتی مسئلہ ہے۔ خصوصاً بڑے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کے ساتھ پیار و محبت اور توجہ میں اضافہ کریں۔ دوسرے لوگوں کے سامنے سزا دینے سے گریز کریں۔ انھیں ان کی اہمیت کا احساس دلائیں اور ان کے حسد کے جذبے کو مسابقت و مقابلے کی صحت مند فضا میں بدلنے کی کوشش کریں۔ اور اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ نہ کریں۔ ان کے کئے گئے کام کو سراہے اور ان کو اور زیادہ پیار سے motivate کریں کہ وہ اس سے بھی اچھا کر سکتا ہے
احساس کمتری اور احساسِ عدم تحفظ

آپ کے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے اگر آپ ہر اچھے کام پر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔۔۔ شاباش اور انعام دیں۔ بچے پر اعتماد کریں اور ہر وقت کے پہرے نہ لگائیں بچے غلطیاں کریں گے تو سیکھیں گے۔ غلطیاں کرنے پر اگر آپ چیخیں، چلائیں گے تو بچہ خود کو اکیلا اور بھکرا ہوا محسوس کرے گا۔ جن باتوں کی بچوں کو تعلیم دیں ان پہ خود بھی عمل کریں
ذہنی صدموں، والدین کی جانب سے عدم توجہ، بچوں کے ساتھ سلوک میں تفریق، بار بار غصہ یا تنقید کرنے کے سبب بچوں میں احساس کمتری اور احساسِ عدم تحفظ جنم لیتا ہے، ان کا اپنی ذات پر اعتماد ہی ختم ہوجاتا ہے۔ جس کا اظہار وہ مختلف صورتوں میں کرتے ہیں۔
بچے کی زبان میں لکنت آسکتی ہے، وہ دوسروں سے الگ تھلک رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اجنبی لوگوں کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہے، کسی نئے کام میں ہاتھ ڈالنے سے اجتناب کرتا ہے۔ اس کی یادداشت کمزور ہوجاتی ہے۔ والدین سمجھ داری سے اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ بچوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھیں اور انھیں انفرادی توجہ دیتے رہیں۔ لڑکا، لڑکی میں تفریق کرنے سے آپ ان میں مطلب بہن بھائیوں میں فاصلہ پیدا کریں گے اور بچیوں کو احساس کمتری میں مبتلا کریں گے اور بچے بھی احساسِ برتری میں مبتلا ہوکے اپنی من مانیاں کریں گے۔ ان کی جائز خواہشات کو پورا کریں، ان میں خود اعتمادی کو ابھاریں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔
غصہ
کچھ بچوں میں سماجی یا جذباتی محرومیوں کا ردّعمل غصے کی شکل میں اُجاگر ہوتا ہے اور وہ معمولی معمولی بات پر شدید غصے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے بچوں کو مارتے ہیں۔ برتن توڑتے ہیں یا کھانا کھانے سے انکار کردیتے ہیں۔ چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے ہیں یا کتابوں کو پھاڑ دیتے ہیں۔ اس کے جواب میں والدین کو سختی نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے پیار و محبت سے پیش آئیں، اور ان کی محرمیوں کو کم کرکے راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں۔
جھوٹ بولنا
بچے کو جھوٹ سے دور رکھنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جھوٹ سے پرہیز کریں۔ اس کے سامنے ایک باعمل اور سچے انسان کے روپ میں آئیں۔ اسے سچ بولنے پر تعریف و انعام سے نوازیں اور جھوٹ بولنے پر سزا دیں۔ اس پر سچ کی اہمیت مذہب اور معاشرے کے نقطۂ نظر سے واضح کریں اور اخلاقیات کا درس دیتے رہیں۔
جرائم
چوری کے علاوہ دوسرے جرائم بھی مختلف معاشرتی یا گھریلو عوامل کی بدولت پیدا ہوتے ہیں، اور بعض اوقات تشویش ناک صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ جیسے دوسرے بچوں سے زبردستی چیزیں چھیننا، ساتھیوں کو مارنا پیٹنا، کھیل کے میدان میں شکست تسلیم کرنے سے انکار، جنسی جرائم وغیرہ وغیرہ۔ یہ صورت حال انتہائی سنگین ہوتی ہے۔ بچے کی محرومیوں کا خیال رکھیں۔ اسے پیار و محبت اور بھرپور توجہ دیں۔ مذہبی تعلیم کی طرف راغب کریں۔ اخلاقیات کا درس دیں۔ انسانی حقوق کا احترام کرنا سکھائیں۔
مٹی کھانا
عدم توجہ، نگرانی میں کمی یا خوراک وقت پر نہ ملنے کے سبب بچے مٹی کھانے کے عادی ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر جب گھر میں صفائی کا بھی فقدان ہو اور بچے کو وافر مقدار میں مٹی دستیاب ہو، مٹی کے علاوہ بچہ ملتی جلتی چیزیں جیسے ربر وغیرہ بھی کھالیتا ہے۔ مٹی کھانے کے سبب پیٹ میں کیڑے ہوسکتے ہیں یا آنتوں کی تکلیف واقع ہوسکتی ہے۔ بچے کی نگرانی سخت کردیں۔ غذا فوری طور پر دیں۔ گھر میں سے مٹی کے تمام ذرائع ختم کردیں۔
انگوٹھا چوسنا
یہ ایک عام عادت ہے اور ایسے بچے زیادہ تر عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو توجہ، پیار و محبت میں اضافہ، حوصلہ افزائی اور تعریف و تحسین کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے
بچوں کا سوتے میں بستر گیلا کرنا

لاکھوں بچے نہ چاہتے ہوئے بھی رات کو نیند میں بستر گیلا کردیتے ہیں، جو بچوں کے والدین کے لیے نہایت تناؤ اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ چند بچوں کے لیے بستر گیلا کرنا باعث شرمندگی اور مایوسی کا سبب بن سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ رشتے داروں کے گھر ٹھہرنے کے خیال سے خائف ہوتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف چند ایسے بھی بچے ہیں جن کو بستر گیلا کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا. سب سے پہلے یہ واضح کرتے چلیں کہ ایلیمنٹری اسکول جانے والے بچوں میں بستر گیلا کرنا عام بات ہے۔ لیکن اگر بچوں کو بہت ہی کم عمری میں رات کو بستر خشک رکھنے کے حوالے سے تربیت دینے کی کوشش کی جائے تو ان میں مایوسی، شرمساری اور اینگزائٹی پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹرز کے اندازے کے مطابق 20 فیصد بچے اس عمر میں بھی روزانہ بستر گیلا کردیتے ہیں، ایلیمنٹری اسکول کے 7 فیصد بچے کم از کم ہفتے میں ایک بار بستر گیلا کرتے ہیں، جبکہ 100 میں سے ایک ٹین ایجر بھی بستر گیلا کر سکتا ہے۔
اپنے بچوں کو سمجھائیے کہ وہ اکیلے نہیں جو بستر گیلا کرنے کی پریشانی کا سامنا کررہے ہیں، بلکہ ایسے بہت سے دیگر بچے بھی ہیں، اس طرح بچے میں پریشانی اور خوف میں کمی واقع ہوگی۔ زیادہ تر بچوں میں وقت کے ساتھ بستر گیلا کرنے کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
عادت کو چھڑوانے کے لیے عام طور پر یہ مشورے دیے جاتے ہیں کہ بچوں کو رات سونے سے پہلے بچے کو مائع غذائیں (پانی وغیرہ) دی جائیں، یا پھر بچوں کو سونے سے قبل زبردستی واش روم لے جانے کی عادت ڈالی جائے، مگر ان ترکیبوں پر عمل کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا، کیونکہ اصل جڑ پر کام نہیں کیا جاتا۔دراصل دماغ اور مثانے کے درمیان ناپختہ تعلق کے باعث بچہ بستر گیلا کردیتا ہے، یہی تعلق انسانی جسم کو رات کو اٹھنے اور پیشاب کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔اس ناپختہ تعلق میں اکثر مزید الجھاؤ اس وجہ سے بن جاتا ہے کہ بچوں کے مثانے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ رات کے وقت ان کا جسم جو پیشاب تیار کرتا ہے وہ اپنے اندر جمع نہیں کرپاتے چنانچہ رات کو سوتے وقت بستر گیلا ہوجاتا ہے۔
بچوں کا کسی خاص افراد سے دوری اختیار کرنا

بچپن عمر کا ایک خوبصورت دور ہے۔ اس دور کو بے فکری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم بچوں کو بھی کچھ مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ کبھی اسکول میں، کبھی گلے محلے میں تو کبھی کھیل کے میدان میں۔ انہیں ہم عمر ساتھی تنگ کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا پھر تذلیل کی جاتی ہے۔ ان سب منفی روئیوں کو کہتے ہیں اور کچھ بچے مسلسل اس طرح کے برتاؤ کا نشانہ بنتے ہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنے والے بچوں اپنی نوعمری کے دور میں وہم، وسوسوں اور ذہنی انتشار کا سبب بننے والے دیگر مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اگر بچہ کسی خاص فرد سے ڈرتا ہے یا دوری اختیار کرتا ہے تو اپنے بچے کے ساتھ بات چیت کریں اور اس سے وجہ جاننے کی کوشش کریں۔
ماں باپ کسی بھی بچے کی زندگی میں ایک اہم کردار انجام دیتے ہیں اور اس کے سماج سے جڑنے اور اس کی ذاتی نشو و نما میں مدد کرتے ہیں۔ دونوں ماں باپ کا ایک جگہ جمع ہونا ایک بچے کی زندگی میں استحکام لا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے صحت مندانہ نشو و نما کی حوصلہ افزائی ممکن ہے

