For any inquiries, support, or feedback, feel free to reach out to PakHeal. Our team is available to assist you with your healthcare needs.

Let’s Stay In Touch

Shopping cart

    Subtotal  0

    View cartCheckout

    بچیوں کو ماہواری کے لئے کیسے تیار کریں؟ 

    An image of How to Prepare Girls for Menstruation

    Table of Contents

    How to Prepare Girls for Menstruation?

     

    قدرت کے قانون کے مطابق ہر بچی 13 سال کے بعد لڑکی اور 30 سال بعد عورت بن جاتی ہے ،قدرت کے اس قانون کو سمجھنے میں دس سے بارہ سال کی بچیوں کو بہت سے ذہنی مسائل کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

    ہمارے ملک میں اس موضوع پر بات کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔معاشرہ مذہب اور سماجی اقدار کا سہارا لے کر عورتوں کی جنسیت کو ایک ایسا موضوع بنا کر پیش کرتا ہے جس پر گفتگو کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں لڑکیوں کے لیے ماہواری سے متعلق معلومات کے حصول کا بنیادی ذریعہ والدہ یا بڑی بہنیں ہوتی ہیں۔اکثر پیریڈز کی یہ معلومات بھی لڑکیوں کو اس وقت دی جاتی ہے جب انھیں پہلی مرتبہ ماہواری ہو چکی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سی لڑکیاں اپنی ماہواری کا آغاز بے خبری اور بغیر تیاری کے کرتی ہیں۔لڑکیاں ذہنی طور پر ماہواری کے تجربے کے لیے تیار نہیں ہوتیں کیونکہ انھیں بتایا ہی نہیں جاتا کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے۔

    اسلئے ضروری ہے کہ مائیں بچیوں کو زندگی کے اس مرحلے یعنی ماہواری یا حیض کے لیے پہلے سے تیار کریں ۔

    معاشرتی رویے کے باعث یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواتین کی ماہواری صحت ایک ایسا معاملہ ہے جسے بہت ڈھکا چھپا ہونا چاہیے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے نئی نسل جنم پاتی ہے۔

    اس وقت ہمارے یہاں کچھ جگوں پے صورتحال کچھ یہ ہے کہ جیسے ہی لڑکی کو پیریڈز شروع ہوتے ہیں تو انھیں گھر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ان کو باہر جانے اور کھیلنے سے بھی منع کر دیا جاتا ہے۔ توہم پرستی کی وجہ سے ٹھنڈی اور کھٹی چیزیں کھانے سے روک دیا جاتا ہے۔ کئی گھرانوں میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ماہواری کے دوران لڑکی کنگھی بھی نہ کرے۔ تو اس طرح کی غلط باتوں کو سن کر بچیاں پریشان ہو جاتی ہیں لہذا ماؤں کو چاہیے کہ اپنی بچیوں کو صحیح انداز میں گائیڈ کریں۔۔

     

    آپ اپنی بیٹی کی مدد کرنے کیلئے کیا کر سکتی ھیں؟

    An image of talking openly with your daughters

     

    اپنی بچیوں سے کھل کر بات کریں

    اپنی بیٹی کو بغیر کسی ڈر اور فیصلے کے کھل کر بات کرنے کو کہیں۔ اگر آپکی بیٹی کے دوست اور انٹرنیٹ اسکے لئے تعلیم کا واحد زریعہ ھوں تو ممکن ھے کہ وہ غلط مشورہ حاصل کر لے۔ آپ بات چیت کا آغاز اس سوال کے ساتھ کر سکتے ھیں کہ وہ بلوغت یعنی میچورٹی کے بارے میں کیا جانتی ھے۔ آپ اسکو وہ تمام معلومات دیں جنکی آپکے مطابق اسکو اس عمر میں ضرورت ھو۔

    اگر آپکی بیٹی بلوغت کے نزدیک ھو اور اس نے اس موضوع پر آپ سے بات نہ کی ھو تو یہ آپکی ذمہ داری ھے کہ آپ بات چیت کا آغاز کریں۔ ممکن ھے کہ آپ کو اسے پیریڈز کے بنیادی حفظان صحت، جنسی پختگی اور نوعمری میں حمل سے متعلق بات کرنی پڑے اور اس کو سمجھانا پڑے۔۔ اگر کسی  بچی کے والد جو کہ اکیلے ھوں اور اس موضوع کے بارے میں بات کرنے میں ھچکچاھٹ محسوس کریں تو کسی خاتون دوست یا رشتہ دار کو بیٹی سے بات کرنے کو کہیں۔ 

    بچیوں کو ماہواری کے لئے تیار کرنے کے لئے مفید مشورے

    ۔ بچیوں کے سینے میں ابھار آنا اور حساس جگہوں پربال آنا اس بات کی علامت ہے کہ انھیں ماہواری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے ہمارے ملک کی آب و ہوا میں بچیوں کو دس سے تیرہ سال کی عمر میں ماہواری شروع ہوتی ہے لہذا اس عرصے کے دوران بچیوں کے جسمانی خدوخال پر ضرور نظر رکھیں ۔

    -ماؤں کو اپنی فیملی ہسٹری پر بھی مد نظر رکھنی چاہئے ،جن خاندانوں میں بچیاں دس سال کی عمر میں ہی جوان ہو جاتی ہیں ان ماؤں کو دس سال سے قبل ہی اپنی بچیوں کی خوراک اور اٹھنے بیٹھنے کی عادات پر نظر رکھنی چاہئے۔

    An image of self-awareness for the period time

    پیریڈز کو لیکر کئی ایسی باتیں ہیں جو بچیوں کے سمجھ میں نہ آئیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی بیٹی آپ کے سمجھانے پر کئی طرح کے سوال پوچھے جسے سن کر آپ کو الجھن محسوس ہو لیکن غصہ ہونے کے بجائے اسے تبدیلی کے بارے میں پیار سے سمجھائیں

    -بچیوں کو سینیٹری پیڈ سے متعلق معلومات دیتے وقت اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتا دیں ۔ 

    جن بچیوں کو چھوٹی عمر میں ماہواری آئے تو ان ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ ہر 4 گھنٹے بعد انھیں پیڈ کی تبدیلی کا یاد دلائیں ۔ساتھ میں پیڈ کی تبدیلی کے بعد اسے ضائع کرنے کا طریقہ بھی سمجھانا بہت ضروری ہے کیوں کہ کچھ بچیاں اسکول کے واش روم میں پیڈ فلش ان کرنے کی کوشش کرتی ہیں لہذا انھیں یہ بتا دیں کہ ایک نا پاکی ہے اس لئے اسے شوپر میں ڈال کر واش روم کے ڈسٹ بن میں ہی ضائع کریں 

    -اپنی بچیوں کو ماہواری کے دوران جسمانی صفائی اور ارد گرد کے ماحول کی صفائی کے اصول بھی سکھائیں ،انھیں یہ سمجھائیں کہ خود کو اور ماحول کو صاف رکھنا صرف ان کی ذمہ داری ہے کسی اور کی نہیں ۔

    -کچھ گھرانوں میں ماہواری کے دوران بچیوں کو غسل کرنے روکا جاتا ہے جس سے بچیاں کئی مسائل ( خارش ،انفیکشن ) میں مبتلا ہو جاتی ہیں اس لئے بچیوں کو ذ ہنی طور پر تیار کریں کہ ماہواری کے دوران ایک دن بعد گرم پانی سے ضرور غسل کریں ، زیر ناف صابن کیمیکل یا لیکوئڈ سوپ کا استعمال نہیں کریں ۔

    -بچیوں کو ماہواری کی بنیاد ی معلومات اس طرح فراہم کریں کہ ہر لڑکی کی ماہواری کا چکر 28 سے 30 دن پر محیط ہوتا ہے۔

    لہذا جس دن ماہواری آئے اس دن وہ اپنے کیلینڈر پر نشان لگا لے تاکہ آئندہ آنے والے مہینے کے ماہواری کے لئے وہ ذہنی طور پر تیار ہو ۔ ساتھ ہی انھیں یہ بھی بتا دیں کہ ہر مہینہ کی صرف ایک ہی تاریخ ماہواری کے لئے نہیں ۔لہذزا ماہواری جلدی یا دیر سے آنے میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔ اس طرح آپ اپنے سامنے اپنی بچی سے عملی طور پر کیلینڈر پر ماہواری کی اگلی تاریخ ٹریک کرائیں ۔

    ماہواری کے دوران اچھی خوارک اور جسمانی سکون کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اپنی بچیوں کو ابتدائی دنوں سے ہی اچھی خوارک جیسے دودھ گوشت ہری سبزیاں اور فولک ایسڈ والی خوراک دینا شروع کر دیں ۔ تاکہ وہ ایک صحت مند ماں بن کر صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں

    Medical help طبی مدد کب ڈھونڈنی ھے؟

    An image of when to seek medical help

    اپنی بیٹی کے ڈاکٹر سے ملاقات کے اوقات مقرر کریں

    -15 سال کی عمر تک ماھواری کا آغاز نہ ھوا ھو

    -اگر اسکے ماھواری کے ایام سات دن سے زیادہ رھیں

    -ماہواری کا درد بہت زیادہ ہو اور میڈیسن سے بھی ٹھیک نہ ہو

    -معمول کے مطابق زیادہ پیڈ گیلے کر رھی ھو

    درد آور اور شدید ماھواری کی وجہ سے سکول یا دوسری سرگرمیاں چھوڑ رھی ھو

    پیریڈز سے ہر لڑکی کو گزرنا ہی پڑتا ہے۔ کافی طویل وقت سے لوگ اس پر بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور اسے شرمندگی کا موضوع مانا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو جب پہلی مرتبہ پیریڈز آتے ہے تو جانکاری کی کمی کی وجہ سے وہ کافی گھبرا جاتی ہیں۔

    اس حالت میں ایک ماں کی ذمہ داری ہے کہ بڑی ہوتی بیٹی کو اس کے جسم میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ کرے اسے سمجھائیں تا کہ عین وقت پر آپ کی بیٹی کو کوئی گھبراہٹ نہ ہو

     

    Leave a Comment

    Your email address will not be published. Required fields are marked *