Table of Contents
Birth of a boy or girl? Who is responsible for determining the baby’s gender—the man or the woman?

زمانہ قدیم سے ہی یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کی ذمہ دار عورت ہے اور بعض لوگ تو بیٹا نہ پیدا ہونے کے الزام میں عورت کو طلاق کا حق دار بھی سمجھتے ہیں یا کم از کم دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق اس عام پائے جانے والے خیال کے بالکل برعکس ہیں اور ان تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ بچے کی جنس طے کرنے میں عورت کا کوئی کردار نہیں بلکہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار مکمل طور پر مرد کے جینز پر ہے۔
اس سے پہلے بہت تحقیقات ثابت کرچکی ہیں کہ جنسی ملاپ میں عورت کی طرف سے XX کروموسوم دیئے جاتے ہیں جبکہ مرد کی طرف سے XY کروموسوم دئیے جاتے ہیں۔ مرد کا Y کروموسم بیٹے اور X کروموسوم بیٹی کی پیدائش کی وجہ بنتا ہے۔ یہ بات مکمل طور پر واضح ہوچکی ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار صرف مرد کے جینز پر ہے اور اس میں خاتون کے جینز کا کوئی کردار نہیں
تحقیق کے مطابق مردوں کے ہاں زیادہ بیٹوں یا بیٹیوں کی پیدائش کا موروثی طور پر منتقل ہونے والے جینز سے تعلق ہے۔ تحقیق کے مطابق مردوں میں موروثی طور پر یہ صلاحیت منتقل ہوتی ہے جب کہ
عورت کے بھائیوں یا بہنوں کی تعداد اس کی اولاد کی جنس پر اثر انداز نہیں ہوتی
غلط فہمیاں اور حقائ
Misconceptions and Facts responsible for the Baby's Gender
غذا، دوائیں یا دعاؤں سے جنس کا بدلنا ممکن نہیں۔
عورت کو مورد الزام ٹھہرانا سراسر سائنسی جہالت ہے۔

میڈیکل طریقے
Medical Methods

IVF + PGD (Preimplantation Genetic Diagnosis): اس طریقے میں ایمبریوز کا جینیاتی ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور پھر جنس کا انتخاب ممکن ہوتا ہے۔
یہ صرف چند ممالک میں اور خاص طور پر جینیاتی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا ہے، عام جنس منتخب کرنے کے لیے نہیں۔

