For any inquiries, support, or feedback, feel free to reach out to PakHeal. Our team is available to assist you with your healthcare needs.

Let’s Stay In Touch

Shopping cart

    Subtotal  0

    View cartCheckout

    نوزائیدہ بچوں میں یرقان کیوں ہوتا ہے

    An image of jaundice occurring in newborn babies?

    Why does jaundice occur in newborn babies?

    Table of Contents

    حمل کے دوران بچے کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور پریگنینسی کے دوران یہ ضرورت خون کے سرخ خلیے پوری کرتے ہیں اس لیے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کچھ بچوں میں سرخ خون کے خلیے اْنکی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بچے جب پیدا ہو جاتے ہیں، تو اْنہیں جسم میں آکسیجن ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے اتنے زیادہ سرخ خون کے خلیوں کی ضرورت نہیں رہتی جتنی اْنہیں حمل کے دوران بچہ دانی میں ہوتی ہے۔ جب یہ زائد سرخ خون کے خلیے ٹوٹتے ہیں تو یہ بیلیروبن(bilirubin) کو آزاد کر دیتے ہیں. بیلیروبن ایک رنگدار مادہ ہے جو سرخ خون کے خلیوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور جیسے ہی یہ خلیے اپنی ٹوٹتے ہیں یہ مادہ قدرتی طور پر آزاد ہو جاتا ہےجو گردوں میں جاکر جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ چونکہ نوزائیدہ بچوں کے گردے پوری طرح سے ایکٹو نہیں ہوئے ہوتے اس لیے یہ بیلیروبین والا مادہ فلٹر نہیں کر پاتے جس کے باعث یہ مادہ بچے کی جلد میں جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے جو پیلیا یعنی یرقان کہلاتا ہے۔جیسے ہی گردے سہی طرح کام کرنا شروع کردیتے ہیں پیلیا ختم ہوجا تا ہے۔

    An image of jaundice occurring in newborn babies

    اس کے علاوہ یرقان کی طبیعیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں مثلاً بچوں کے جگر کا مکمل نشونما تک نہ پہنچنا, 9 ماہ پورے ہونے سے پہلے بچے کی پیدائش ہونا، بلڈ گروپ کے مسائل یعنی ماں اور بچے کا بلڈ گروپ کا مختلف ہونا، یا پھر ہیپاٹائٹس بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر نوزائیدہ بچوں میں یرقان نارمل ہوتا ہے جو 2 سے 3 ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے

    نوزائیدہ بچوں میں یرقان ہونے کی کیا علامات ہو سکتی ہیں

     

    بچوں میں یرقان کا پتا لگانا بے حد آسان ہے۔ اس کے علامات بڑی جلدی ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ آپ بچے کے سینے پر ہلکا سا دباؤ ڈالیں۔ اگر ہاتھ ہٹانے پر اس جگہ پہ ہلکی سی زرد رنگت نظر آتی ہے تو اپنے معالج سے رابطہ کریں اس کے علاوہ ناک یا پیشانی پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالیں۔ اگر جلد سفید ہوجائےتو یرقان نہیں ہے۔ اگر جلد میں پیلاہٹ دکھائی دے تو فوراً اپنے بچے کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اس کے علاوہ یرقان میں بچے کے ہاتھ، پاؤں اور مسہوڑے بھی پیلے ہونے لگ جاتے ہیں آنکھوں کی سفیدی بھی پیلی پڑسکتی ہے۔پیلاہٹ سب سے پہلے چہرے پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر سینا، پیٹ اور سب سے آخر میں پاؤں پیلے ہونے لگتے ہیں۔

    نوزائیدہ کے پیلیا/ یرقان زیادہ تر بغیر کسی علاج کے  1 سے 2  ہفتہ کے اندر خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے، اس لیے والدین کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اکثر بچوں میں یرقان ایک سے دو ہفتے میں ٹھیک تو ہو جاتا ہے پر بچے کا ڈاکٹر اس بات کافیصلہ کرتا ہے کہ بچہ خود بخود صحت یاب ہو جاۓ گا یا اسے علاج شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    An image of jaundice symptoms occurring in newborn babies

    -اگر یرقان معمولی نوعیت کا ہو تو یرقان سے متاثرہ بچوں کو زیادہ دودھ پلانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس طرح جسم سے بلیو ریبن مادہ خارج کرنے میں مدد ملتی ہے اور پرقان بھی ٹھیک ہو جاتا ہے

    آپ نے کچھ لوگوں سے سُنا ہوگا کہ وہ یرقان کو ماں کی چھاتی سے حاصل ہونے والی خوراک یا دودھ سے منسوب کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ یرقان ماں کے دودھ سے منسوب کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ نارمل ہے اور اس سے بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

    فارمولا دودھ بھی دیا جا سکتا ہےاگر بچوں کو ماں کا دودھ پینے میں مشکل ہو اور ان کا وزن گرنے لگے یا جسم میں پانی کی کمی ہونے لگے تو ڈاکٹر ڈبے کا دودھ لکھ کر دے دیتے ہیں۔ ماں کے دودھ کے ساتھ فورمولا دودھ بھی دیا جاتا ہے اور کبھی کچھ دنوں کے لیے ماں کا دودھ بند کرکے فورمولا دودھ کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ غرض دودھ کے بارے میں اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔

    An image of Sunlight checking the jaundice

    سورج کی روشنی

    بچے کو دھوپ کی روشنی میں پندرہ منٹ کے لیے لے کر بیٹھ جائیں۔ صبح کی روشنی بچے کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہے۔ یہ عمل دن میں تین سے چار بار روزانہ کریں جب تک کہ یرقان ٹھیک نہ ہو جائے۔ سورج کی روشنی سے بیلیروبن گھل جاتا ہے اور بچے کے جسم سے آسانی سے خارج ہو جاتا ہے۔

    کب بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں

    An image of jaundice occurring in newborn babies?

    یرقان تیزی سے بڑھ رہا ہو (جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کا پیلا ہونا)

    -آپکے بچے کو بخار ہے

    -آپ کا بچہ بہت زیادہ سُست یا ڈھیلا نظر آ رہا ہےآپ

    ۔دودھ پینے کی خواہش کم ہونا

    -جسم میں پانی کی کمی ہونا

    -یا بچہ ایکٹو نہ ہو دودھ پینے کے لیے بھی نہ جاگے

    -اگر 2 سے 3 ہفتے بعد آپ کے بچے کا پیلیا ٹھیک نہیں ہوتا ہے یا بچے کے پاخانے کا رنگ خلاف معمول بدل جاتا ہے تو یہ بھی کسی بیماری کی وجہ سے ہوسکتا ہے 

    اگر آپ کے بچے میں یہ علامات ہوں تو اسکو فورا ڈاکٹر کے پاس کے جائیں

    اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے میں یرقان 3 سے5 دن بعد ظاہر ہو اس لیے اگر آپ کو یہ کہا جاتا ہے کہ ڈسچارج ہونے کے بعد دوبارہ ہسپتال آئیں تاکہ بچے کے بیلیروبن یا یرقان کا لیول دوبارہ چیک کیا جا سکے، تو بے حد احتیاط سے ہدایات پر عمل کریں اور لازمی بچے کو ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔

    یرقان سے بچاؤ کیسے کریں

    پیدائش کے بعد پہلے گھنٹوں اور ابتدائی دنوں میں بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد دودھ پلانا، خصوصاً ماں کا دودھ پلانا، سنجیدہ نوعیت کے یرقان کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ دودھ پینے کے بعد آپ کا بچہ زیادہ پاخانہ کرے گا، اور یہ دودھ بچے کے جگر کو اتنی توانائی دے گا کہ جسم میں بیلیروبن کو خارج کرنے میں مدد ملتی ھے

     

    Leave a Comment

    Your email address will not be published. Required fields are marked *