Table of Contents
bleeding during pregnancy and its effects on pregnancy
حمل کے پہلے تین مہینے یا حمل کے پہلے ٹرائمسٹر میں آپ کے جسم میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں جس کی کافی وجوہات ہو سکتی ہیں۔اگرچہ حمل کے شروع میں آپ کے اندر بیرونی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آتی لیکن تب بھی آپ کے جسم کے اندر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے۔ حمل کے پہلے تین مہینوں میں تھوڑا بہت خون بہنا عام بات ہو سکتی ہے۔ایک مطالعے کے مطابق 30 فیصد خواتین کو پہلے تین ماہ میں داغ یا ہلکا خون بہنے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ ابتدائی حمل کا ایک بہت عام سا حصہ ہو سکتا ہے۔ بہت سی خواتین کو خون بہنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اس کے باوجود صحت مند حمل مکمل کرتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ڈاکٹر سے ایک دفعہ چیک اپ لازمی ہے
لیکن پریگنینسی کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی یعنی (9 ماہ کے حمل کے آخری 6 ماہ) کے دوران ویجاینہ سے خون بہنا حمل کے پہلے تین مہینوں میں خون بہنے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔ دوسرے اور تیسرے سہ ماہی کے دوران خون بہنا غیر معمولی بات ہے۔

"خون بہنے کی وجوہات" Causes of bleeding
پریگنینسی کے دوران خون بہنے کی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آپ کو دھبے یا خون بہنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ آئیے کچھ عام وجوہات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
حمل کے پہلے سہ ماہی یا 3 ماہ کے دوران خون بہنے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟
حمل کے پہلے سہ ماہی میں خون بہنے کا مسئلہ بہت سے مختلف عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

امپلانٹیشن بلیڈنگ
حمل کے شروع ہونے سے پہلے ماہواری کی تاریخ کے دنوں میں ہی معمول سے کم فلو کے ساتھ خون کا داغ لگتا ہے ۔ اس دوران یوٹرس کی دیوار میں ایمبریو کی ایمپلانٹیشن ہوتی ہے، جسے امپلانٹیشن بلیڈنگ کہتے ہیں۔
اسقاط حمل
اگر آپ کو خون کا داغ لگ رہا ہو اور درد ہو رہا ہو تو ابارشن کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب آپ کو انفیکشن ہو، جیسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن، یا پانی کی کمی ہو،یا پھر کچھ دوائیوں کا ری ایکشن بھی ہوسکتا ہے ۔
ان وجوہات کے علاوہ، مزید وجوہات میں بھاری وزن اٹھانا، جنسی تعلق قائم کرنا ، یا جذباتی تناؤ شامل ہوسکتا ہے۔
ملاپ کے بعد خون بہنا
جنسی ملاپ کے بعد اندام نہانی سے بعض اوقات خون بہتا ہے۔ حمل کے دوران یہ نارمل ہو سکتا ہے
ایکٹوپک حمل
آپ کو ایکٹوپک حمل ہوسکتا ہے (جسے ٹیوبل حمل بھی کہا جاتا ہے)۔ یہ آپ کی میڈیکل ہسٹری یا الٹراساؤنڈ اور بعض صورتوں میں خون کے ٹیسٹ سے ہی پتہ چل سکتا ہے ۔ ۔ ایکٹوپک حمل اس وقت ہوتا ہے جب فرٹیلائزڈ انڈا بچہ دانی کے باہر چپک جاتا ہے، اکثر یہ فیلوپین ٹیوب میں چلا جاتا ہے۔ جیسے فرٹیلائزڈ انڈا بڑھتا ہے، یہ فیلوپین ٹیوب کو پھاڑ سکتا ہے اور جان لیوا خون بہنے کا سبب بن سکتا ہے۔ علامات میں درد، خون بہنا، یا ہلکا سر درد شامل ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر ایکٹوپک حمل، حمل کے دسویں ہفتے سے پہلے درد کا باعث بنتے ہیں۔
حمل کے آخری 6 ماہ کے دوران خون بہنے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

حمل کے دوران خون بہنے کی سب سے عام وجہ نال یا بچے کی آنول کا مسئلہ ہوتا ہے۔ کچھ خون بہنا سروکس کا منہ یعنی بچہ دانی کا منہ جلدی کھلنے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
آنول کا نیچے کی طرف ہونا یا پلاسینٹا پریویا
بچے کی نال، جو کہ ایک ایسا ڈھانچہ ہوتا ہے جو بچے کو ماں کے یوٹرس کی دیوار سے جوڑتا ہے۔ لیکن پلاسینٹا پریویا میں یہ بچے دانی کے منہ کو تھوڑا یا مکمل طور پر کور کر لیتا ہے۔ اس نالی کے نیچے ہونے کی وجہ سے جب خون آتا ہے تو اسے پلاسینٹا پریویا کہتے ہیں۔ اس کنڈیشن میں حمل کے آخر میں نال کی کچھ خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور پھٹ جاتی ہیں۔ اس دوران خون کا بہاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک ایمرجنسی حالت ہوتی ہے ایسی حالت میں فورا ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے
نال یا آنول کی خرابی
یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب ایک عام نال یوٹرس کی دیوار (بچہ دانی) سے وقت سے پہلے الگ ہو جاتی ہے اور خون نال اور بچہ دانی کے درمیان جمع ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی علیحدگی کا کیس تمام حمل میں سے 200 میں سے 1 میں ہوتا ہے۔ ۔ نال کی خرابی کے خطرے میں یہ وجوہات شامل ہوتی ہیں:
-ہائ بلڈ پریشر (140/90 یا اس سے زیادہ)
-صدمہ
-کوکین کا استعمال
-تمباکو کا استعمال

بچہ دانی کا پھٹ جانا
بچہ دانی جب غیر معمولی طور پر کھل جاتی ہے ، تو اس کی وجہ سے بچہ تھوڑا یا مکمل طور پر پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ ویسے تو بچہ دانی کا پھٹنا بہت ہی کم ہوتا ہے، لیکن ماں اور بچے دونوں کے لیے بہت خطرناک ہوتا ہے۔ تقریباً 40% خواتین جن کی بچہ دانی پھٹ جاتی ہے وجوہات میں ان کی بچہ دانی کی پہلے سرجری ہوتی ہے یعنی سیزرین ڈیلیوری۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کی ڈلیوری سی سیکشن سے ہوئ ہے تو کم از کم ڈھائی سال کا وقفہ کریں۔ کیونکہ ایک دفعہ سی سیکشن ہو کے ٹانکے لگے ہوتے ہیں تو اگر وقفہ کم ہو تو پریگنینسی کے دوران جب یوٹرس بچے کے سائز کے حساب سے پھیلتی ہے تو بچہ دانی کے پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے
اس کے علاؤہ اگر آپ کی ڈاکٹر نے آپ کی ڈلیوری نارمل نہیں بتائی تو کسی بھی قسم کا ٹرائل ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہ کریں خاص طور پر یہ جو دائیوں والا ٹرینڈ ہے۔ یہ نارمل ڈیلیوری کے لیے درد لگانے کی دوائیاں لگا دیتی ہیں اور جب بچے کی پوزیشن ہی نارمل والی نہیں تو بچہ کیسے ڈلیور ہو گا لیکن یہ دوائیوں کی ڈوز بڑھاتی رہتی ہیں کہ زیادہ دردیں لگے اور کسی طرح بچہ ڈلیور ہو جاۓ لیکن ضرورت سے زیادہ دوائیوں کی وجہ سے لیبر پین زیادہ ہوتی کیونکہ بچے کی پوزیشن نارمل والی نہیں ہوتی تو بچہ ڈلیور نہیں ہوتا اور سارا زور ماں کی بچہ دانی پر پڑتا ہے اس طرح سے بھی یوٹرس یعنی بچہ دانی پھٹ سکتی ہے
حمل کے دوران کسی بھی قسم کی غیر معمولی علامات کی صورت میں وجوہات جاننے کے لئے اور اپنی اور بچے کی صحت کے لیے فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں

