غذائیں کھائیں ذہنی صلاحیت بڑھائیں
ہماری زندگی کے مصروف ترین معمولات ہمارے دماغ کو الجھا کر رکھ دیتے ہیں اور ہم ذہنی طور پر تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔بہت سے کام، گھر اور باہر کی بہت سی ذمہ داریاں، اہل خانہ کی ضروریات کو یاد رکھنا اور انہیں پورا کرنا، اس کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فونز میں سوشل میڈیا کا استعمال اور ان کے ذریعے دوستوں سے جڑے رہنا، یہ سب ہمارے دماغ پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے جس سے ہمارے دماغ کی کارکردگی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی عمر، طویل عرصے تک یکساں معمولات سر انجام دینا اور ان میں کوئی تبدیلی نہ کرنا بھی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہےتاہم اس صورتحال کو مخصوص ورزشوں اور غذاؤں سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ یہاں آپ کو کچھ ایسی غذائیں بتائی جائیں گی جو آپ کی دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

انسانی جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو لیکن کامیاب زندگی گزارنے کے لیے دماغی طور پر طاقت ور ہونا بھی ضروری ہے ۔ ذہنی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے ایسے غذاؤں کا انتخاب کریں جودماغ کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض سے بھی دماغ کو محفوظ رکھیں ۔
دماغ انسانی جسم کا وہ اہم جُز ہے جس کے بغیر جسم کوئی حرکت نہیں کر سکتا، اگر دماغ صحیح کام کرے گا تو اس کا اثر انسانی جسم کی کارکردگی پر براہ راست ہو گا۔
صحت مند غذا جسم کے تمام اعضاء کے لیے نہایت ضروری ہے، اگر آپ روزمرہ صحت مند خوراک کا استعمال نہیں کریں گے تو اس سے آپ کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر کچھ ایسی چیزیں کھا رہے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کچھ غذائیں ایسی ہیں جو آپکی ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں جن کا استعمال ہمارے لئے اور ہمارے بچوں کے لیے بہت مفید ہے۔۔
اب بات کرتے ہیں ان غذاوں کی جو غذائیں زہنی صلاحیت کو بڑھا دیتی ہیں
اخروٹ
ویسے تو تمام ڈرائی فروٹ ہی انسانی صحت کے لئے بہترین تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں وٹامن ای،گڈ فیٹس اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو انسانی صحت کے لئے بہترین تصور کیے جاتے ہیں ۔لیکن دماغی صحت کو بہترین بنانے کے لئے خاص طور پر اخروٹ کا استعمال بہترین ثابت ہوتا ہے۔ اخروٹ میں ’میلا ٹونین‘ نامی مادہ جو دماغ کو روشن رکھنے کے ساتھ اس کے ذریعے پیغام رسانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اخروٹ جسم میں میلاٹونین کی مقدار کو بڑھاتے ہیں جس کے نتیجے میں پرسکون نیند سے بھی مستفید ہوا جاسکتا ہے۔
یہ واحد پھل ہے جس میں الفا لائنو لینک ایسڈ کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ۔یہ جز دورانِ خون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے دماغ تک آکسیجن کی فراہمی موثر انداز سے ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی ذہنی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔

زیتون کا تیل
زیتون کے تیل کے ان گنت فوائد ہیں۔ زیتون کے تیل میں ایسی چکنائی موجود ہوتی ہے جودماغ کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مکھن کے بجائے زیتون کے تیل کا استعمال طویل مدت کے لیے دماغی صحت کا تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
بیریز
مختلف اقسام کی بیریز جیسے بلو بیریز، بلیک بیریز، اسٹرابیریز میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دماغی صحت کو بہتر بناتی ہیں اور مختلف امور پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
اسٹربری اور بلیوبیریز کا استعمال سلاد کے لئے بھی کیا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ انکا استعمال یاداشت کو بڑھاتا ہے۔اور ان کا استعمال زہنی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کافی
سردیوں میں کافی کا استعمال کافی بڑھ جاتا ہے ۔ کافی میں موجود کیفین ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ کافی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دماغی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ۔ یہ مشروب مایوسی یا ڈپریشن کے خاتمے کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
پالک
سبز پتوں والی سبزی کا استعمال صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ لیکن پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ کی وافر مقدار ہونے کی وجہ سے یہ ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے ۔ ایک تحقیقی ادارے کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان کی دماغی صحت عمر بھر سہی رہتی ہے۔
سبز رنگت والی میں بہت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں کیلشیئم، پوٹاشیئم، فولیٹ، زنک اور مینگنیز شامل ہیں۔ یہ دماغ کو افعال کو بہتر بناتی ہیں
مچھلی
سبز پتوں والی سبزی کا استعمال صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ لیکن پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ کی وافر مقدار ہونے کی وجہ سے یہ ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے ۔ ایک تحقیقی ادارے کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان کی دماغی صحت عمر بھر سہی رہتی ہے۔
سبز رنگت والی میں بہت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں کیلشیئم، پوٹاشیئم، فولیٹ، زنک اور مینگنیز شامل ہیں۔ یہ دماغ کو افعال کو بہتر بناتی ہیں
چاکلیٹ

چاکلیٹ کے بے شمار فوائد میں سے ایک فائدہ دماغی صلاحیت کو بڑھانا بھی ہے۔امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ناشتے میں یا دن کے آغاز میں چاکلیٹ کھانا دماغی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے اور آپ اپنا کام بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔
لیکن بہت زیادہ چاکلیٹ موٹاپے کا سبب بھی بن سکتی ہے لہٰذا اسے صرف صبح کے وقت اور تھوڑی مقدار میں کھایا جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت کھائی جانے والی غذا جسم کے بجائے دماغ کو توانائی پہنچاتی ہیں اور جزو بدن ہو کر موٹاپے کا سبب نہیں بنتی
ان غذاؤں کے علاوہ روزانہ متوازن غذا کا استعمال کریں۔ دودھ، دہی، انڈے، سبزیوں، گوشت اور پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ جنک فوڈ اور باہر کے کھانوں سے پرہیز کریں۔ متوازن غذا جسمانی و ذہنی صحت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔
دماغی صحت کو متاثر کرنے والی غذائیں

ہم روزانہ کی بنیاد پر کچھ ایسی چیزیں کھا رہے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یا اس سے ہماری زہنی صلاحیت کتنی متاثر ہوتی ہے۔۔۔
آئیے ہم آپ کو چند ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں جو دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔
میٹھے مشروبات
کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس جیسے مشروبات جن میں سوڈا وغیرہ شامل ہوتا ہے، اگر آپ ان ڈرنکس کا استعمال معمول بنا لیں گے تو یہ شوگر ، ہائ بلڈ پریشر ، ہائی کولیسٹرول اور ڈائمنشیا یعنی یاداشت کی کمزوری جیسی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔میٹھے مشروبات جس میں ’آرٹیفیشیل سوئٹنر‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، اگر اسے روز مرہ کی غذا میں شامل کر لیا جائے گا تو اس سے انسان کے اندر سیکھنے کی صلاحیت، حافظہ، اور دماغی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس
ایسی چیزیں جس میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، یعنی اناج کو بہت سے مراحل سے گزارنے کے بعد جو چیز سامنے آتی ہیں، جن میں ڈبل روٹی، پاپے، بسکٹس وغیرہ شامل ہوتے ہیں، یہ چیزیں خوراک میں روز شامل کرنے سے جسم میں شکر کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ کاربوہائیڈریٹس جسم میں داخل ہو کر شکر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، ان چیزوں کے روزانہ استعمال سے بھی انسان کا حافظہ اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو بالآخر ڈائمنشیا یعنی یاداشت کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

تلی ہوئی چیزوں کا استعمال
تلی ہوئی چیزیں کھانے میں تو بے حد مزیدار ہوتی ہیں مگر ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ انہیں کھانے سے ہماری صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ تلی ہوئی اشیاء کھانے سے انسان موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے اور جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ موٹاپے کا تعلق براہ راست دماغ سے ہوتا ہے کیونکہ موٹاپے سے انسان سُستی کا شکار ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ دماغ اپنی قدرتی صلاحیت سے محروم ہوتا رہتا ہے۔
گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال
گوشت انسان کی صحت کے لیے فائدہ مند تو ہے مگر اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال انسان کو بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق خوراک میں گوشت کے استعمال کو معمول بنانے سے الزائمر کی بیماری ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس بیماری میں عارضی طور پر انسان کی یاداشت کمزور ہو جاتی ہے۔۔ گوشت میں آئرن وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، اگر ہم روز آئرن کا اضافی استعمال کر یں گے تو اس سے دماغ کی صحت متاثر ہونے کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انسان کا نظام انہضام خوراک سے توانائی حاصل کر کے جسم اور دماغ کو فراہم کرتا ہے لیکن بعض خوراک میں ایسے غزائی اجزا ہوتے ہیں جو دماغ کی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تاہم چند قدرتی طریقوں سے بھی دماغ کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔
روزہ مرہ کی زندگی میں انسان کی خوراک اور ارد گرد کا ماحول ذہنی صلاحیت پر براہ راست اثر کرتا ہے اس لئے ماہرین ذہنی صلاحیت بڑھانے کے لئے غذائیت سے بھرپور اور متوازن خوراک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں

