Table of Contents
قدرت کی ان گنت نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت بچے ہوتے ہیں۔ بچے قدرت کا وہ بیش قیمت اور انمول تحفہ ہیں جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی اور کھلکھلاتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند نازک ہوتے ہیں۔ جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشوونما نہ کی جائے تو وہ مرجھانے لگتے ہیں اسی طرح بچے بھی صحیح نگہداشت اور کل وقتی توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ بچے سب ہی اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے بچے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لیے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں وہیں وہ اپنے بچوں کو گرم موسم کی شدت سے بچانے کے لیے مناسب ملبوسات اور ٹھنڈک پہنچانے والے پاؤڈر اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔
گرمیاں اب آچکی ہیں یعنی اب آپ کے بچوں کی جلد کو پہلے سے زیادہ خیال کی ضرورت ہوگی۔گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بچوں کی جلد کے کئی مسائل بھی ساتھ لے آتا ہے اس لیے ممکن ہے کہ جو نئے والدین بنے ہیں وہ پریشان ہوں کہ بچوں کی جلد کا خیال کس طرح رکھا جائے؟بچوں کی جلد گرمیوں سے زیادہ متاثر نہ ہو اس کے لیے آپ کو روزانہ کی بنیاد پر جلد کی حفاظت سے متعلق مخصوص عمل دہرانا ہوگا۔ درجہ حرارت میں زبردست اضافہ بچوں میں بے چینی اور پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ گرمیوں کے دوران عام طور پر ہیٹ ریش یعنی جلد پر سرخی مائل دانے، ڈائپر ریش، جلد کی خشکی اور گرمی دانوں کی شکایت کی جاتی ہے۔ بچوں کی جلد بہت ہی پتلی اور نازک ہوتی ہے، پسینے سے بند مساموں کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، یا اس سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بچے جلد کے مسائل سے زیادہ پریشان نہ ہوں اس کے لیے آپ ڈاکٹر کی تجویز کردہ مصنوعات کا استعمال کریں اور جلد کی نمی برقرار رکھیں، اسے خشک نہ ہونے دیں اور جلد کی ضروریات کا خاص رکھیں۔
"Bathing to refresh the skin"بچوں کی سکن کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
جلد کو ترو تازہ کرنے کے لیے نہلانا
گرمیوں میں بچوں کو تقریباً روزانہ نہلانا چاہیے۔ اگر بچے کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہلانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ بچے ایسی صورت حال میں بہت گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے اس وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔
بچوں کی جلد سے پسینہ دُور کرنے اور جلد کو صاف رکھنے کا ایک بہترین طریقہ بچوں کو نہلانا ہے۔ گرمیوں کے دوران گرم پانی کے بجائے نیم گرم پانی استعمال کریں۔ بچوں کی جلد ترو تازہ کرنے کے لیے آپ ایسے صابن یا واش لوشن کا انتخاب کرسکتے ہیں جن میں نیم جیسی مختلف جڑی بوٹیوں کا عرق شامل ہو۔ نیم بچے کی جلد کے تحفظ کے لیے کافی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اگر نہانے سے متعلق مصنوعات میں تربوز کا عرق شامل ہو تو اس سے بچے کی جلد کو ٹھنڈا اور ترو تازہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے، پسینے کی حالت میں بھی بچے کو نہ نہلائیں اور نہ ہی نہلانے کے فوری بعد گیلی حالت میں پنکھے کے نیچے بٹھائیں۔ پسینہ کسی نرم کپڑے یا تولیے سے خشک کریں اور پھر بچے کو نہلائیں۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے بچے کو بچائیں اور قدرتی ہوا کا معقول انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں۔

گرمی دانے کی پریشانی
اپنے بچے کو گرمی دانوں سے محفوظ بنانے کے لیے پرکلی ہیٹ پاؤڈر یا کسی بھی اچھی کمپنی کے ٹھنڈے پاؤڈر کا استعمال کریں۔ یہ آپ کے بچوں کی جلد کو آرام میں کافی مدد کرتا ہے۔ اگر پاؤڈر میں نیم اور خس جیسے قدرتی اجزا شامل ہیں تو یہ اور بھی اچھی بات ہے کیونکہ نیم سے گرمی دانوں کی جھنجھلاہٹ ختم ہوتی ہے اور جلد کو آرام پہنچانے میں مدد ملتی ہے، جبکہ خس بچے کی جلد کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کافی مفید تصور کیا جاتا ہے۔
بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے انہیں بچائیں۔ دھوپ میں براہ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں اور اگر انہیں لے کر ہی جانا پڑے تو دھوپ سے بچاؤ کا سامان مثلاً سن سکرین یعنی دھوپ سے نقصان پہنچانے والے لوشن یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر بچوں کو دانے ہوں تو انہیں روزانہ نہلا کر گرمی دانوں کا پاؤڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو انہیں ہوا دار جگہ پر رہنے دیں۔
لوشن کا استعمال
آپ ایلوویرا، نٹ گراس کے تیل اور سرسوں کے تیل جیسے قدرتی اجزا کی خصوصیات کے ساتھ دستیاب لوشن کا استعمال کریں۔ ایلوویرا بچے کی جلد کی خشکی ختم کرنے میں مدد کرتا ہے، نٹ گراس کا تیل باریک دانوں کی شدت کو کم کرتا ہے، جبکہ سرسوں کا تیل خارش اور کھجلی میں کمی لاتا ہے۔
بچوں کو پریشانی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے سے بچائیں
بچے اسی وقت گرمیوں کے موسم کا لطف اٹھاسکتے ہیں جب وہ خود کو پُرسکون محسوس کریں گے۔ خیال رکھیے کہ گرمیوں کے دوران بچوں کو لائٹ کاٹن اور لیلن کے کپڑے پہنائیں- بچے کے لباس کی خریداری میں عموماً مائیں ظاہر کو دیکھ کر ایک نہایت اہم عنصر کو فراموش کر دیتی ہیں اور وہ ہے آرام دہ لباس۔ ماؤں کو آرام دہ لباس اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔
خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے کوئی بھی لباس جو جلد پر رگڑ اور بے آرامی کا باعث بنتا ہو، نہ پہنائیں۔ مصنوعی دھاگوں سے بنے ہوئے لباس جلد میں الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈے سوتی لباس بچے کے بیرونی درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔
ہلکے اور کھلی ہوئی تراش کے لباس نہایت مناسب ہوتے ہیں اور بچے کو گھنٹوں مطمئن اور خوش و خرم رکھتے ہیں۔ بچوں کو ہلکے ہوا دار کپڑے پہنائیں جن سے ہوا آسانی سے گزر سکے اور وہ پسینہ جذب کرتے ہوں۔ گرمیوں میں ہلکے کاٹن کی فراک اور ٹی شرٹ بہتر رہتی ہے۔ جب بھی لباس کا انتخاب کریں تو اس کو یقینی بنائیں کہ ڈوری یا زپ وغیرہ سوتے میں بچے کو تنگ نہ کریں۔
اگر گرمیوں میں موزے پہنانے ہوں تو وہ ہلکے ہونے چاہئیں۔ گرمیوں میں سوتی لباس پہنانا چاہیے۔ بچے اس میں زیادہ آسانی اور راحت محسوس کرتے ہیں۔
ڈائپر ریش کریم کا استعمال "Diaper rash cream for child"

گرمیوں کے دوران اگر ہر تھوڑی دیر بعد ڈائپر بدلا جائے تو اس سے بچے کی جلد کی تازگی برقرار رہتی ہے اور ڈائپر ریش یعنی ڈائپر کی وجہ سے ہونےلگی والے ہلکے دانے یا دھپڑ سے بھی بچا جاسکتا ہے۔بچوں کی جلد بے حد حساس ہوتی ہے لہذا اگر بچوں کا ڈائپر وقت پر تبدیل نہ کیا جائے تو ان کی جلد پر سرخ دھبے اور لکیریں پڑ جاتی ہیں اور سوزش ہو جاتی ہے۔
اگر یہ ریشز بڑھ جائیں تو ان میں جلن اور خارش بچوں کو تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ڈائپر پہنانے میں تھوڑی سی احتیاط بچوں کو اس پریشانی سے بچا سکتی ہے ۔ بچے کی جلد کا خیال رکھنے کے لیے ایسی ڈائپر کریم کا انتخاب کریں جس میں بادام کا تیل شامل ہو، بادام کا تیل جلد کو خشکی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاؤہ مناسب سائز کے ڈائپرز کا انتخاب کریں
تا کہ ڈائپر ریش نہ ہوں اگر ڈائپر بہت زیادہ ٹائٹ ہو یا صحیح طرح فٹ نہ ہو تو ریشز ہو سکتے ہیں۔ بچوں کو زیادہ دیر ڈائپر میں نہ رہنے دیں۔ ہر 3 سے 4 گھنٹے بعد ڈائپر ضرور تبدیل کریں۔ہمیشہ معیاری کمپنی کا ڈائپر استعمال کریں- ڈائپر کی تبدیلی کے دوران بچوں کی جلد کو لازمی دھلائیں۔ خشک کرنے کے لئے زیادہ نہ رگڑیں بلکہ کسی نرم تولیہ سے ہلکے ہاتھ سے خشک کریں۔
جلد کی صفائی کے لیے بیبی وائپس کا استعمال " Baby wipes for skin cleaning"

بچوں کو کہیں بھی کسی بھی وقت تروتازہ کرنے کے لیے بیبی وائپس کا استعمال بہت ہی مفید ہے۔ بچوں کے ان وائپس میں ایلو ویرا کی خصوصیت بھی شامل ہو تو اور بھی اچھی بات ہے کیونکہ ایلو ویرا جلد کی صفائی کے لیے کافی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
بہت زیادہ صابن یاالکحل اور خوشبو والے وائپس استعمال نہ کریں۔ اس سے جلد بہت خشک ہوجاتی ہے جو ڈائپر ریشز کی وجہ بنتی ہے ۔
ممتا کا احساس ہی اتنا دلکش ہے کہ اسے فراموش کرنا ممکن نہیں۔ شادی کے بعد کسی بھی لڑکیوں کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد ممتا کے رتبے پر فائز ہوسکے اور جس روز وہ اپنے قدموں تلے جنت کی نوید سنتی ہے اس روز وہ خود کو ہوائوں میں اڑتا، پرسکون، پر امید اور زندگی سے بھر پور محسوس کرتی ہے۔ کیونکہ اب وہ اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ننھی جان بھی جڑی ہے۔
دنیا میں آنے کی خوشی تو ایک حقیقت ہے مگر اس کے ساتھ بچے کو سنبھالنے، اس کی ضروریات سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کی فکر ماؤں کو پریشان رکھتی ہے ماؤں کے لئے ضروری ہے کہ ایسے موسم۔کے دوران وہ بچوں کی صحت کا بطور خاص خیال رکھیں۔موسم چونکہ سخت ہوتا ہے اس لئے ان کے بیمار پڑجانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے ۔معمولی بخار،کھانسی،نزلہ یازکام سے کام شروع ہوتا ہے اور پھر بیماری بڑھتی جاتی ہے۔اس لئے احتیاطی تدابیر کی اشد ضرورت رہتی ہے ۔

