For any inquiries, support, or feedback, feel free to reach out to PakHeal. Our team is available to assist you with your healthcare needs.

Let’s Stay In Touch

Shopping cart

    Subtotal  0

    View cartCheckout

    بچوں کا ضد کرنا وجوہات اور اس کا حل

    An Image of "Children’s stubbornness—causes and solutions"

    Table of Contents

    والدین کے لئے یہ ایک بڑا خوفناک تجربہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ باہر جائیں یا کسی سپر مارکیٹ میں شاپنگ کے لئی نکلیں اور وہاں ان کے بچے ان کو شرمندہ کروانے کا باعث بن جائیں۔سب کے سامنے ان کی ضد ،ان کا غصہ،ان کا مچلنا ،انکا رونا آپ کو شرمندگی کے سمندر میں ڈبو دیتا ہے ،اس وقت آپ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کس طرح کا ردِعمل ظاہر کریں۔بچے کو ڈانٹیں ،ڈپٹیں یا پیار سے سمجھائیں ؟اس وقت آپ بڑی بے بسی محسوس کرتے ہیں جب بچے اپنی ضد پہ ہوتے ہیں ۔یہاں ہم اس صورتحال سے بچنے کے کچھ طریقے بتا رہے ہیں ۔

    بچوں کی تربیت زندگی کا ایک مکمل الگ شعبہ ہے اور المیہ یہ ہے ہم غم روزگار میں اسے وہ مقام نہیں دے پا رہے جیسا کہ دینا چاہیے. بچے ضد یا تو اپنی محرومیوں کے سبب کرتے ہیں یا پھر وہ خداداد تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ تخلیقی استعداد کے مالک بچے اول دن سے ہی معاملات کو الگ انداز میں دیکھتے ہیں، وہ حقائق کو جان لینے کے مشتاق ہوتے ہیں۔ انہیں حقائق کو جان لینے کا پورا حق ہونا بھی چاہیے اور وہ ہمیشہ جان کر ہی رہتے ہیں۔ اب ہم تشخیص کے اس سفر کے ساتھ ساتھ بچے کو اس ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھنے پر بھی بات کریں گے 

    اپنے بچے کو جا ننے کی کوشش کریں

    An image of Try to understand your child.

     

    آپ ایک لمحے کے لیے آ نکھیں بند کریں، اپنے بچے کو بطور انسان اور ایک مکمل شخصییت دیکھیں اور سوچیں کہ کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ عین ممکن ہے آپ کے لیے ابھی بھی یہ سوال غیر اہم ہو اور اگر ایسا ہے تو آپ کبھی بھی اپنے بچے کی درست تربیت نہیں کر پائیں گے۔ بچے کی خواہشات اور انداز فکر کو جاننا بے حد ضروری ہے، یہی دراصل تشخیص ہے۔ آپ کا بچہ جو کر رہا ہے، وہ کیوں کر رہا ہے؟ وہ اس سے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اسے جانے بغیر ہم اس کے مسائل کا بہتر حل کبھی تلاش نہیں پائیں گے۔ اس کے بغیر وقتی جگاڑ تو بہرحال لگا سکتے ہیں لیکن اس کی ذہنی نشونما نہیں کر سکتے۔

    اپنے بچے کو اہمیت دیں

    An Image of Giving Importance to Your Child

    ایک بچہ توجہ اور اہمیت چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے، مانی جائے اور اسے سراہا بھی جائے۔ اسے اچھے کاموں پر سراہنا کوئی بڑی مشقت کا کام نہیں لیکن یہ ایسا ہتھیار ضرور ہے جسے آپ بچے کی تربیت میں بڑی مہارت سے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاََ اگر آپ اپنے بچے کو پسندیدگی پر سراہتے رہیں اور نا پسندیدگی پر منہ بنا لیں تو یہی بھی اسے ایک خاص راستے پر چلائے رکھنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس ہتھیار کو استعمال کرنے لے لیے یہ بھی واجب ہے کہ آپ خود صحیح و غلط سے بخوبی واقف ہوں ایسا نہ ہو کہ آپ کی کوئی بری خصلتیں بھی اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں

    وقتی توجہ ہٹائیں

    ضدی بچوں کو وقتی طور پر ٹالنے کے لیے بہتر ہے کہ اسے کسی اور کام میں مشغول کر دیا جائے۔ مثلاََ اگر بچہ باہر جانے پر بضد ہے تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ آپ اسے کہیں لے جانا چاہتے ہیں یا آپ اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے، عین ممکن ہے بچہ آپ کی رائے کو فوقیت دے۔ اور اگر وہ بضد رہے تو آپ ضد مت کریں اسے بعد میں مدلل انداز میں قائل کریں

     

    بچوں کی توجہ سے بات سنیں

     

    جب بھی آپ کا بچہ آپ سے کچھ کہنا چاہ رہا ہے یا آپ کو اپنے اشاروں سے کچھ سمجھانا چاہ رہا ہے تو اس کو پوری توجہ دیں۔اس کو سنیں یااس کے اشارے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔آپ کی توجہ آپ دونوں کو ایک دوسرے سے قریب لائے گی ،اور جب ایک دفعہ آپ اپنے بچے کے قریب ہو جاتے ہیں تو آپ اس کے اشارے بھی سمجھنے لگتے ہیں اس کی زبان بھی سمجھنے لگتے ہیں ،اور پھرآپ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اپنے بچے کو زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکیں اورمختلف مواقع پر اس کے غصے اور ضد کو کنٹرول کر سکیں ۔کوشش کریں کہ جب اپنے بچے کے ساتھ ہو ں تو موبائل وغیرہ نہ استعمال کریں کیونکہ اس سے آپ کی توجہ بچے پر نہیں بلکہ موبائل پر رہتی ہے جس سے بچہ ڈسٹرب ہوتا ہے ،آپ اس سے بات نہیں کرتے ،اس پر پوری توجہ نہیں دیتے ،اس سے کھیلتے نہیں ہیں تو پھر وہ توجہ حاصل کرنے کے لئے تنگ کرتا ہے یا روتا ہے ،ضد کرتا ہے۔بچے کو اپنے ماں یا باپ کی پوری توجہ چاہیے ہوتی ہے اسی لئے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔

     

    اپنے بچوں کے دوست بنیں

     

    کبھی ایسا ہوا کہ آپ کا بچہ کسی اور سے غصہ یا ناراضگی میں آپ کی برائی کر دے؟ کہ امی میرے ساتھ ایسے کرتی ہے، ابو مجھے بلا وجہ ڈانٹتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو غالباََ آپ اپنے بچے کے دوست نہیں بن پائے۔ آپ کا بچہ آپ کو ڈکٹیٹر کے طور پر دیکھتا ہے۔ بچے اپنے دوستوں کو اپنے ننھے دلوں کے احوال دیتے ہیں۔ کوشش کریں کہ آپ اپنی اولاد کے دلوں کے احوال سے بخوبی واقف ہوں۔

     

    ہر بات کے منکر مت بنیں

     

    بسا اوقات والدین اولاد کی ہر بات کے ہی منکر ہوتے ہیں۔ ہر بات پر نہیں نہیں سنتے سنتے بچے بھی نفی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یا پھر ہر معاملے میں نفی کی وجہ سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور اس طرح بھی ہٹ دھرمی ان کی ذات کا جزو بن جاتی ہے

     

    غیر ضروری توقعات وابستہ نہ کریں

    آپ کے بچے کے دماغ میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ آپ کے حساب سے چل سکے ۔آپ کے دماغ کا اوپری حصہ جو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے یا اعصاب کو ،جذبات کو کنٹرول کرتا ہے ،بچے میں پوری طرح ڈویلپ نہیں ہوا ہوتا کہ وہ آپ کے حساب سے چل سکے ۔وہ اپنی عمر اور سائز کے حساب سے کام کرتا ہے۔اسی لئے وہ حصہ اس قابل نہیں ہو تا کہ وہ دماغ کے نچلے حصے کو پوری طرح سپورٹ کر سکے( جس کا کام جذبات کا اظہار کرنا ہوتا ہے)جیسے کہ غصہ، پیار،لڑائی یا کوئی بھی دوسرا اظہار۔جو کہ ہماری پیدائش کے ساتھ ہی بن چکا ہوتا ہے ۔لیکن اس کو سپورٹ دماغ کے اوپری حصے کی چاہیے ہوتی ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتے ہیں ۔اسی لئے بچوں اپنے موڈاور اپنے جذبات کے حساب سے مت چلائیں بلکہ ان کو ان کی عمر اور ضرورت کے حساب سے ڈیل کریں۔

     

    ان کی ذہنی تسکین صحیح انداز میں کریں

     

    صحیح انداز میں بحث کر کے بڑے سے بڑے ذہن کو مسخر کیا جا سکتا ہے۔ والدین کو لازماََ اپنے بچوں کی ذہنی تسکین کرتے رہنا چاہیے۔ وہ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں انہیں اس کے بہترین حقائق پر مبنی جوابات دیں۔ یہ کبھی مت سوچیں کہ یہ تو بچہ ہے اسے درست بات کیوں بتائیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے جب بھی آپ کا بچہ حقائق سے آگاہ ہو گا، آپ کی درست آگاہی سے آپ کو وہ معتبر سمجھے گا۔ اور غلط سے مکار سمجھنے لگے گا۔

     

    صحیح وقت پر بات کریں

     

    جب بچہ پرسکون ہو ،اور آپ کی بات کو سوچنے سمجھنے کے قابل ہو اور آپ دیکھیں کہ اب وہ اس حالت میں ہے کہ اپنا دماغ استعمال کر سکتا ہے۔تو اس کو سمجھائیں ،پیار محبت سے،مثالوں سے ،اتنے چھوٹے بچے کے لئے دلائل و مشورے تو بیکار ہیں ،ان کو انہی کے انداز میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ آئندہ ایسی حرکت یا ایسی ضد اور رونا،چیخنا نہ کریں۔ان کو سمجھائیں کہ ان کی اس حرکت سے کیا نقصان ہوا یا ہو سکتا ہے،اور ایسی صورتحال میں ان کو آئندہ کیسا بی ہیو کرنا چاہیے

     

    بچے سے رابطہ مضبوط کریں

     

    یہ رابطہ مختلف طریقے سے ہو سکتا ہے ۔یہ آپ کے بچے پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح پرسکون ہوتا ہے۔کیا وہ آپ کے گلے لگانے سے پر سکون ہو گا ،یا آپ کے پیار کرنے سے ٹھیک ہو گا یا آپ کے پکارنے سے، اس کو پچکارنے سے پرسکون ہو گا ۔اگر وہ جسمانی طور پر قابو سے باہر ہو رہا ہے تو اس کو پیار سے پکڑیں۔اس کو گلے لگائیں اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیریں اس کو پرسکون کرنے کی کوشش کریں ۔اسکے پاس بیٹھ کر اس کو یہ یقین دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں تاکہ وہ کنٹرول میں آسکے۔

     بچوں کی باڈی لینگویج سمجھیں

    An Image of "Understand children's body language!"

     

     

    بچوں کے ساتھ عام طور پر 80فیصد گفتگوزبان سے نہی بلکہ باڈی لینگویج کے ذریعے ہوتی ہے ،بچے اپنے اشاروں سے سمجھاتے ہیں کہ ان کی ضرورت کیا ہے ،وہ اپنے رونے یا اپنے اشاروں یا اپنے انداز سے سمجھا دیتے ہیں کہ وہ کیا چاہ رہے ہیں ۔وہ والدین کی توجہ چاہتے ہیں،یا وہ بور ہو رہے ہیں ،یا وہ بھوکے ہیں یا زیادہ رش یا آوازوں سے وہ گھبرا رہے ہیں ،عام طور پر اگر بچے اکیلے گھر کے عادی ہوں تو شاپنگ مال یا کسی تقریب میں جا کر زیادہ پریشان کرنا شروع کر دیتے ہیں،اسی لئے کہیں جانے سے پہلے بچوں کو سلا دیا جائے اور پیٹ بھر دیا جائے تو وہ مطمئن رہتے ہیں ،اور کہیں بھی جاکر تنگ نہیں کرتے۔

    دوسروں کے سامنے سرزنش مت کریں

    یہ بہت ضروری ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کو فرمانبردار بنانا چاہتے ہیں تو اپنے بچے کے وقار کی قدر کریں۔ وگرنہ وہ بھی کل کلاں کو (خصوصاََ آپ کے بڑھاپے میں) آپ کی بے قدری کرے گا۔ یہ ہمارے ہاں المیہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتے، وقت بے وقت ڈانٹتے ہیں۔ اس سے ان کی شخصیت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ سرزنش میں زیادتی ہٹ دھرمی کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔

    لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ بچوں کو مکمل آزادی دے دی جائے بلکہ انہیں تنہائی میں پیار سے سمجھائیں۔ اور جہاں سختی کرنی پڑے وہاں سختی بھی کریں۔ کچھ ماہر نفسیات صاحبان اس کا انداز یوں بتاتے ہیں کہ بعد میں بناوٹی غصہ پیدا کر لیا جائے اور بچے کو سمجھا دیا جائے۔

    بچے کو قواعد و ضوابط کا عادی بنائیں

    An image of child accustomed to rules and regulations

    جہاں آپ بچے کی قدر کر رہے ہیں۔ وہاں یہ بھی لازم ہے کہ اسے قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہنا بھی سکھائیں۔ اسے معلوم ہو کہ اسے اور لوگوں کے لیے کبھی مشکلات کھڑی نہیں کرنیں بلکہ اسے نظم و ضبط کے ساتھ سب کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ نظم و ضبط سکھاتے ہوئے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو برے کاموں سے سختی سے روکیں۔ بچوں کی اسلامی تربیت میں علماء کرام یہاں اس معاملے میں بہت زیادہ سخت ہو جانے کی بھی تلقین کرتے ہیں تا کہ بچے گناہ کی لذتوں سے محفوظ رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ اور برائی پر کشش ہے جو انسان کی عقل کو قبضہ میں لے لیتی ہے، اسے بڑے پیمانے پر سوچنے سے روک دیتی ہے۔

    شفقت اور محبت سے کام لیں

    والدین ہو نے کے ناطے،اپنے چھوٹے بچے کو سنبھالنا ایک بہت بڑی ذمہ داری اور بہت مشکل کام ہے ۔اپنے بچے کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتاؤ کریں،اس کے ساتھ ساتھ اپنا بھی خیال رکھیں ۔اگر آپ اپنی ذمہ داری اچھی طرح پوری کر رہی ہیں تو اپنے آپ کو شاباشی دیں ،سراہیں اور اگر کچھ غلط ہو بھی گیا تو اس کو نظر انداز کریں اور بھول جائیں لیکن آئندہ کوشش کریں کہ ایسا نہ ہو ۔اپنے اس وقت کو انجوائے کریں۔اس وقت کو اور اپنی ذمہ داری کو بوجھ نہ سمجھیں بلکہ خوشی خوشی نبھائیں۔

     

    یہ اس قدر اہم معاملہ ہے کہ اس پر ماں باپ کو خاص توجہ دینی چاہیے۔ بچے آپ کی ہی چھاپ ہیں۔ آپ غور کیجیئے کہ کہیں آپ خود تو ہٹ دھرمی پر نہیں اتر آتے؟ ایسا کرنے سے آپ کی اولاد اس امر کو معتبر سمجھے گی۔ اپنی تمام تر خامیوں پر غور کریں اور دور کریں۔

    Leave a Comment

    Your email address will not be published. Required fields are marked *