"Additionally, when and how should sanitary pads be used, and what precautions should be taken?"
مہینے میں ایک دفعہ پیریڈز ہر لڑکی کے لئے ذہنی تناؤ اور جسمانی تھکان کا باعث ہوتے ہیں ۔جہاں یہ مخصوص ایام لڑکیوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں وہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ماہواری ایک قدرتی عمل ہے اور اس قدرتی عمل کے باعث خواتین کا جسم ناپاکی اور مختلف بیماریوں سے پاک ہوتا ہے ۔
پیریڈز کا سلسلہ مسلسل مستقل اور باقاعدہ ہونا عورت کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ بعض خواتین کو پیریڈز کے دوران برداشت سے زیادہ درد ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مہینہ کے مخصوص ایام میں اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں نبھانے میں مشکل محسوس کرتی ہیں اور ان پر بیماری کی سی کیفیت حاوی ہو جاتی ہے۔
پیریڈز کے دوران ہونے والے درد کی وجوہات

پیریڈز کے دوران درد دو طرح کا ہوتا ہے
اجتماع خون کا ماہواری درد
یہ درد شادی شدہ عورتوں میں بچہ دانی کے اردگرد کے اعضاء میں ہوتا ہے ۔ پیریڈز کا یہ درود پیریڈز سے تین چار دن پہلے سے شروع ہو جاتا ہے اور پیریڈز شروع ہونے کے ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے ۔کم محنت کرنے والی عورتیں یا جو ایکٹو نہیں رہتی ان کو یہ درد زیادہ ہوتا ہے ۔
عضلات کے سکڑنے کا ماہواری کا درد
یہ درد کنواری لڑکیوں کو زیادہ ہوتا ہے ۔یہ درد اس وقت تک رہتا ہے جب تک لڑکی پریگنینسی کے پیریڈ سے نہ گزرے ۔اس درد میں جی متلانا ، کپکپی اور قے بھی آتی ہے ۔
یاد رکھیں کہ پیریڈز کے دوران حد سے زیادہ درد ہونا بعض اوقات کسی خاص مسئلہ کی طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے جیسے خون کی کمی، بچے دانی کا چھوٹا ہونا ،تولیدی اعضاء کے تمام حصوں کا صحیح سے کام نہ کرنا ،ہارمونز کا توازن کھو دینا ،اعصابی کمزوری ، سوڈیم ،پوٹاشیم اور غذا میں توازن قائم نہ رہنا ۔ وہ خواتین جنھیں شروع سے ہی پیریڈز کے دوران درد ہوتا ہے انھیں ہر دفعہ پین کلر کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے لیکن وہ خواتین جنھیں پہلے تو درد نہیں ہوتا تھا لیکن اب پیریڈز میں درد شدت سے بڑھ رہا ہو انھیں ٹوٹکوں اور دواؤں کے استعمال سے پہلے کسی اچھی گائنی ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہئے ۔
پیریڈز کے دوران اگر درد ہو تو کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

-جن خواتین کو پیریڈز کے درد کی شکایت ہو انھیں کیفین چٹپٹی چیزیں ،چاول اور کولڈ ڈرنک کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے ۔
-پیریڈز کے دنوں میں چست اور تنگ کپڑے نہیں پہننے چاہئیں
تاریخ سے چار دن پہلے نمک کی مقدار کم کر دیں اور ہلکی پھلکی ورزش شروع کر دیں
-خاص دنوں میں بہت زیادہ آرام کرنے سے یا مشقت کرنے سے بچنا چاہئے
سپلیمنٹ کا استعمال
وہ خواتین جنھیں پیریڈز کے دوران بے انتہا درد برداشت کرنا پڑتا ہے انھیں روزانہ کیلشیم اور میگنیشیم کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہئے ۔یہ وہ نیوٹرینٹ ہیں جو پٹھوں کو سکون دیتے ہیں جس سے پیٹ کے نچلے حصہ کے پٹھوں کو سکون ملتا ہے ۔روزانہ 1000 ملی گرام کیلشیم اور 500 ملی گرام میگنیشیم سپلیمنٹ کا استعمال یقینی بنانے سے پیریڈز کے درد کو کم کیا جا سکتا ہے ،وہ خواتین جنھیں کیلشیم سپلیمنٹ کے استعمال سے موشن لگنے کی شکایت ہو جائے انھیں کیلشیم کاربونیٹ کی جگہ کیلشیم سٹریٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔
گرم پانی کا استعمال
کنواری لڑکیوں کو اور ان خواتین کو جنھیں پیریڈز کے شدید درد کی شکایت ہو انھیں زیادہ ٹھنڈے پانی کے استعمال سے مستقل پرہیز کرنا چاہئے ،ٹھنڈی غذاؤں اور ٹھندے پانی کے استعمال سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس سے درد میں اضافہ ہوتا ہے ،وہ خواتین جنھیں پیریڈز کی کمی یا کثرت کے باعث درد ہو انھیں بادی ،ٹھنڈی غذاؤں اور ٹھنڈے پانی کا استعمال ترک کر دینا چاہئے- سادہ یا ہلکا گرم پانی پینے اور گرم پانی سے نہانے سے پیٹ اور کمر میں ہونے والا درد ختم ہوتا ہے اس کے علاوہ گرم کپڑے سے سینکائی کرنے سے بھی پیریڈز کے درد میں کمی آتی ہے ۔
مساج
ماہواری کے درد میں پیٹ کے نچلے حصے میں اگر ہلکے گرم تیل سے دونوں ہاتھوں سے گول دائرہ میں مالش کی جائے تو درد میں آرام آتا ہے اور پیروں میں جو درد اور اکڑاؤ ہوتا ہے وہ بھی دور ہو جاتا ہے ۔- پپیتے کا استعمال
پپیتے کو پیریڈز کے دوران استعمال کرنا تجویز کیا جاتا ہہے ۔پپیتے میں پپائن جز پایا جاتا ہے پیریڈز کی رکاوٹ کو دور کر کے درد کو فوری دور کرتا ہے ۔
ایلوویرا
ایلوویرا جیل کو باریک پیس کر اس میں ہم وزن شہد کی مقدار ملا کر پینے سے بھی پیریڈز کے درد میں راحت ملتی ہے
مولی
مولی کے بیجوں کو پیس کر چار چار گرام صبح ،دوپہر اور شام گرم پانی سے پھانکنے سے ماہواری کھل کر آتی ہے اور درد ٹھیک ہو جاتا ہ
-سونٹھ
جن کنواری لڑکیوں کو ماہواری میں درد ہوتا ہو انھیں سونٹھ اور گڑھ کا قہوہ بنا کر پینا چاہئے
نیم
اگر ماہواری کے دنوں میں ٹانگوں اور پیٹ میں درد ہو تو نیم کے پتے اور ادرک کا رس ملا کر پینے سے درد میں فوری آرام آتا ہے
گاجر
ماہواری کے درد میں وٹامن اے جو کہ گاجر میں پایا جاتا ہے۔۔ گاجر کا استعمال مفید ہوتا ہے ۔دو چممچ گاجر کے بیج ایک چمچ گڑ ایک گلاس پانی میں ابال کر روزانہ صبح شام گرم کر کے پئیں ،تو اس سے ماہواری میں ہونے والا درد ٹھیک ہو جاتا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں سینٹری پیڈز کا استعمال اور احتیاط کے بارے میں

بارہ سال کی بچی ہو یا 35 سال کی عورت ،ماہواری کے دوران صفائی اور صحت کے اصول اپنانا بہت ضروری ہے ،وہ عورت جو گاؤں ،دیہات میں رہتی ہو یا شہر میں رہتی ہو ماہواری کے دوران نیپکن کے استعمال کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے لہذا پیڈز کے استعمال کے صیح طریقے اور چند احتیاطی تدابیر ضرور ذہن میں رکھیں ۔
-پیریڈز کے وہ خاص دن جن میں بہاؤ تیز ہو ان دنوں میں خاص کمرشل پیڈز جیسا کہ ونگس والے پیڈز ، اوور نائٹ پیڈز کا استعمال کریں اور باقی کے دوسرے دن دوسرا برینڈ استعمال کر سکتی ہیں ۔ مگر جلدی جلدی نئے برینڈز استعمال کر کے خود کو غیر اطمینان بخش صورت حال میں ہر گز نہ ڈالیں۔
-پیڈز تبدیل کرنے کا ایک معیاری وقت ہر 7 گھنٹہ بعد ہے ،وہ خواتین جن کا بہاؤ تیز ہو انھیں ہر تین گھنٹہ بعد پیڈ تبدیل کرنا چاہئے
-پیریڈز کے دوران صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اور گندگی دیر تک لگے رہنے کی وجہ سے ایک خاص بو پیدا ہونے لگتی ہے لہذا پیڈ تبدیل کرنے سے پہلے نیم گرم پانی سے جسم کو اچھی طرح دھو کر خشک کر لیں ۔ اگر جسم کو دھونا ممکن نہ ہو تو حساس جگہوں کو اچھی طرح صاف کپڑے سے پونچھ لینا چاہئے ۔
-ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ماہواری کے دوران غسل نہیں کرنا چاہئے ،اکثر خواتین نارمل ڈلیوری کے بعد پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتی ہیں اس کی وجہ صفائی کا خیال نہ رکھنا اور چھ سات دن تک غسل نہ کرنا ہے ۔ ۔،اگر ماہواری کے دوران صحت اور صفائی کا بھر پور بندوبست ہو تو غسل کی واقعی ضرورت نہیں رہتی البتہ نیم گرم پانی میں نمک ملا کر جسم پر بہانے سے ٹانگوں کی اینٹھن اور پٹھوں کا کھنچاؤ کم کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن ماہواری کے دوران غسل کے بعد جسم کو خشک کرنا نہایت ضروری عمل ہے ۔
-خوشبو دار پیڈز استعمال کرنے سے گریز کریں کیوں کہ اس پر موجود کیمیکل جلد کی حساسیت میں اضافہ کر دیتے ہیں ایسے نیپکن استعمال کریں جس میں خوشبو کم اور روئی کہ نرم تہہ موجود ہو تا کہ جسم کے چھلنے کا امکان کم رہے
-ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ بچیوں کو سخت تاکید کریں کہ وہ ایک پیڈ کے اوپر دوسرا پیڈ ہر گز استعمال نہ کریں ۔

-زیادہ تر ڈاکٹر آرگینک پیڈ استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں اس لئے اگر بہاؤ زیادہ نہ ہو تو کمرشل پیڈز استعمال کرنے سے گریز کریں ، روزانہ ونگس والے پیڈ استعمال کرنے سے جلد چھل سکتی ہے اور اس کی جگہ گھر میں دستیاب صاف کپڑوں یا تولیوں کے ٹکڑوں کو استعمال کریں ۔ گھر کے پیڈز استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ گندے ہوں تو انفیکشن ہو سکتا ہے اس لئے گھر کے پیڈز استعمال کرنے سے پہلے انھیں اینٹی سیپٹک محلول سے دھو لیں ۔
-جب ماہواری کی تاریخ نزدیک آنے لگے تو اپنے بیگ میں چند چیزیں ضرور رکھیں ( ایک سے زائدپیڈ ۔،ٹشو پیپر ،وائپس ، صاف تولیہ ،پانی کی بوتل ، اور ہینڈ سینیٹائزر )
-ماہواری کے دوران جسم کے مخصوص حصوں کو صابن یا اینٹی بیکٹیریل محلول سے صاف کرنے سے گریز کریں ،صرف نیم گرم پانی سے ہی جسم کو صاف کریں اس بات کا خیال رکھیں کہ پانی بہانے کے بعد ہاتھ الٹی سمت میں نہ جائے ،اوپر سے نیچے کی طرف ہی ہاتھوں کی سمت ہونی چاہئے ۔
-پیڈز کو ضائع کرنے کے لئے واش روم میں ٹوائلٹ پیپر اور چھوٹی تھیلیاں رکھیں تاکہ پیڈز استعمال کرنے کے بعد تھیلی یا پیپر میں لپیٹ کر ضائع کئے جا سکیں ۔
-پیڈ وقت پر تبدیل نہ کئے جائیں تو انڈر گارمنٹ کے کناروں پر ناپاکی لگی رہے جاتی ہے جو جسم پر خراش یا ریش کر سکتی ہے ۔اگر ریش ہونے کی صورت میں زیتون کا تیل ،یا چکنا مرہم فوری طور پر لگا لیا جائے تو انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔
-پیڈ تبدیل کرنے کے بعد تو ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن پیڈ تبدیل کرتے وقت بھی ہاتھ ضرور دھو لیں
-گرمیوں میں ہر روز انڈر گارمنٹ تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ پسینہ زیادہ دیر تک لگا نہ رہے ۔

