سال سے 12 سال کے درمیان بچے تیزی سے بڑھتے ہیں اس کے لیے انھیں مناسب غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی غذائیں جو انھیں پروٹین، کیلشیم ، آئرن اور وٹامنز فراہم کرسکیں ان کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اگر بچے کو یہ غذائیں نہ ملیں تو وہ کمزور اور بیمار بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ذہنی اور جسمانی کارکردگی پر بھی خراب اثر پڑتا ہے ۔ یہ اہم غذائیں اناج ، پھل ، سبزیوں اور ڈیری پروڈکٹس سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
ہمیں اپنے اردگرد اکثر ایسی خواتین نظر آتی ہیں جو بچے کو صحت مند بنانے کے چکر میں خوب کھلاتی ہیں اور بعض اوقات تو ضرورت سے زیادہ ہی کھلا دیتی ہیں ۔مائوں کا اس طرح کھلانا بچوں میں موٹاپے کا باعث بنتا ہے اور بچپن کا موٹاپا بڑے ہوکر مختلف بیماریوں کا پیش خیمہ بن جاتا ہے ۔
مائوں کو چاہیے کہ ابتدا ء سے ہی بچوں کی متوازن غذا پر توجہ دیں ۔ انہیں شروع سے ہی پھل اور سبزیاں کھلانے کی کوشش کریں تا کہ ان کی یہ سب کھانے کی عادت بنے ۔محض بچے کی پسند کے پیش نظر اسے روغنی غذائوں کا عادی نہ بنائیں ۔اس عادت سے آگے چل کر مشکلات پیدا ہوتی ہیں- بچوں کی ذہنی وجسمانی نشوونما کے لیے وٹامنز سے بھرپور غذا کے بارے میں معلومات رکھنا ہر خاتون کے لیے ضروری ہے ۔اسکول جانے والے بچوں کو غذائیت سے بھر پور غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔چار سے آٹھ سال کے دوران بچوں کی نشوونما تیزی سےہوتی ہے اس لئے اس دوران بچوں کو غذائیت سے بھر پور غذا کی بہت ضروری ہوتی ہے۔
بڑھتے بچوں کے لیے بہترین غذائیں

بیریز
اسٹرابیری اور بلو بیری وٹامن سی ، اینٹی اوکسی ڈنٹ اور فائٹوکیمیکل سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ سیلز کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتے ہیں اور قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔
ان بیریز کو آئسکریم ، دہی اور سیریلز کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اسٹرابیری ملک شیک بھی بچوں کو بہت پسند آتا ہے۔۔
بچوں کو بچپن سے کھانے پینے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں تاکہ ان میں سب چیزیں کھانے کی عادت ہو اور یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز انہیں اچھی نہیں لگتی۔
انڈے
انڈے وٹامن اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں انڈوں کا استعمال ذہنی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
وٹامن B12 سے بھرپور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کا قد بڑھتا ہے۔آپ کو چاہیے کہ بچوں کو دن میں کم از کم ایک انڈہ ضرور کھلائیں،اگر بچے دو یا تین انڈے کھانا چاہیں تو منع کرنے کی بجائے انہیں کھانے کو دیں۔اس عمر میں انڈے بالکل بھی خطرناک نہیں ہوتے بلکہ اس کی وجہ سے ان کا قد بڑھے گا۔ انڈے ابال کر ، تل کے یا آملیٹ بنا کے بچوں کو دیں اس کے علاوہ سوپ میں انڈے بہت ہی مزے کے لگتے ہیں تو آپ سوپ بنا کے بھی دے سکتی ہیں ۔ اس کے علاؤہ انڈے کا سالن بھی بنا کر بچوں کو دیا جاسکتا ہے۔
بچوں کو کھانے میں رغبت کے لئے ان کو خوبصورت پلیٹوں اور پیالوں میں کھانے ڈال کر دیں ۔اس طرح سے بچوں میں بھوک بڑھے گی اور وہ صحت مند جسم کے ساتھ پروان چڑھیں گے۔

گائے کا دودھ
بڑھتے ہوئے بچوں کے لئے دودھ انتہائی ضروری ہوتا ہے
گاۓ کا دودھ کیلشیم اور فاسفورس حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ ہڈیوں اور مسلز کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہیں ۔ بچوں کو فل فیٹ ملک دیں ۔ اگر بچے کا وزن زیادہ بھی ہے تب بھی اسکو نشونما کے لیے انرجی کی ضرورت ہے۔اگر آپ کا بچہ دودھ جلدی نہیں پیتا یا ضد کرتا ہے تو دودھ کو سیریلز یا کوکیز کے ساتھ دیں اس کے علاوہ دودھ کو پھلوں کے ساتھ بلینڈ کر کے بھی دیا جاسکتا ہے۔بچوں کو دودھ ،دہی اور اس کی بنی اشیاء بھی دینی چاہیے،کیوں کہ اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو بچوں کی ہڈیوں کی نشو ونما کے لیے ضروری ہے۔
دودھ ایک مکمل غذا ہے اور اس کا استعمال بچوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اگر آپ اپنے بچوں کو روزانہ دودھ پینے کی عادت ڈال دیں گے تو ان کی نشوونما میں تیزی آجائے گی
اناج سے بنی اشیاء
ثابت اناج سے بنائی گئی اشیاء میں فائبر ہوتا ہے جس سے نظام ہضم بہتر رہتا ہے اور قبض نہیں ہوتی بچوں کو اسنیکس کے طور پر ثابت اناج سے بنے بسکٹ اور سیریلز دیں۔
گوشت
گوشت آئرن اور پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے۔ آئرن ذہن کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔
مچھلی ، مرغی یا گائے کے گوشت کی چھوٹی بوٹیاں بنا کر یا قیمہ کر کے انڈے بریڈ کرمز ابلے ہوئے آلوئوں کے ساتھ ملا کر میٹ بالز یا پیٹیس بنالیں۔ اس کے علاؤہ کسی بھی ڈش میں ڈال کر بچوں کو کھلائیں۔۔
چکن میں موجود پروٹین کی وجہ سے بچوں توانائی ملتی ہے جس سے ان کی نشوونما بہتر ہوتی ہے لہذا ہفتے میں کم ازکم دوبار بچوں کو گوشت ضرور کھلائیں۔بکرے کے گوشت کی یخنی سے نہ صرف بچوں کی نشوونما میں مدد ملے گی بلکہ وہ بیماریوں مثلاًنزلہ و زکام سے محفوظ رہیں گے۔
پی نٹ بٹر
پی نٹ بٹر میں مونوسیچوریٹڈ فیٹس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ یہ بٹر بچوں کو توانائی اور پروٹینز فراہم کرتا ہے۔
بسکٹ یا سلائس پر لگا کر دیں اس کے علاوہ یہ روکھا بھی کھایا جاسکتا ہے۔
مچھلی
مچھلی میں پروٹین کی موجودگی ہڈیوں اور مسلز کو مضبوط بناتی ہے۔ چکنے گوشت والی مچھلیاں ، سالمن ، سرڈائن اور ٹونا میں وافر مقدار میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ موجود ہیں جو بینائی کو تیز کرنے کے ساتھ دماغ اور نروز کی بہتر نشونما کرتے ہیں۔
مچھلی کے گوشت کو چاول کے آٹے یا بریڈ کرمز میں کوٹ کر کے فرائی کریں یا ابلے ہوئے آلو کے ساتھ ملا کر فش بالز بنائیں ایسی چیزیں بچے شوق سے کھاتے ہیں اور یہ غذایت سے بھرپور بھی ہوتی ہیں۔
پنیر
پنیر پروٹین ، کیلشیم ، فاسفورس اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہے اور ہڈیوں کی نشونما کے لیے بہترین ہے ۔ بچوں کو موزریلا چیز بہت پسند ہوتا ہے انھیں پنیر سلائس اور کیوبز کی شکل میں دیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ پیزا کی شکل میں یا پاستا ، نوڈلز اور فرائڈ رائس کے ساتھ بھی دیا جاسکتا ہے ۔
بروکولی
بروکولی میں موجود غذائیت بینائی کے لیے نہایت مفید ہے اور سیلز کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتی ہے۔ اس میں موجود فائبر نظام ہضم بہتر کرتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے ۔ بروکولی کے چھوٹے پھول کاٹ لیں سلاد ، ٹماٹو کیچپ کے ساتھ دیں کش کیے ہوئے پنیر کے ساتھ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بروکولی کو پیزا کی ٹاپنگ اور آملیٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

خوش رنگ پھل
گاجر ، شکرقندی، ٹماٹر اور پپیتے میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہے جو جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ وٹامن اے بینائی اور جلد کے لیے بہترین ہے اس کے علاوہ جسم کے ٹشوز کی بہتر نشونما کرتا ہے۔
دالیں، دلیہ، گوشت ،مچھلی ،انڈا اورچکن جیسی خوراک سے بچوں کو آئرن ،وٹامنز،پروٹین اور پوٹاشیم کا حصول ممکن ہو جاتا ہے اور جسم وذہن کی نشوونما بھی وجود میں آئے گی۔

بچوں کی خوراک کے لیے کچھ اہم ٹپس
-کولڈ ڈرنکس بچوں کی صحت کے لئے مضر ہیں ۔ اس لیے اس کا کم سے کم استعمال کروائیں
-کھانا کھانے کے دوران بچوں کو ٹی وی نہ دیکھنے دیں ورنہ وہ دل جمعی کے ساتھ اور سکون سے کھانا نہیں کھا سکیں گے۔
-کچھ بچوں میں موٹاپے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ورزش نہیں کرتے اور بھاگ دوڑ سے بھی کتراتے ہیں ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کوا پنے ساتھ ورزش کروائیں ۔
-مائوں کو چاہیے کہ سکول بھیجتے وقت بچوں کو ناشتہ لازمی کروائیں ۔
-بچوں کو غذائی اشیاء بدل بدل کردیں، تاکہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر ہوں ۔یہ کوشش رہے کہ بچوں کو بچپن سے کھانے پینے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں
-اس عمر میں بچے، عموماً فاسٹ فوڈیا جنک فوڈ کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔جنک فوڈ بچوں کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے ایسے میں مائوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔وہ بچوں کو ان کی پسند کی غذا بنا کر کھلائے اور ایسی غذا بنا کر دے کہ اس میں وٹامنز اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہو۔ابتداء سے مائیں اپنے بچوں کے لیے جن غذاؤں کا انتخاب کریں گی تو وہ مستقبل میں ان بچوں کی صحت اور ان کے کھانے پینے کی عادات وذہنی نشوونما میں بہتری کا باعث بنےگی۔

-کھیل کود کے ساتھ غذائی مینو بھی تبدیل کرنا چاہیے۔پھلیاں ،پالک اور دیگر سبزیوں کی مختلف ڈشز بچوں کو کھلائیں۔ان میں وٹامنز اور فولاد کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔
-مائیں بچوں کو ناشتہ کرنے کا عادی بنائیں۔جو بچے ناشتہ نہیں کرتے ان میں وٹامن بی کی کمی دیکھی گیی،اس لئے ناشتے میں سبزیاں دیں۔سلاد کے ساتھ فروٹس بھی دیے جاسکتے ہیں ،اس کے ساتھ ڈبل روٹی دیں۔بچوں میں ابتداء سے ہی ورزش کی عادت ڈالیں
سکول جاتے وقت زیادہ پیسے نہ دیں تا کہ بچے اوٹ پٹانگ چیزیں کھا کر پیٹ خراب نہ کریں
-باازاری مشروب سے دور رکھیں گھر کی پکائی ہوئی چیزوں کو کھانے کے لئے دیں اس طرح بچوں کو صاف ستھری اور صحت مند خوراک حاصل ہوگی جس کے کھانے سے وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تیز ہوں گے
-بچوں کو فاسٹ فوڈ گھر میں بنا کر دیں اور ان میں سبزیاں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر شامل کردیں تاکہ بچوں کو ان کی علیحدہ علیحدہ ذائقے محسوس نہ ہوں ۔ مثال کے طور پر آپ پیزا یا پاستا میں ٹماٹر ، شملہ مرچ ،بند گوبھی اور زیتون جیسی کئی صحت بخش سبزیوں کا استعمال کر سکتی ہیں-بچوں کے پسندیدہ کھانوں جیسے نوڈلز وغیرہ میں سبزیاں باریک کاٹ کر شامل کر دی جائیں تو بھی متوازن غذا کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے
-چھوٹی چھوٹی مقدار میں موسم کے مطابق بچوں کی مناسبت سے ایسی خوراک دیں جو زود ہضم ہو۔ یاد رہے کہ بچہ تیز خوشبو والا گرم کھانا پسند نہیں کرتا۔ بچے کو ضرورت سے زیادہ نہ کھلائیں اس سے اس کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہونگے۔ تھوڑی تھوڑی خوراک بچے کو کھانے کو دیں تا کہ وہ آرام و آسانی کے ساتھ حلق میں اُتار سکے۔
-خوب پلائیں، سکول جاتے وقت لنچ باکس اور پانی کی بوتل ضرور دیں۔اس طر ح آپ کا بچہ مکمل طور پر صحت یاب رہے گا ۔
چھوٹے بچوں کو کھانا کھلانا ماؤں کے لئے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ۔ ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ صحت مند اور تندرست ہو ۔ بچے کی صحت متوازن غذا سے مشروط ہے
قدرت نے قسم قسم کی غذائیں، اناج اور پھل پیدا کیے ہیں۔ہر پھل سبزی اور اناج کی اپنی منفرد غذائی افادیت ہے ۔صحت مند رہنے کے لیے ان نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ پرانے وقتوں میں لوگ ان تمام غذاؤں کا بھر پور استعمال کرتے تھے
زمانے کے بدلتے انداز کے جہاں لوگوں کے رہنے سہنے کے طور طریقوں کو بدل دیا ہے وہاں غذا اور غذائیت سے متعلق کئی تصورات بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔
صحت مند غذا اب پسند نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ جو کچھ کھایا جارہا ہے وہ کس حد تک ہمارے بچوں اور انکی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہے۔

