Table of Contents
ماں بننے میں تاخیر خواتین کو کئی اقسام کی پریشانیوں میں مبتلا کردیتی ہے، یہ مرحلہ خواتین کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ لیکن احتیاط نہ کی جائے تو یہ خوبصورت لمحات بھاینک خواب میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی شادی شدہ جوڑے کے دل میں اولاد پانے کی خواہش بیدار ہونے لگتی ہے ۔
یوں تو یہ تجربہ عورت اور مرد دونوں ہی کے لیے نیا اور انوکھا ہوتا ہے لیکن عورت کو زندگی میں اس مرحلے کے دوران کئی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ پہلی بار ماں بننے والی یا خواہش رکھنے والی لڑکیوں کو عموما اس کام میں کئی احتیاطوں اور کئی باتوں کاخیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معلومات کی کمی کی وجہ سے حمل ٹھرنے میں انہیں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ عام طور پر ماں، ساس یا گھر کی دیگر تجربہ کار خواتین لڑکیوں کو چند چیزوں سے بچنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بھی اولاد کی خواہش مند خواتین کو اپنی خوراک اور طرز زندگی میں احتیاط اور توازن لانے کی ضرورت ہوتی ہے-ایک عورت کے لیے ماں بننا سب سے بڑی خوشی کا موقع ہوتا ہے-

عام طور پر جب بھی کوئی نوجوان جوڑا شادی کے بعد اپنے خاندان میں اضافے کا خواہشمند ہوتا ہے تو اس کو اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے اس اہم ترین فیصلے سے پہلے کچھ اقدامات کرنا ضروری ہوتے ہیں جو کہ ماں اور بچے کی صحت اور زندگی کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ حمل کے ٹھہرنا بھی اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب کہ ماں جسمانی اور ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو-
اب بات کرتے ہیں کہ وہ کون کون سی تجاویز ہیں جن پر عمل کرنے سے آپ کو پریگنینسی میں کافی مدد مل سکتی ہے
۔کیفین کا حد سے زیادہ استعمال نہ کریں
Do not consume excessive caffeine.

کیفین جو کہ چائے ، کافی جیسے مشروبات میں موجود ہوتا ہے یا پھر چاکلیٹ میں بھی موجود ہوتی ہے اس کا استعمال حمل ٹھرنے کے امکانات کو پچیس فی صد تک کم کر دیتا ہے- اس لیے اگر آپ ماں بننے کی خواہشمند ہیں تو آپ کو اپنی چاۓ کافی پینے کی عادت پر قابو پانا ہو گا تاکہ آپ ماں بننے کے مرحلے میں داخل ہو سکیں-
آپ کو اپنی صبح کی چائے کی پیالی چھوڑنے کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ دن میں دو سو ملی گرامز سے زیادہ کیفین استعمال کر رہی ہیں تو احتیاط کی ضرورت ضرور ہے ۔ 200 ملی گرامز کا مطلب ہے ایک دن میں دو سے زیادہ آٹھ اونس کے کپ یعنی بڑے مگ۔ جسم میں کیفین کی زیادتی حمل ٹھرنے میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے اور اس سے عورت کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کیفین کے زیادہ استعمال سے جسم میں آئرن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور اسقاط حمل یا پری مچیور بے بی ہونے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔
زیادہ جنک فوڈ کھانے سے گریز کریں
تحقیق سے معلوم ہوا کہ زیادہ جنک فوڈ کھانے والی خواتین کو حمل ٹھرنے میں تاخیر کا سامنا ہوسکتا ہے۔ وہ خواتین جن کی غذا میں پھل وغیرہ زیادہ اور جنک فوڈ کم شامل ہوتا ہے ان میں جلدی حمل ٹھرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور وہ کم وقت میں حاملہ ہو جاتی ہیں۔۔ اس کے برعکس وہ خواتین جو بہت زیادہ جنک فوڈ کھاتی ہیں ان کا حمل نہ صرف تاخیر سے ٹھرتا ہے بلکہ ان کے حمل میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے چانسز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
وزن کی زیادتی یا کمی نہ ہونے دیں
Don't let your weight be too high or too low

جس طرح وزن زیادہ ہونا نقصان دہ ہے اسی طرح کم وزن بھی اولاد کی خواہش مند خواتین کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے اپنا بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) ضرور کروائیں ۔ بی ایم آئی سے آپ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آ پ کے قد کے حساب سے آپ کا وزن کم ہے یا؟، سہی ہے؟ یا زیادہ ہے؟ یا بہت زیادہ ہے؟ اگر آپ کا بی ایم آئی زیادہ یعنی (30سے اوپر) ہے
یا بہت کم یعنی (18.5 سے کم) ہوگا تو آپ کو ماہواری میں کمی یا بے قائدگی کی شکایت ہو سکتی ہے ۔ موٹاپے سے زچگی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں جیسے شوگر، بچے میں جسمانی کمزوری، یا سی سیکشن کرنے کی ضرورت وغیرہ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ جب آپ پریگنینسی کے لیے کوشش کر رہی ہوں تو آپ کا وزن آپ کے قد کے حساب سے ٹھیک ہونا چاہیے۔
حمل کے ٹہرنے میں جسمانی وزن بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اگر عورت کا جسم کا وزن کم ہو گا تو اندرونی کمزوری کے سبب اول تو اس کے حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہوں گے- اور اگر حمل ٹہر بھی گیا تو ماں کی کمزوری کا براہ راست اثر بچے کی صحت پر بھی پڑے گا اور وہ پیدائش کے وقت ہی سے کمزور ہوگا جب کہ اگر عورت کا وزن حمل سے قبل بہت زیادہ ہو تو اس صورت میں بھی عورت کے حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں جو ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں- اسی وجہ سے اگر آپ ماں بننے کی خواہشمند ہیں تو آپ کو جسم کے وزن کو صحت مندی کے لیول تک لے کر آنا پڑے گا-
سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں
"Increase the intake of vegetables."

صحت کے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ حمل ٹہرنے اور غذا کے استعمال کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں ۔ البتہ اس بات پر سب ہی متفق ہیں کہ اگر جسم صحت مند ہوگا تو ماں بننا زیادہ آسان ہو جائے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے کہ ماں بننے کی خواہش مند خواتین کے لیے اپنی غذا کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ایسے میں فولک ایسڈ صحت کے لیے ضروری ہے جو سب سے زیادہ پالک میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہری سبزیوں میں وٹامن بی کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے جو کہ عورت کی صحت کے لیے اہم ہے ۔
حرکت میں برکت ہےوالی بات کو یاد رکھیں
ہر وقت بیٹھے رہنا مجموعی طور پر بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ مناسب جسمانی سرگرمیاں جیسے تیز چہل قدمی، سائکلنگ اور باغبانی وغیرہ ماں بننے میں لگنے والی مدت کو مختصر کر سکتی ہیں۔ البتہ کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے ۔اس کے علاؤہ کم وقت میں زیادہ ورزش حمل ٹہرنے میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے ۔ اگر ورزش کرنے سے حیض میں بے قائدگی پیدا ہونے لگے یا کوئی اور تکلیف محسوس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی ورزش کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔
مچھلی کھانے میں احتیاط رکھیں
کچھ مچھلیوں میں مرکری یا پارے کا لیول بہت زیادہ ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ ایسی مچھلی کے استعمال سے تولیدی صلاحیت میں نقص پیدا ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ مرکری جسم میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے اور اس سے ہونے والے بچے کی ذہنی نشونما میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے ۔ اگر آپ کو سی فوڈ کھانے کا شوق ہے تو جھینگے یا سرمئی مچھلی کھاسکتی ہیں۔
پرسکون رہنے کی کوشش کریں
تھوڑا بہت اسٹریس یا ذہنی دباؤ تو ہم سب ہی کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ معمولی نوعیت کی پریشانی یا بے چینی ہونا عام بات ہے اور اس سے تولیدی نظام پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوتے لیکن یہ ہی اسٹریس اگر حد سے زیادہ بڑھ جائے اور اس سے آپ کی صحت متاثر ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سٹریس آپ کی ماں بننے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے-
شدید ذہنی دباؤ عورتوں میں حمل میں تاخیر یا بانجھ پن کا خطرہ دوگنا کردیتا ہے۔ایسے میں اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل علاج جیسے یوگا وغیرہ آزما کر دیکھیں۔ زیادہ اداس یا افسردہ رہنا خواتین کو بانجھ پن کے خطرے کی جانب دھکیلتا ہے جبکہ ان کے مقابلے میں مطمئین اور پر سکون رہنے والی عورتوں میں ماں بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
متوازن غذا کا استعمال "Use a balanced diet"

اگر آپ ماں بننے کی خواہشمند ہیں تو پھر آپ کو ایسی غذا کا استعمال لازمی کرنے کی عادت ڈالنی ہو گی جو کہ آپ کے ماں بننے کی صلاحیتوں کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکے- اس غذا میں کم چکنائی اور زیادہ پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ کا ہونا اشد ضروری ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ متوازن غذا ہی حمل کے ٹہرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے-
پروٹین کی وجہ سے جلد حمل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔خواتین کو چاہیے کہ اپنے کھانوں میں پروٹین کااستعمال بڑھا دیں۔ انڈے، مچھلی، دالیں، گوشت اور مرغی کا بھرپور استعمال کریں۔ان کی وجہ سے آئرن اور amino acids جسم میں جاتے ہیں اور توانائی ملنے سے ماں بننے میں مدد ملتی ہے۔
قدرتی غذاﺅں کا استعمال: کوشش کریں کہ پراسیسڈ فوڈ سے اجتناب کریں اور قدرتی کھانے استعمال کریں جیسے براﺅن رائس، سرخ چاول، جو اور گندم کااستعمال کریں۔
روزانہ ورزش کا معمول بنائیں

خواتین کو چاہئے کہ جتنا ہو سکے خود کو ایکٹو رکھیں۔۔ ریگولر ورزش کریں۔ ایکٹو رہنے سے حاملہ ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔
صحت مند طرز زندگی گزارنا اور نقصان پہنچانے والی عادتوں سے بچنا ماں بننے کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس امر میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ماں بننے کے تجربے کو خوشگوار بنانے کے لیے ان باتوں کا خیال رکھنا بڑی حد تک مددگار ہوسکتا ہے۔

