Table of Contents
Children’s vaccination injections
بچوں میں پیدائش کے بعد انکو حفاظتی انجیکشن لگوانا بہت ضروری ہے ہمارے ہاں 5 سال سے کم عمر 27 فیصد بچوں کی موت ان بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے جنھیں ویکسی نیشن کے ذریعے روکا جاسکتا ہے- ایک ماں کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ حفاظتی انجیکشن اس کے بچے کے لیے کتنے اہم ہیں.جان لیوا بیماریوں کو کنٹرول اور ختم کرنے کے لیے سب سے زیادہ کارآمد طریقہ حفاظتی ٹیکے ہیں یہ انجیکشن بچوں کے جسم کو ان جان لیوا بیماریوں سے لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں اور انھیں ان بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں یہ ان بیماریوں کو کنٹرول کرتے ہیں جو دنیا بھر میں عام ہیں ان میں تپ دق( T.B) چیچک(small pox)
پولیو(polio)
نمونیا
خسرہ(Measles)
خناق(Diphtheria )
تشنج(Tetanus)
کالی کھانسی(whooping cough)
روبیلا(جرمن خسرہ)، ممپس(گلے کا ایک مرض) ہیپاٹائٹس بی اور ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی شامل ہیں، پینے کے صاف پانی کے بعد ان امراض کو قابو کرنے کا دوسرا موثر طریقہ حفاظتی انجیکشن ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں حفاظتی ٹیکے لگوائیں.

حفاظتی انجیکشن کب اور کس بیماری کے لیے لگاۓ جاتے ہیں
پیدائش کے فورا بعد پہلا ٹیکہ تپ دق یعنی ٹی بی کا لگایا جاتا ہے جو کہ دائیں بازو پر لگتا ہے اور اس کا نشان تاحیات رہتا ہے
اس کے لگانے سے بچہ سینے کی ٹی بی سے 80 سے 85 فیصد جبکہ دماغ کی ٹی بی سے 100 فیصد محفوظ رہتا ہے- شروع میں ٹیکے کی جگہ پر کچھ دکھائی نہیں دیتا لیکن ڈیڑھ ماہ بعد وہ جگہ پھولنا شروع ہوجاتی ہے- اکثر والدین یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں- لیکن یاد رکھیں کہ یہ ایک نارمل بات ہے- اور ٹیکے کی جگہ کا پھولنا اس بات کی نشانی ہے کہ ٹیکہ صحیح لگا ہےاگر یہ جگہ نہ پھولے تو اس کامطلب ہوتا ہے کہ ٹیکہ صحیح نہیں لگا لیکن کچھ عرصے بعد پھولی ہوئی جگہ کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ وہاں صرف ایک نشان رہ جاتا ہے- اور یہ نشان رہنا بھی ضروری ہے اگر یہ نشان نہ ہو تو اس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ٹیکے نے اپنا کام نہیں کیا-
اور اس انجیکشن کے ساتھ ساتھ پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے دوا کے قطرے پلاتے ہیں

6 ہفتے بعددوسرا ٹیکہ جس کو پینٹا کہتے ہیں یعنی یہ پانچ بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے جن میں خناق(Diphtheria)
کالی کھانسی(whooping cough)
تشنج یعنی Tatanus
ہیپاٹائٹس بی
ہیمو فیلس انفلوئنزا شامل ہیں یہ انجیکشن ان بیماریوں سے بچائو کیلئے لگاتے ہیں اور ساتھ پولیو سے بچائو کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں۔
10 ہفتے بعد پھر خناق‘ کالی کھانسی اورتشنج سے بچانے کا ایک ٹیکہ اور ساتھ پولیو کے قطرے دئیے جاتے ہیں
14ہفتے بعد دوبارہ سے خناق‘ کالی کھانسی اورتشنج سے بچائو کیلئے انجیکشن لگاتے ہیں اور ساتھ پولیو سے بچائو کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں
9 ماہ کی عمر میں پہنچنے پر خسرہ سے بچائو کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے ‘ خسرہ کابنیادی سبب ایک وائرس ہے اور اس سے بچائو ممکن ہے‘ یہ صرف ان بچوں کو ٹارگٹ کرتا ہے جو حفاظتی ٹیکے نہ لگوا سکا ہو
بچوں میں حفاظتی انجیکشن لگنے کے بعد کیا اثرات ہو سکتے ہیں

حفاظتی ٹیکوں کے بعد زیادہ تر بچے ٹھیک رہتے ہیں اور کچھ بچوں میں معمولی اثرات آتے ہیں جیسے!
-بچے کو تیز بخار ہونا
-دودھ کم پینا یا کم غذا کھانا
-انجیکشن لگنے کی جگہ سوزش
سوئ لگنے کی جگہ سرخ ہونا یا اس جگہ گلٹی بن جانا
یہ سب اثرات نارمل ہیں جو کچھ ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں اس کے لیے کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں

