What is leucorrhea, and what health problems can it cause?
Table of Contents
اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس کا کیا علاج ہے؟
جس طرح ایک تعلیم یافتہ ماں ایک تعلیم یافتہ نسل کو پروان چڑھاتی ہے اسی طرح ایک صحت مند عورت ہی ایک صحت مند نسل کو جنم دے سکتی ہے ۔
مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شرم و حیا کے سبب بہت ساری لڑکیاں اور خواتین بھی اپنے پوشیدہ امراض کے حوالے سے تزبزب کا شکار رہتی ہیں اور کسی کو بتا نہ سکنے کے سبب نہ صرف خود بھی تکلیف اٹھاتی رہتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسل کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں
ان بیماریوں سے سب سے عام بیماری لیکوریا یا پھر سیلان رحم ہے ۔ یہ بزات خود کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے سبب ظاہر ہونے والی ایک علامت ہے ۔
What is leucorrhea? لیکوریا کیا ہے؟

سیلان رحم یالیکوریا (leukorrhea) کوئی بیماری نہیں بلکہ کئی بیماریوں کا بطور نتیجہ اور ساتھ ساتھ یہ کئی نئے ہونے والے انفیکشن اور بیماریوں کی وجوہات ہوسکتی ہے۔یہ خواتین کے اندام نہانی یعنی ویجائنہ سے بہنے والا سفید یا پیلے رنگ کا مادہ ہوتا ہے۔
اگر چہ یہ ڈسچارج جینیٹل صحت کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ہے لیکن خارج ہونے والے مادہ میں تبدیلیوں کو روکنے کے لئے طبی توجہ کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے۔تاکہ انفیکشن سے بچاجاسکے۔اس ڈسچارج کااصل مقصد جسم سے نقصان دہ بیکٹیریا اوردیگر حیاتیات کاجسم سے نکلنا ہے۔
اگر یہ ڈسچارج سفید اور بدبو کے بغیر ہو تو نارمل سی بات ہے لیکن اگر یہ گاڑھا اور بدبو دار ہو تو لیکوریا ہے۔لیکوریا کی عام طور پر دواقسام ہوتی ہیں۔پہلی فزیولوجیکل اور دوسری پیتھولوجیکل ۔
فزیولوجیکل لیکوریا سے مراد جسمانی عوامل جیسے جوش و خروش یاگھبراہٹ ہیں۔مثال کے طور پر لڑکیوں میں بلوغت کے دوران ہارمونل تبدیلیاں، اوویولیشن سائیکل اورکم عمری میں حمل اور سیکسشوئل ایکسائٹمنٹ وغیرہ
2۔پیتھولوجیکل لیکوریا نامناسب غذا اور صحت کی خرابی کے باعث ہوتا ہے۔ جینیٹل ٹریک انفیکشن بھی اسکی بڑی وجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ نفسیاتی عوامل کا بھی نتیجہ ہوسکتاہے۔
لیکوریا خواتین میں پائی جانے والی ایسی بیماری ہے جوانھیں دیمک کی طرح اندرسے چاٹ جاتی ہے۔لیکوریا خواتین کے تولیدی نظام میں ایک یاایک سے زائد اعضاء کومتاثرکرسکتاہے۔جسم میں ٹاکسن کاجمع ہوناغیرمعمولی نہیں اس کاسبب ناقص،غیرمتوازن غذااورنامناسب طرز زندگی ہے۔
لیکوریاجیسی بیماری پرخواتین کوفوری طبی توجہ دینی چاہئے بصورت دیگربیماریوں اورانفیکشن کے خطرات میں اضافہ ہوجاتاہے۔ لیکوریا کیا ہے اور اسکی وجوہات کیا ہیں یہ تو خواتین کی بڑی تعداد جانتی ہیں لیکن اس سے صحت پر ہونے والےنقصانات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اگرکوئی اس بیماری کی علامات میں مبتلا ہے تو بغیر کوتاہی برتے وہ اپنا بر وقت علاج کروائیں اور اس بیماری سے نبرد آذما ہوسکے۔
لیکوریا کی علامات

اسکی علامات ہر خاتون میں مختلف ہوسکتی ہیں لیکن بعض میں ایک ساتھ کئی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔جو مندرجہ ذیل ہیں۔
اندام نہانی سے سفید یا پیلا اور بدبودار مادہ کا اخراج ،پنڈلیوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد،پیٹ کے حصے میں بھاری پن، کا نہ ٹھہرنا، بھوک نہ لگنا، کے افعال میں کمی، وزن کا تیزی سے گھٹنا ، لو بلڈ پریشر ، اداسی ، بانجھ پن، نسوانی حسن میں کمی ، چہرے کی بے رونقی ،
سستی اور کاہلی، جلدی غصہ آنا، دل ڈوبنا وغیرہ۔ یہ تمام مسائل لیکوریا کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس کے علاؤہ اندام نہانی میں خارش، قبض، بار بار سردرد، عمل انہضام کے مسائل، چڑچڑاپن، آنکھوں کے نیچے جلد پر کالے حلقے عام علامات ہیں۔
لیکوریا کی وجہ سے ہونے والے صحت کے مسائل

پیروں میں درد
جب کسی لکڑی میں دیمک لگ جائے تو وہ کمزور ہوجاتی ہے۔ اسی طر ح اگر کسی عورت کولیکوریا کی شکایت ہوجائے تو وہ بھی اندرونی طور پر کمزور ہوجاتی ہے جس کے باعث اس کی ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں پیر اور گھٹنے درد کرنے لگتے ہیں اور یہ درد اکثر شدید ہوجاتا ہے۔
آنکھوں کے نیچے ہلکے
آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑنا کوئی عام بات نہیں اگر تو آپ کو نیند پوری نہیں لیتی تو یہ اس کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کی ایک اہم وجہ لیکوریا بھی ہے۔جسمانی کمزوری مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے جن میں سے ایک آ نکھوں کے نیچے حلقے پڑنا بھی ہیں۔
تھکاوٹ اور چڑچڑاپن
خواتین کی اکثریت مسلسل تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کا شکار رہتی ہے۔بے شک اسکی وجہ گھریلو مسائل اورمصروفیت بھی ہوسکتی ہیں لیکن اس میں لیکوریا جیسی بیماری بھی پوشیدہ ہے۔جسم کے اندرونی معاملات ظاہر ہونے کی مختلف علامات ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے۔
سر اور کمردرد
اگر عمارت کمزور ہوجائے تو بلڈنگ کھڑی نہیں رہ سکتی آہستہ آہستہ اس عمارت کے حصے اپنی جگہ چھوڑنے لگتے ہیں۔بالکل اسی طرح لیکوریا کے باعث کمر اورسر میں درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔یہ بیماری آپ کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
جینیٹل پرابلم
لیکوریا کوئی عام بیماری نہیں بلکہ خاص توجہ طلب مسئلہ ہے۔یہ بیماری مختلف جینیٹل مسائل پیدا کرسکتی ہے۔یہ ڈسچارج ایسٹ اوربیکٹیریل انفیکشن کے سبب اور اس میں اضافہ کا باعث بھی بنتا ہے۔اس کے سبب خارش،سوجن،جلن اورزخم جیسے مسائل ہوسکتے ہیں۔
صحت وصفائی کے مسائل
لیکوریا کے سبب نہ صرف آپ کی صحت بلکہ صفائی کا حصول بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔پاکیزگی کا احساس نہ ہونا ذہنی ٹینشن کاسبب بنتا ہے۔اگر آپ کسی بھی ایسے مسئلے کا شکار ہیں توابتداء میں ہی اس کاعلاج کریں تاکہ خوشگوار اور صحت مند زندگی پاسکیں۔
جسمانی اعضاء کی ناقص کارکردگی
جب جسم میں ٹاکسن جمع ہو جاتے ہیں اور جسمانی اعضاء جیسے گردے ،آنتیں اور جلد جسم سے ان ٹاکسن کو نکالنے میں ناکام ہوتے ہیں تو نتیجتاّ جسم ان ٹاکسن کواندام نہانی سے ڈسچارج کی شکل میں خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکوریا کی کیا وجوہات ہیں؟
-نامناسب طرز زندگی اور غیر متوازن کھانے کی عادات
-صدمہ اور پریشانی
-حسدورقابت
-رحم یعنی یوٹرس کے نچلے گردن نما حصے کاورم
-ہارمونل عدم توازن
-بار بار اسقاط حمل ہونا
-جینیٹل زخم جو اضافی کھجلی کاسبب بنتے ہیں۔
-نامناسب جینیٹل ہائیجین -بیکٹیریل اورفنگل انفیکشن -بدہضمی، قبض ہونا
-خون کی کمی ہونا
-ذیابیطس
-کثرت حیض
-زیادہ مباشرت کرنا
-نوجوان لڑکیوں میں یہ حیض شروع ہونے کے ایک سال پہلے یا ایک سال بعد ہوسکتا ہے۔ بہت سی خواتین ڈلیوری کے بعد اس مرض کا شکار ہوجاتی ہیں۔اسطرح کے معاملات یوٹرائن انفیکشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اندام نہانی میں سوزش بھی اسکا سبب بنتی ہے۔اسکے لئے فوری طور پر طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دیگر بیماریوں اور انفیکشن سے بچاجاسکے۔
لیکوریا کا کیا علاج ہے؟

اس مرض کی علامات کی نشاندہی ہی اس کے علاج میں پہلا قدم ہے۔ڈاکٹر اس مرض کی وجہ کے مطابق ادویات تجویز کرتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ اس مرض کا گھریلو علاج بھی محفوظ طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ان میں سے کوئی بھی ایک طریقہ علاج جو آپ آسانی سے کرسکیں اپنائیں
1-کیلا اس مرض میں مفید ہے کیلا کھا کر دودھ میں شہد ملا کر پیئیں۔یا ایک کیلے پر چند قطرے اصلی گھی یا صندل کی لکڑی کا تیل لگا کر صبح و شام دس دن تک استعمال کرسکتی ہیں۔اگر یہ بھی مشکل ہو تو صرف دو کیلے اور تین چمچ شہد ملا کر کھا لیں۔
2-چار گلاس پانی میں دو سے تین چائے کے چمچ میتھی دانہ ڈال کر آدھے گھنٹے تک پکا کر چھان کر پی لیں۔
3-زیرہ بھون کر اگر خالی نہ کھایا جائے تو تھوڑی سی چینی ملاکر کھالیں۔
4-رات میں ایک گلاس پانی میں ایک چمچ ثابت دھنیا بھگو دیں۔اور صبح خالی پیٹ پی لیں بہترین نتائج کے لئے ایک ہفتہ تک استعمال کریں۔
5-سوگرام مونگ توے پر بھون کر پیس کر شیشی میں بھر کر رکھ لیں۔روزانہ ایک کپ پانی میں آدھا کپ چاول بھگودیں۔پانی چھان کر ایک چمچ مونگ کا پاؤڈر حل کر کے روزانہ ایک بار پی لیں۔
6-دس گرام سونٹھ ایک گلاس پانی میں ڈال کر اتنا پکالیں کہ ایک چوتھائی پانی رہ جائے ۔چھان کر پی لیں تین ہفتے تک استعمال کریں۔
7-عام صورت میں ایک ایک چٹکی پسی ہوئی پھٹکری صبح، دوپہر اور شام کو پانی کے ساتھ لینے سے لیکوریا یا سیلان رحم ختم ہوجاتا ہے ۔
آپ کیا کھاتی ہیں یہ اس مرض میں اہم ہے۔کم از کم دہی کا استعمال روزانہ کریں۔مختلف انفیکشن اور بیماریوں سے بچنے کے لئے مکمل صفائی اور ہلکی ورزش کریں۔۔
-قبض سے بچیں چائے،کافی ،میدہ ،تلی ہوئی مصالحے دارمرغن اشیاء ترک کریں اور پھل سبزیاں استعمال کریں۔سیلان الرحم کی مریضہ کو غذا میں دودھ ، کیلا اور تازہ رس والے میٹھے پھلوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ انگور اس میں بالخاصہ مفید ہے۔
غصہ ،رنج و غم، ذہنی پریشانیوں سے جس حد تک ہوسکے بچیں۔
ہلکا اور زود ہضم کھانا کھائیں۔
بھاری ثقیل کھانے، مباشرت، پریشانی، صدمہ، غصہ، حسد و رقابت وغیرہ سے خود کو بچائیں ۔
ترکش اور مصالحے دار کھانوں سے پرہیز کریں
کھٹّی، بادی، تیز گرم اشیاء سے پرہیز لازمی ہے۔
لیکوریا کی وجہ سے عورت اندر ہی اندر آہستہ آہستہ کھوکھلی ہوتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی صحت تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ لیکوریا عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ کم سنی ہو یا سن یاس کا زمانہ۔۔ اس لیے اسکا علاج بروقت کروانا نہایت ضروری ہے

