ماہواری شروع ہونے سے پہلے کا ڈپریشن قبل از ماہواری سینڈروم (premenstrual syndrome) کیا ہے؟

An Image of Premenstrual Syndrome (PMS)

Table of Contents

What are the symptoms of this syndrome?

An Image of What Are the Symptoms of this syndrome?

اس سینڈروم کی کیا علامات ہیں؟ اور اس کے لیے کیا احتیاط ہے؟

 

پیریڈز اپنے ساتھ بہت سے مسائل اور اندیشے لے کر آتے ہیں۔ایک قدرتی مسئلہ ہونے کے باوجود خواتین ان مسائل کو قبول نہیں کر پاتی۔ہر عورت کے ہارمونز مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے سب میں ہارمونز کے مسائل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کسی میں ہارمونز بدلنے کی رفتار تیز ہوتی ہے اور کسی میں انتہائی آہستہ ہوتی ہے۔ ہارمو نز کی تبدیلی ماہواری سے دس دن پہلے ہونے لگتی ہے۔ جن میں سے اکثر خواتین کو یہ تبدیلی اسی دن سے محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہارمونز کی یہ تبدیلی کی وجہ سے کسی بھی بھی طرح کا بخار، ٹانگوں میں درد، پیٹ درد، چڑچڑا پن، مہاسوں کا نکلنا، چھاتی کا بھاری ہونا اور ڈپریشن جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

ماہواری میں ہونے والے مسائل میں سب سے زیادہ ہونے والا مسئلہ ڈپریشن ہے۔ اس دوران خون کا بہاؤ تیز، تکلیف کا احساس زیادہ اور چڑچڑے پن ہو جاتا ہے۔ پیریڈز شروع ہونے سے پہلے بہت سی خواتین ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں ۔انکے لئے یہ پیریڈ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتا۔ بہت سی خواتین اس مسئلے کا انتہائی حد تک شکار ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا گھر اور ساتھ رہنے والے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

خواتین کی یہ حالت پری مینسٹرل سینڈروم یعنی پی ایم ایس یا پھر عام زبان میں پیریڈز سے پہلے کا سینڈروم کہتے ہیں۔۔

قبل از ماہواری سینڈروم  یا PMS ایک عام ذہنی حالت ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہر 10 میں سے 6 خواتین پیریڈز سے پہلے PMS کی علامات محسوس کرتی ہیں۔ ان میں 3 سے 8 خواتین میں یہ علامات سنگین نوعیت کی ہوتی ہیں۔

قبل از ماہواری سینڈروم

An image of the PMS cycle

پی ایم ایس یا پری مینسٹرل سینڈروم کیا ہے؟

 

پی ایم ایس وقفے وقفے سے محسوس ہونے والی جسمانی بے سکونی کے ساتھ ساتھ عورت کی نفسیات اور رویے میں تبدیلی کو کہتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں خواتین ماہواری سے پہلے محسوس کرتی ہیں۔ PMS پیریڈز سے ایک سے دو ہفتے پہلے نمودار ہوتا ہے اور پیریڈز ختم ہونے کے فوری بعد غائب ہو جاتا ہے۔ سنگین کیسوں میں اس سینڈروم سے روزمرہ کے کاموں، روزمرہ کی زندگی اور دوسرے لوگوں سے تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔ 

پی ایم ایس کی علامات کیا ہیں؟

 

✓وزن بڑھنا

✓سر درد

✓تھکان اور کمزوری

✓چھاتیوں کا سوجھ جانا

✓اچانک مزاج تبدیل ہونا اور چڑچڑاپن

✓معمول سے زائد حِسّاسیت

✓ناراضگی اور چڑچڑاہٹ

✓تشویش

✓تناؤ

✓ڈپریشن

✓رونا

✓ایکنی(چہرے پر دانے

✓توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات یعنی کسی کام پر concentrate کرنے میں مشکل پیش آنا

✓بھلکڑ پن 

✓کسی بھی بات پر غیر متوقع اور اچانک ردِ عمل دینا 

✓سونے میں مشکلات، بے خوابی یا نیند میں رہنا

✓بھوک میں تبدیلی اور کھانوں کی پسند ناپسند میں تبدیلی 

✓زیادہ میٹھی اور زیادہ چکنائی والی چیزوں کی طلب

پی ایم ایس کیوں ہوتا ہے؟

An image of precautions for PMS cycle

اس کی دو قسم کی وجوہات ہیں

جسمانی وجوہات میں ہارمونز کا غیر متوازن ہونا

نفسیاتی و سماجی عوامل میں

روزمرہ زندگی میں ذہنی دباؤ اور زندگی کے حوالے سے سوچ  PMS ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جدید دور میں خواتین کو معاشرے اور خاندان میں جو کردار نبھانے پڑتے ہیں اور ان کے لیے جس  دباؤ سے انھیں گزرنا پڑتا ہے، وہ بھی PMS ہونے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسی خواتین جو کم ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اپنی مختلف زمہ داریاں کامیابی اور سہولت سے نبھا رہی ہیں، ان میں PMS کی علامات بھی کم شدید حالت میں نظر آتی ہیں۔ اس کے برعکس، وہ خواتین جو اپنی زمہ داریوں کے حوالے سے تضاد کا شکار ہیں اور اپنی زندگی سے غیر مطمئن ہیں، ان میں PMS علامات کی رونمائی اور شدت بھی زیادہ ہے۔

 

کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو ہونے والا ڈپریشن پی اہم ایس کی وجہ سے ہے یا نہیں؟

 

اِن علامات کی تشخیص کے لئے کوئی لیباریٹری ٹیسٹ دستیاب نہیں ہیں۔ آپ کی ڈاکٹر ہی اس بات کا جائزہ لے سکتی ہیں کہ آپ کو ہونے والا ڈپریشن  periods شروع ہونے سے پہلے ہی رہتا ہے یا مستقل۔آپ کا ڈپریشن کا دورانیہ کب سے کب تک کا ہوتا ہے اس کے علاؤہ آپ میں پی ایم ایس کی علامات پانچ یا اس سے زائد پائی جاتی ہیں یا نہیں ؟

اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کو پی ایم ایس ہو سکتا ہے تو آپ کوچاہئے کہ اپنی دو ماہ کی ماہواری کے درمیان ہونے والی کیفیت کاجائزہ لیں اور انھیں نوٹ کریں۔ان علامات کو مکمل طور پر نوٹ کریں کہ یہ علامات کب سے کب تک ظاہر ہوتی ہیں اور کب ختم ہوتی ہیں۔

اگرآپ کو پہلے ہی سے ڈپریشن اور کشیدگی کے مسائل کا سامنا ہے اور (periods) شروع ہونے سے پہلے ان مسائل میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے تو آپ کو PMS نہیں سمجھا جائے گا۔

ایسی صورتحال میں ڈاکٹر پہلے آپ کے ڈپریشن کا علاج کرے گی اس کے بعد ہی وہ اس صورتحال کا صحیح  طور پر جائزہ لینے کے قابل ہو پائے گی کہ آیا آپ PMC کے مسئلے کا شکار ہیں یا نہیں۔

پی ایم ایس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

An Image of PMS Cycle Precautions and Treatment

 طرز زندگی میں تبدیلی  

 

ورزش کواپنی روٹین میں شامل کریں کیونکہ ورزش عام طور سے موڈ کو خراب ہونے سے بچانے اور pre menstrual 

پری مینسٹرل علامات میں کمی لانے میں مددگار رہتی ہے

ایروبک ورزش جیسا کہ جاگنگ، ایروبک ڈانس، سیڑھیاں چڑھنا اس کے ساتھ ساتھ کھنچاؤ کی ورزش جیسا کہ یوگا اور جسم کو ہلکا پھلکا کھنچاؤ دینا ۔ اس سے جسم میں خون کی گردش تیز ہوتی ہے، پٹھے راحت حاصل کرتے ہیں اور دماغ تروتازہ ہو جاتا ہے جس سے PMS  کی علامات میں کمی آ جاتی ہے۔

 

غذا میں تبدیلی

 

اپنی غذا سے چینی اور کیفین کو کم کر دیں اور اہم غذائی اجزاء کی سطح بڑھانے پر توجہ دیں۔ایک مطالعہ کے مطابق 600 ملی گرام کیلشیم دن میں دو دفعہ لینے سے اور مچھلی کے تیل کے استعمال سے ان مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔بہت سا کھانا ایک وقت کھانے کے بجائے وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کرکے کھائیں۔ زیادہ نمک والی غذائیں، محفوظ کردہ خوراک ، 

زیادہ چکنائی والی غذائیں اور زیادہ چکنائی والی منصوعات مکھن اور پنیر وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں۔ 

سیرل وغیرہ کا ناشتہ ، سفید روٹی،  دلیہ ،مکئی،سبز پتوں والی سبزیاں ،گاجر ، گریاں اور  کاجو، مونگ پھلی، وغیرہ کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ 

 

مانع حمل کی ادویات

 

برتھ کنٹرول پلز جسمانی اورجذباتی صلاحیت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی ادویات جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے نقصان کا سبب بنتی ہیں اسی لئے قابل اعتماد ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر یہ پلز استعمال نہ کریں۔

 

نفسیاتی علاج

اس میں سٹریس ریلیف اور ریلیکس کرنے کی ایکسرسائز شامل ہیں۔ اس علاج کے ذریعے لوگوں کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ تھراپی premenstrual علامات میں بھی موثر ثابت ہوتی ہے۔

 

اِن باتوں پر عمل کرنے سے کچھ خواتین کو فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔مزید یہ کہ بعض مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وٹامن B6، وٹامن E، کیلشیم ،اور میگنیشیم کو سپلیمنٹ کے طور پر لینے سے بھی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن بعض عورتوں میں یہ علامات بہت شدید ہوتی ہیں اور اُنہیں ڈاکٹر کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔

کیا آپ کو حیض کے دوران حدسے زیادہ درد ہوتا ہے اگر ہاں تو اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس کے لیے آپ کیا کر سکتی ہیں ؟

An image of "Do you experience excessive pain during menstruation?"

"Additionally, when and how should sanitary pads be used, and what precautions should be taken?"

مہینے میں ایک دفعہ پیریڈز ہر لڑکی کے لئے ذہنی تناؤ اور جسمانی تھکان کا باعث ہوتے ہیں ۔جہاں یہ مخصوص ایام لڑکیوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں وہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ماہواری ایک قدرتی عمل ہے اور اس قدرتی عمل کے باعث خواتین کا جسم ناپاکی اور مختلف بیماریوں سے پاک ہوتا ہے ۔

پیریڈز کا سلسلہ مسلسل مستقل اور باقاعدہ ہونا عورت کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ بعض خواتین کو پیریڈز کے دوران برداشت سے زیادہ درد ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مہینہ کے مخصوص ایام میں اپنی روزمرہ کی ذمہ داریاں نبھانے میں مشکل محسوس کرتی ہیں اور ان پر بیماری کی سی کیفیت حاوی ہو جاتی ہے۔

پیریڈز کے دوران ہونے والے درد کی وجوہات

An Image of Causes of Pain During Periods

پیریڈز کے دوران درد دو طرح کا ہوتا ہے

اجتماع خون کا ماہواری درد

یہ درد شادی شدہ عورتوں میں بچہ دانی کے اردگرد کے اعضاء میں ہوتا ہے ۔ پیریڈز کا یہ درود پیریڈز سے تین چار دن پہلے سے شروع ہو جاتا ہے اور پیریڈز شروع ہونے کے ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے ۔کم محنت کرنے والی عورتیں یا جو ایکٹو نہیں رہتی ان کو یہ درد زیادہ ہوتا ہے ۔

 عضلات کے سکڑنے کا ماہواری کا درد

یہ درد کنواری لڑکیوں کو زیادہ ہوتا ہے ۔یہ درد اس وقت تک رہتا ہے جب تک لڑکی پریگنینسی کے پیریڈ سے نہ گزرے ۔اس درد میں جی متلانا ، کپکپی اور قے بھی آتی ہے ۔

یاد رکھیں کہ پیریڈز کے دوران حد سے زیادہ درد ہونا بعض اوقات کسی خاص مسئلہ کی طرف اشارہ بھی ہو سکتا ہے جیسے خون کی کمی، بچے دانی کا چھوٹا ہونا ،تولیدی اعضاء کے تمام حصوں کا صحیح سے کام نہ کرنا ،ہارمونز کا توازن کھو دینا ،اعصابی کمزوری ، سوڈیم ،پوٹاشیم اور غذا میں توازن قائم نہ رہنا ۔ وہ خواتین جنھیں شروع سے ہی پیریڈز کے دوران درد ہوتا ہے انھیں ہر دفعہ پین کلر کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے لیکن وہ خواتین جنھیں پہلے تو درد نہیں ہوتا تھا لیکن اب پیریڈز میں درد شدت سے بڑھ رہا ہو انھیں ٹوٹکوں اور دواؤں کے استعمال سے پہلے کسی اچھی گائنی ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہئے ۔

پیریڈز کے دوران اگر درد ہو تو کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

An Image of What precautions should be taken if there is pain during periods

-جن خواتین کو پیریڈز کے درد کی شکایت ہو انھیں  کیفین چٹپٹی چیزیں ،چاول اور کولڈ ڈرنک کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے ۔

-پیریڈز کے دنوں میں چست اور تنگ کپڑے نہیں پہننے چاہئیں

تاریخ سے چار دن پہلے نمک کی مقدار کم کر دیں اور ہلکی پھلکی ورزش شروع کر دیں

-خاص دنوں میں بہت زیادہ آرام کرنے سے یا مشقت کرنے سے بچنا چاہئے

سپلیمنٹ کا استعمال

وہ خواتین جنھیں پیریڈز کے دوران بے انتہا درد برداشت کرنا پڑتا ہے انھیں روزانہ کیلشیم اور میگنیشیم کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہئے ۔یہ وہ نیوٹرینٹ ہیں جو پٹھوں کو سکون دیتے ہیں جس سے پیٹ کے نچلے حصہ کے پٹھوں کو سکون ملتا ہے ۔روزانہ 1000 ملی گرام کیلشیم اور 500 ملی گرام میگنیشیم سپلیمنٹ کا استعمال یقینی بنانے سے پیریڈز کے درد کو کم کیا جا سکتا ہے ،وہ خواتین جنھیں کیلشیم سپلیمنٹ کے استعمال سے موشن لگنے کی شکایت ہو جائے انھیں کیلشیم کاربونیٹ کی جگہ کیلشیم سٹریٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔

گرم پانی کا استعمال 

کنواری لڑکیوں کو اور ان خواتین کو جنھیں پیریڈز کے شدید درد کی شکایت ہو انھیں زیادہ ٹھنڈے پانی کے استعمال سے مستقل پرہیز کرنا چاہئے ،ٹھنڈی غذاؤں اور ٹھندے پانی کے استعمال سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس سے درد میں اضافہ ہوتا ہے ،وہ خواتین جنھیں پیریڈز کی کمی یا کثرت کے باعث درد ہو انھیں بادی ،ٹھنڈی غذاؤں اور ٹھنڈے پانی کا استعمال ترک کر دینا چاہئے- سادہ یا ہلکا گرم پانی پینے اور گرم پانی سے نہانے سے پیٹ اور کمر میں ہونے والا درد ختم ہوتا ہے اس کے علاوہ گرم کپڑے سے سینکائی کرنے سے بھی پیریڈز کے درد میں کمی آتی ہے ۔

 مساج

ماہواری کے درد میں پیٹ کے نچلے حصے میں اگر ہلکے گرم تیل سے دونوں ہاتھوں سے گول دائرہ میں مالش کی جائے تو درد میں آرام آتا ہے اور پیروں میں جو درد اور اکڑاؤ ہوتا ہے وہ بھی دور ہو جاتا ہے ۔- پپیتے کا استعمال

 پپیتے کو پیریڈز کے دوران استعمال کرنا تجویز کیا جاتا ہہے ۔پپیتے میں پپائن جز پایا جاتا ہے پیریڈز کی رکاوٹ کو دور کر کے درد کو فوری دور کرتا ہے ۔

ایلوویرا

ایلوویرا جیل کو باریک پیس کر اس میں ہم وزن شہد کی مقدار ملا کر پینے سے بھی پیریڈز کے درد میں راحت ملتی ہے

 مولی

مولی کے بیجوں کو پیس کر چار چار گرام صبح ،دوپہر اور شام گرم پانی سے پھانکنے سے ماہواری کھل کر آتی ہے اور درد ٹھیک ہو جاتا ہ

-سونٹھ

جن کنواری لڑکیوں کو ماہواری میں درد ہوتا ہو انھیں سونٹھ اور گڑھ کا قہوہ بنا کر پینا چاہئے

 نیم

اگر ماہواری کے دنوں میں ٹانگوں اور پیٹ میں درد ہو تو نیم کے پتے اور ادرک کا رس ملا کر پینے سے درد میں فوری آرام آتا ہے

 گاجر

ماہواری کے درد میں وٹامن اے جو کہ گاجر میں پایا جاتا ہے۔۔ گاجر کا استعمال مفید ہوتا ہے ۔دو چممچ گاجر کے بیج ایک چمچ گڑ ایک گلاس پانی میں ابال کر روزانہ صبح شام گرم کر کے پئیں ،تو اس سے ماہواری میں ہونے والا درد ٹھیک ہو جاتا ہے ۔

اب بات کرتے ہیں سینٹری پیڈز کا استعمال اور احتیاط کے بارے میں

An image of the use of sanitary pads and the precautions

بارہ سال کی بچی ہو یا 35 سال کی عورت ،ماہواری کے دوران صفائی اور صحت کے اصول اپنانا بہت ضروری ہے ،وہ عورت جو گاؤں ،دیہات میں رہتی ہو یا شہر میں رہتی ہو ماہواری کے دوران نیپکن کے استعمال کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے لہذا پیڈز کے استعمال کے صیح طریقے اور چند احتیاطی تدابیر ضرور ذہن میں رکھیں ۔

 

-پیریڈز کے وہ خاص دن جن میں بہاؤ تیز ہو ان دنوں میں خاص کمرشل پیڈز جیسا کہ ونگس والے پیڈز ، اوور نائٹ پیڈز  کا استعمال کریں اور باقی کے دوسرے دن دوسرا برینڈ استعمال کر سکتی ہیں ۔ مگر جلدی جلدی نئے برینڈز استعمال کر کے خود کو غیر اطمینان بخش صورت حال میں ہر گز نہ ڈالیں۔

 

-پیڈز تبدیل کرنے کا ایک معیاری وقت ہر 7 گھنٹہ بعد ہے ،وہ خواتین جن کا بہاؤ تیز ہو انھیں ہر تین گھنٹہ بعد پیڈ تبدیل کرنا چاہئے

 

-پیریڈز کے دوران صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اور گندگی دیر تک لگے رہنے کی وجہ سے ایک خاص بو پیدا ہونے لگتی ہے لہذا پیڈ تبدیل کرنے سے پہلے نیم گرم پانی سے جسم کو اچھی طرح دھو کر خشک کر لیں ۔ اگر جسم کو دھونا ممکن نہ ہو تو حساس جگہوں کو اچھی طرح صاف کپڑے سے پونچھ لینا چاہئے ۔

 

-ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ماہواری کے دوران غسل نہیں کرنا چاہئے ،اکثر خواتین نارمل ڈلیوری کے بعد پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتی ہیں اس کی وجہ صفائی کا خیال نہ رکھنا اور چھ سات دن تک غسل نہ کرنا ہے ۔ ۔،اگر ماہواری کے دوران صحت اور صفائی کا بھر پور بندوبست ہو تو غسل کی واقعی ضرورت نہیں رہتی البتہ نیم گرم پانی میں نمک ملا کر جسم پر بہانے سے ٹانگوں کی اینٹھن اور پٹھوں کا کھنچاؤ کم کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن ماہواری کے دوران غسل کے بعد جسم کو خشک کرنا نہایت ضروری عمل ہے ۔

 

-خوشبو دار پیڈز استعمال کرنے سے گریز کریں کیوں کہ اس پر موجود کیمیکل جلد کی حساسیت میں اضافہ کر دیتے ہیں ایسے نیپکن استعمال کریں جس میں خوشبو کم اور روئی کہ نرم تہہ موجود ہو تا کہ جسم کے چھلنے کا امکان کم رہے

 

-ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ بچیوں کو سخت تاکید کریں کہ وہ ایک پیڈ کے اوپر دوسرا پیڈ ہر گز استعمال نہ کریں ۔

An image of the use of sanitary pads and the precautions

-زیادہ تر ڈاکٹر آرگینک پیڈ استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں اس لئے اگر بہاؤ زیادہ نہ ہو تو کمرشل پیڈز استعمال کرنے سے گریز کریں ، روزانہ ونگس والے پیڈ استعمال کرنے سے جلد چھل سکتی ہے اور اس کی جگہ گھر میں دستیاب صاف کپڑوں یا تولیوں کے ٹکڑوں کو استعمال کریں ۔ گھر کے پیڈز استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ گندے ہوں تو انفیکشن ہو سکتا ہے اس لئے گھر کے پیڈز استعمال کرنے سے پہلے انھیں اینٹی سیپٹک محلول سے دھو لیں ۔

 

-جب ماہواری کی تاریخ نزدیک آنے لگے تو اپنے بیگ میں چند چیزیں ضرور رکھیں ( ایک سے زائدپیڈ ۔،ٹشو پیپر ،وائپس ، صاف تولیہ ،پانی کی بوتل ، اور ہینڈ سینیٹائزر )

 

-ماہواری کے دوران جسم کے مخصوص حصوں کو صابن یا اینٹی بیکٹیریل محلول سے صاف کرنے سے گریز کریں ،صرف نیم گرم پانی سے ہی جسم کو صاف کریں اس بات کا خیال رکھیں کہ پانی بہانے کے بعد ہاتھ الٹی سمت میں نہ جائے ،اوپر سے نیچے کی طرف ہی ہاتھوں کی سمت ہونی چاہئے ۔

 

-پیڈز کو ضائع کرنے کے لئے واش روم میں ٹوائلٹ پیپر اور چھوٹی تھیلیاں رکھیں تاکہ پیڈز استعمال کرنے کے بعد تھیلی یا پیپر میں لپیٹ کر ضائع کئے جا سکیں ۔

 

-پیڈ وقت پر تبدیل نہ کئے جائیں تو انڈر گارمنٹ کے کناروں پر ناپاکی لگی رہے جاتی ہے جو جسم پر خراش یا ریش کر سکتی ہے ۔اگر ریش ہونے کی صورت میں زیتون کا تیل ،یا چکنا مرہم فوری طور پر لگا لیا جائے تو انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔

 

-پیڈ تبدیل کرنے کے بعد تو ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن پیڈ تبدیل کرتے وقت بھی ہاتھ ضرور دھو لیں

 

-گرمیوں میں ہر روز انڈر گارمنٹ تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ پسینہ زیادہ دیر تک لگا نہ رہے ۔

بچوں کا ضد کرنا وجوہات اور اس کا حل

An Image of "Children’s stubbornness—causes and solutions"

Table of Contents

والدین کے لئے یہ ایک بڑا خوفناک تجربہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ باہر جائیں یا کسی سپر مارکیٹ میں شاپنگ کے لئی نکلیں اور وہاں ان کے بچے ان کو شرمندہ کروانے کا باعث بن جائیں۔سب کے سامنے ان کی ضد ،ان کا غصہ،ان کا مچلنا ،انکا رونا آپ کو شرمندگی کے سمندر میں ڈبو دیتا ہے ،اس وقت آپ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کس طرح کا ردِعمل ظاہر کریں۔بچے کو ڈانٹیں ،ڈپٹیں یا پیار سے سمجھائیں ؟اس وقت آپ بڑی بے بسی محسوس کرتے ہیں جب بچے اپنی ضد پہ ہوتے ہیں ۔یہاں ہم اس صورتحال سے بچنے کے کچھ طریقے بتا رہے ہیں ۔

بچوں کی تربیت زندگی کا ایک مکمل الگ شعبہ ہے اور المیہ یہ ہے ہم غم روزگار میں اسے وہ مقام نہیں دے پا رہے جیسا کہ دینا چاہیے. بچے ضد یا تو اپنی محرومیوں کے سبب کرتے ہیں یا پھر وہ خداداد تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ تخلیقی استعداد کے مالک بچے اول دن سے ہی معاملات کو الگ انداز میں دیکھتے ہیں، وہ حقائق کو جان لینے کے مشتاق ہوتے ہیں۔ انہیں حقائق کو جان لینے کا پورا حق ہونا بھی چاہیے اور وہ ہمیشہ جان کر ہی رہتے ہیں۔ اب ہم تشخیص کے اس سفر کے ساتھ ساتھ بچے کو اس ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھنے پر بھی بات کریں گے 

اپنے بچے کو جا ننے کی کوشش کریں

An image of Try to understand your child.

 

آپ ایک لمحے کے لیے آ نکھیں بند کریں، اپنے بچے کو بطور انسان اور ایک مکمل شخصییت دیکھیں اور سوچیں کہ کیا آپ اسے جانتے ہیں؟ عین ممکن ہے آپ کے لیے ابھی بھی یہ سوال غیر اہم ہو اور اگر ایسا ہے تو آپ کبھی بھی اپنے بچے کی درست تربیت نہیں کر پائیں گے۔ بچے کی خواہشات اور انداز فکر کو جاننا بے حد ضروری ہے، یہی دراصل تشخیص ہے۔ آپ کا بچہ جو کر رہا ہے، وہ کیوں کر رہا ہے؟ وہ اس سے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اسے جانے بغیر ہم اس کے مسائل کا بہتر حل کبھی تلاش نہیں پائیں گے۔ اس کے بغیر وقتی جگاڑ تو بہرحال لگا سکتے ہیں لیکن اس کی ذہنی نشونما نہیں کر سکتے۔

اپنے بچے کو اہمیت دیں

An Image of Giving Importance to Your Child

ایک بچہ توجہ اور اہمیت چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے، مانی جائے اور اسے سراہا بھی جائے۔ اسے اچھے کاموں پر سراہنا کوئی بڑی مشقت کا کام نہیں لیکن یہ ایسا ہتھیار ضرور ہے جسے آپ بچے کی تربیت میں بڑی مہارت سے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاََ اگر آپ اپنے بچے کو پسندیدگی پر سراہتے رہیں اور نا پسندیدگی پر منہ بنا لیں تو یہی بھی اسے ایک خاص راستے پر چلائے رکھنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس ہتھیار کو استعمال کرنے لے لیے یہ بھی واجب ہے کہ آپ خود صحیح و غلط سے بخوبی واقف ہوں ایسا نہ ہو کہ آپ کی کوئی بری خصلتیں بھی اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں

وقتی توجہ ہٹائیں

ضدی بچوں کو وقتی طور پر ٹالنے کے لیے بہتر ہے کہ اسے کسی اور کام میں مشغول کر دیا جائے۔ مثلاََ اگر بچہ باہر جانے پر بضد ہے تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ آپ اسے کہیں لے جانا چاہتے ہیں یا آپ اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے، عین ممکن ہے بچہ آپ کی رائے کو فوقیت دے۔ اور اگر وہ بضد رہے تو آپ ضد مت کریں اسے بعد میں مدلل انداز میں قائل کریں

 

بچوں کی توجہ سے بات سنیں

 

جب بھی آپ کا بچہ آپ سے کچھ کہنا چاہ رہا ہے یا آپ کو اپنے اشاروں سے کچھ سمجھانا چاہ رہا ہے تو اس کو پوری توجہ دیں۔اس کو سنیں یااس کے اشارے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔آپ کی توجہ آپ دونوں کو ایک دوسرے سے قریب لائے گی ،اور جب ایک دفعہ آپ اپنے بچے کے قریب ہو جاتے ہیں تو آپ اس کے اشارے بھی سمجھنے لگتے ہیں اس کی زبان بھی سمجھنے لگتے ہیں ،اور پھرآپ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اپنے بچے کو زیادہ بہتر طور پر سنبھال سکیں اورمختلف مواقع پر اس کے غصے اور ضد کو کنٹرول کر سکیں ۔کوشش کریں کہ جب اپنے بچے کے ساتھ ہو ں تو موبائل وغیرہ نہ استعمال کریں کیونکہ اس سے آپ کی توجہ بچے پر نہیں بلکہ موبائل پر رہتی ہے جس سے بچہ ڈسٹرب ہوتا ہے ،آپ اس سے بات نہیں کرتے ،اس پر پوری توجہ نہیں دیتے ،اس سے کھیلتے نہیں ہیں تو پھر وہ توجہ حاصل کرنے کے لئے تنگ کرتا ہے یا روتا ہے ،ضد کرتا ہے۔بچے کو اپنے ماں یا باپ کی پوری توجہ چاہیے ہوتی ہے اسی لئے وہ اسے حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔

 

اپنے بچوں کے دوست بنیں

 

کبھی ایسا ہوا کہ آپ کا بچہ کسی اور سے غصہ یا ناراضگی میں آپ کی برائی کر دے؟ کہ امی میرے ساتھ ایسے کرتی ہے، ابو مجھے بلا وجہ ڈانٹتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو غالباََ آپ اپنے بچے کے دوست نہیں بن پائے۔ آپ کا بچہ آپ کو ڈکٹیٹر کے طور پر دیکھتا ہے۔ بچے اپنے دوستوں کو اپنے ننھے دلوں کے احوال دیتے ہیں۔ کوشش کریں کہ آپ اپنی اولاد کے دلوں کے احوال سے بخوبی واقف ہوں۔

 

ہر بات کے منکر مت بنیں

 

بسا اوقات والدین اولاد کی ہر بات کے ہی منکر ہوتے ہیں۔ ہر بات پر نہیں نہیں سنتے سنتے بچے بھی نفی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یا پھر ہر معاملے میں نفی کی وجہ سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور اس طرح بھی ہٹ دھرمی ان کی ذات کا جزو بن جاتی ہے

 

غیر ضروری توقعات وابستہ نہ کریں

آپ کے بچے کے دماغ میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ آپ کے حساب سے چل سکے ۔آپ کے دماغ کا اوپری حصہ جو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے یا اعصاب کو ،جذبات کو کنٹرول کرتا ہے ،بچے میں پوری طرح ڈویلپ نہیں ہوا ہوتا کہ وہ آپ کے حساب سے چل سکے ۔وہ اپنی عمر اور سائز کے حساب سے کام کرتا ہے۔اسی لئے وہ حصہ اس قابل نہیں ہو تا کہ وہ دماغ کے نچلے حصے کو پوری طرح سپورٹ کر سکے( جس کا کام جذبات کا اظہار کرنا ہوتا ہے)جیسے کہ غصہ، پیار،لڑائی یا کوئی بھی دوسرا اظہار۔جو کہ ہماری پیدائش کے ساتھ ہی بن چکا ہوتا ہے ۔لیکن اس کو سپورٹ دماغ کے اوپری حصے کی چاہیے ہوتی ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتے ہیں ۔اسی لئے بچوں اپنے موڈاور اپنے جذبات کے حساب سے مت چلائیں بلکہ ان کو ان کی عمر اور ضرورت کے حساب سے ڈیل کریں۔

 

ان کی ذہنی تسکین صحیح انداز میں کریں

 

صحیح انداز میں بحث کر کے بڑے سے بڑے ذہن کو مسخر کیا جا سکتا ہے۔ والدین کو لازماََ اپنے بچوں کی ذہنی تسکین کرتے رہنا چاہیے۔ وہ جو کچھ جاننا چاہتے ہیں انہیں اس کے بہترین حقائق پر مبنی جوابات دیں۔ یہ کبھی مت سوچیں کہ یہ تو بچہ ہے اسے درست بات کیوں بتائیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے جب بھی آپ کا بچہ حقائق سے آگاہ ہو گا، آپ کی درست آگاہی سے آپ کو وہ معتبر سمجھے گا۔ اور غلط سے مکار سمجھنے لگے گا۔

 

صحیح وقت پر بات کریں

 

جب بچہ پرسکون ہو ،اور آپ کی بات کو سوچنے سمجھنے کے قابل ہو اور آپ دیکھیں کہ اب وہ اس حالت میں ہے کہ اپنا دماغ استعمال کر سکتا ہے۔تو اس کو سمجھائیں ،پیار محبت سے،مثالوں سے ،اتنے چھوٹے بچے کے لئے دلائل و مشورے تو بیکار ہیں ،ان کو انہی کے انداز میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ آئندہ ایسی حرکت یا ایسی ضد اور رونا،چیخنا نہ کریں۔ان کو سمجھائیں کہ ان کی اس حرکت سے کیا نقصان ہوا یا ہو سکتا ہے،اور ایسی صورتحال میں ان کو آئندہ کیسا بی ہیو کرنا چاہیے

 

بچے سے رابطہ مضبوط کریں

 

یہ رابطہ مختلف طریقے سے ہو سکتا ہے ۔یہ آپ کے بچے پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح پرسکون ہوتا ہے۔کیا وہ آپ کے گلے لگانے سے پر سکون ہو گا ،یا آپ کے پیار کرنے سے ٹھیک ہو گا یا آپ کے پکارنے سے، اس کو پچکارنے سے پرسکون ہو گا ۔اگر وہ جسمانی طور پر قابو سے باہر ہو رہا ہے تو اس کو پیار سے پکڑیں۔اس کو گلے لگائیں اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیریں اس کو پرسکون کرنے کی کوشش کریں ۔اسکے پاس بیٹھ کر اس کو یہ یقین دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں تاکہ وہ کنٹرول میں آسکے۔

 بچوں کی باڈی لینگویج سمجھیں

An Image of "Understand children's body language!"

 

 

بچوں کے ساتھ عام طور پر 80فیصد گفتگوزبان سے نہی بلکہ باڈی لینگویج کے ذریعے ہوتی ہے ،بچے اپنے اشاروں سے سمجھاتے ہیں کہ ان کی ضرورت کیا ہے ،وہ اپنے رونے یا اپنے اشاروں یا اپنے انداز سے سمجھا دیتے ہیں کہ وہ کیا چاہ رہے ہیں ۔وہ والدین کی توجہ چاہتے ہیں،یا وہ بور ہو رہے ہیں ،یا وہ بھوکے ہیں یا زیادہ رش یا آوازوں سے وہ گھبرا رہے ہیں ،عام طور پر اگر بچے اکیلے گھر کے عادی ہوں تو شاپنگ مال یا کسی تقریب میں جا کر زیادہ پریشان کرنا شروع کر دیتے ہیں،اسی لئے کہیں جانے سے پہلے بچوں کو سلا دیا جائے اور پیٹ بھر دیا جائے تو وہ مطمئن رہتے ہیں ،اور کہیں بھی جاکر تنگ نہیں کرتے۔

دوسروں کے سامنے سرزنش مت کریں

یہ بہت ضروری ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کو فرمانبردار بنانا چاہتے ہیں تو اپنے بچے کے وقار کی قدر کریں۔ وگرنہ وہ بھی کل کلاں کو (خصوصاََ آپ کے بڑھاپے میں) آپ کی بے قدری کرے گا۔ یہ ہمارے ہاں المیہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتے، وقت بے وقت ڈانٹتے ہیں۔ اس سے ان کی شخصیت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ سرزنش میں زیادتی ہٹ دھرمی کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔

لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ بچوں کو مکمل آزادی دے دی جائے بلکہ انہیں تنہائی میں پیار سے سمجھائیں۔ اور جہاں سختی کرنی پڑے وہاں سختی بھی کریں۔ کچھ ماہر نفسیات صاحبان اس کا انداز یوں بتاتے ہیں کہ بعد میں بناوٹی غصہ پیدا کر لیا جائے اور بچے کو سمجھا دیا جائے۔

بچے کو قواعد و ضوابط کا عادی بنائیں

An image of child accustomed to rules and regulations

جہاں آپ بچے کی قدر کر رہے ہیں۔ وہاں یہ بھی لازم ہے کہ اسے قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہنا بھی سکھائیں۔ اسے معلوم ہو کہ اسے اور لوگوں کے لیے کبھی مشکلات کھڑی نہیں کرنیں بلکہ اسے نظم و ضبط کے ساتھ سب کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ نظم و ضبط سکھاتے ہوئے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو برے کاموں سے سختی سے روکیں۔ بچوں کی اسلامی تربیت میں علماء کرام یہاں اس معاملے میں بہت زیادہ سخت ہو جانے کی بھی تلقین کرتے ہیں تا کہ بچے گناہ کی لذتوں سے محفوظ رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ اور برائی پر کشش ہے جو انسان کی عقل کو قبضہ میں لے لیتی ہے، اسے بڑے پیمانے پر سوچنے سے روک دیتی ہے۔

شفقت اور محبت سے کام لیں

والدین ہو نے کے ناطے،اپنے چھوٹے بچے کو سنبھالنا ایک بہت بڑی ذمہ داری اور بہت مشکل کام ہے ۔اپنے بچے کے ساتھ شفقت اور محبت کا برتاؤ کریں،اس کے ساتھ ساتھ اپنا بھی خیال رکھیں ۔اگر آپ اپنی ذمہ داری اچھی طرح پوری کر رہی ہیں تو اپنے آپ کو شاباشی دیں ،سراہیں اور اگر کچھ غلط ہو بھی گیا تو اس کو نظر انداز کریں اور بھول جائیں لیکن آئندہ کوشش کریں کہ ایسا نہ ہو ۔اپنے اس وقت کو انجوائے کریں۔اس وقت کو اور اپنی ذمہ داری کو بوجھ نہ سمجھیں بلکہ خوشی خوشی نبھائیں۔

 

یہ اس قدر اہم معاملہ ہے کہ اس پر ماں باپ کو خاص توجہ دینی چاہیے۔ بچے آپ کی ہی چھاپ ہیں۔ آپ غور کیجیئے کہ کہیں آپ خود تو ہٹ دھرمی پر نہیں اتر آتے؟ ایسا کرنے سے آپ کی اولاد اس امر کو معتبر سمجھے گی۔ اپنی تمام تر خامیوں پر غور کریں اور دور کریں۔

بچوں کا گلا خراب ہونے کی بیماری ، علامات ، احتیاط اور گھریلو علاج کیا ہے؟

An image of a sore throat in children

جدید دور میں جہاں بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں وہیں گلے کے امراض میں بھی بے حد اضافہ ہورہا ہے۔ خصوصاً بچوں کے گلے میں انفیکشن اور ٹانسلز بھی بہت عام ہیں۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں جن سے بچنا آج کل کے دور میں قدرے مشکل ہو گیا ہے۔ مگر پرہیز اور علاج اِس بیماری سے بچاؤ کا بہترین حل ہے۔ ورنہ ہماری بے پروائی سے یہ بیماری پیچیدہ بیماریوں کی شکل اختیار کرسکتی ہے ۔

انسانی جسم میں حلق یعنی گلا ایک ایسا مقام یا جنکشن ہے، جہاں سے کئی راستے شروع ہوتے ہیں یا ان کا اختتام ہوتا ہے۔ مثلاً جہاں منہ کی حدود ختم ہوں، وہاں سے غذا اور ہوا کی نالیاں شروع ہوتی ہیں۔ دونوں کانوں اور آنکھوں سے بھی ایک باریک ٹیوب حلق میں جا کر کھلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی دوا کان یا آنکھ میں ڈالی جائے تو کچھ ہی دیر بعد اس کا Taste منہ میں محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح روتے وقت آنسو ناک اور حلق میں پہنچ جاتے ہیں۔ ناک کے سوراخوں کا اختتام بھی حلق میں ہوتا ہے۔انہی وجوہات کی بنا پر حلق کو جنکشن کہا جا سکتا ہے، جہاں جراثیم ایک راستے سے آکر دوسرے میں داخل ہوتے ہیں اس لیے وہاں بیماری پھیلنے کے خطرات ہر وقت رہتے ہیں۔

 

گلے میں تکلیف ہونا کوئی ایسا اہم مسئلہ نہیں ہے کیونکہ دُکھتے گلوں کا علاج عموماً گھر پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ گلے کی پیچید گیوں میں ایسے اثرات یا مسائل شامل ہیں جس میں نہ چاہتے ہوئے بھی آپ یا آپ کا بچہ مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس لیے گلے کی ابتدائی تکالیف میں ہی آپ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

گلے میں درد کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

"Sore Throat in Children—Causes"

An image of sore throat in children—causes

✓گلا خراب 

✓گلے کی غدود میں سوزش یا ✓گلے آنا

✓ٹانسلز 

✓نزلہ ،زکام ، ناک بند ہونا 

 ✓بلغم کا حلق میں گرنا 

✓نکسیر پھوٹنا

✓گلہ پکنا

✓آواز کا بیٹھ جانا

✓گردن میں گلٹیاں

یہ سب گلا دکھنے کی وجوہات ہیں اور گلے کی عام بیماریاں ہیں جن کا احتیاطی تدابیر سے بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔ گلے میں بلغم گرنے والے افراد کو ناک یا منہ ،ماسک یا کپڑے سے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے

گلا دکھنے کی علامات کیا ہیں؟

An image of sore throat in children—symptoms

✓آپ کا بچہ گلا یا گردن دْکھنے کی شکایت کر سکتا ہے۔

✓آپ کا بچہ کچھ بھی نگلنے، پینے، یا کھانے کے دوران گلا دکھنے کی شکایت کر سکتا ہے۔✓چھوٹے بچے اس موقع پر کچھ بھی کھانے یا پینے سے انکار کر دیتے ہیں یا معمول سے کم مقدار میں کھاتے ہیں، یا پھر کھانے اور نگلنے کے دوران روتے ہیں۔

✓بچوں کو بخار، کھانسی، ناک بہنے اور گلے یا آواز بیٹھ جانے کی شکایت ہو سکتی ہے۔

✓کچھ بچوں کو متلی اور پیٹ (معدے) میں درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔

✓بچوں کا گلا معمول سے زیادہ سرخ ہو سکتا ہے اور اس میں بلغم بھی ہو سکتی ہے۔ یہ علامات سوزش زدہ گلے کے ساتھ عام ہوتی ہیں۔

اگر بچوں کا گلا خراب ہو تو آپ کیا احتیاطی تدابیر اور گھریلو علاج کر سکتے ہیں؟

گلے کی مختلف تکالیف کے لیے دوائیوں کا استعمال کرتے وقت اس بات کا تعین کرنا بہت ضروری ہے کہ واقعی دوا کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں۔ معمولی گلا خراب ہونے یا گلے میں خارش ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنے اور بہت زیادہ ٹھنڈی یا زیادہ گرم اشیاء کھانے سے بھی گلا خراب ہو جاتا ہے جو ایک آدھ دن بعد خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں احتیاطی تدابیر اور گھریلو علاج کی جو اس صورت میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

 

✓اگر آپ کے بچے کو کچھ نگلنے میں مشکل ہو رہی ہو، تو ایسے میں اُسے بآسانی نگلی جاسکنے والی نرم غذائیں دیں۔

 

✓چھوٹے بچے کو خالص شہد دیں تاکہ اُس کے گلے کو سکون مل سکے اور یہ کھانسی میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

 

✓ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتاہے

 

✓آواز بیٹھ جانے کی صورت میں آدھا لیٹر پانی میں تھوڑی سی سونف ڈال کر پکائیں۔چوتھا حصہ رہ جائے تو اسے اتار کر حسب ذائقہ چینی ملا کر دو تین بار دن میں استعمال کریں۔ آواز ٹھیک ہو جائے گی

 

✓ایک لیموں کو پانی میں دس منٹ تک ابالیں۔ اس کا جوس نکال کر ایک گلاس میں ڈالیں۔ اس میں دو چمچ گلیسرین ڈال کر اچھی طرح ہلائیں دو چمچ شہد ڈالیں اور گلاس کو پانی سے بھر لیں۔ کھانسی کا قدرتی شربت تیار ہے۔ گلے کی خرابی میں ہونے والی کھانسی کے دوران پانچ دن تک دو چمچ صبح، دوپہر، شام استعمال کریں انشاء اللہ افاقہ ہو گا

 

✓کالی مرچ جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے اور گلے کی سوزش میں انتہائی فائدہ مند ہے، ہر کھانے کے بعد 4 سے 5 دانے کالی مرچ کو پیس کر چائے کی چمچ دیسی گھی گرم کرکے اس میں مکس کریں اور اسے بچے کو پینے کو دیں یہ گلے کی درد میں فوری راحت کا باعث بنے گا اور بیٹھی ہُوئی آواز کو درست کردے گا۔

 

✓بڑے بچے نمک والے نیم گرم پانی سے غرارے کرنے کی کوشش کروائیں۔ گلے کی سوجن کو کم کرنے کے لئے نمکین پانی کے غرارے بہت ہی کار آمد ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف سوجن کو کم کرتی ہے بلکہ پھیلنے والے بیکٹیریا کو بھی روکتی ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق ایک گلاس پانی میں آدھا چمچ نمک ملا کر غرارے کرکے اسے افاقہ ہوتا ہے۔

 

✓منہ کھول کر سونا گلا دْکھنے کا باعث بن سکتا ہے اگر آپ کے بچے کا گلا دْکھ رہا ہو تو اُسے پینے کے لیے کچھ نہ کچھ دیتی رہیں۔

 

✓رات کو ہیومیڈیفائر کا استعمال کریں تاکہ فضا میں نمی ہو۔ یہ خشک دْکھتے گلے کو سکون پہنچانے میں مدد کر سکتا ہے۔

 

✓ بچوں کو چکن سوپ کا استعمال کروایں پرانے نسخوں پر ایک نسخہ چیکن سوپ بھی ہوتا ہے جس سے گلے کے درد سے نجات ملتی ہے۔یہ سوجے ہوئے گلے کو آرام پہنچتا ہے

 

 

 

An Image of sore throat in children home remedies

✓اگر یہ مسئلہ مستقل ہو اور اُس کے ساتھ خراٹے،سانس لینے میں مشکل، یا دن کے اوقات میں غنودگی ہو تو اپنے ڈاکٹر کے ساتھ اس مسئلے پر بات کریں اور باقاعدگی سے بچے کو اُس کے پاس لے جائیں۔

✓ بیڈ ریسٹ یہ ایسا طریقہ علاج ہے جس میں دوائی کی بجائے احتیاط کا دامن پکڑا جاتا ہے اور درد سے نجات پائی جاتی ہے۔ گلے کے درد اور سوجن کی وجہ کولڈ وائرس ہے اور اس کی خوراک وقت سے ملنے والے باقی  وائرس اور بیکٹیریا ہوتے ہیں لہٰذا ان سے بچنے کے لئے ریسٹ یعنی آرام بہت ضروری ہے۔

ار ریگولر یا بے قائدہ پیریڈز کی وجوہات اور اس کا گھریلو علاج کی ٹپس

An image of causes of irregular periods

ار ریگولر یا" بے قائدہ پیریڈز" کی وجوہات اور اس کا گھریلو علاج کی ٹپس

An image of causes of irregular periods

Causes of "Irregular Periods" and Home Remedy Tips

ماہواری کی بے قاعدگی کا مسئلہ عورتوں میں عام ہے۔ایسے میں ایک ماہواری سے دوسری ماہواری تک کا وقفہ 35 دن سے زیادہ ہوجاتا ہے۔اصولی طور پر دو ماہواری کا وقفہ21 سے 35 دن تک کا ہونا چاہیے۔ اور اس دوران پیریڈ کا دورانیہ دو سے سات دن تک جاری رہتا ہے۔ عام طور پر ایک عورت کو سال میں گیارہ سے تیرہ ماہواریاں ہوتی ہیں

۔لیکن ماہواری کی بے قاعدگی کا شکار عورتوں کو سال میں چھ سے سات مرتبہ یا اس سے بھی کم ماہواری ہوتی ہے۔اس میں یا تو ایک ماہواری سے دوسری ماہواری کا وقفہ طویل ہو جاتا ہے یا پیریڈز کا وقت سات دن سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے،اس کے علاوہ غیر معمولی خون کا اخراج یعنی عام اخراج سے کم یا زیادہ بھی ماہواری کی بے قائدگیوں میں شامل ہے۔

بے قائدہ پیریڈز کی کیا وجوہات ہیں؟

An image of Causes of Irregular Periods

اس مسئلے کی کئی وجوہات ہیںان میں 

✓کھانے میں بے قاعدگی

✓وزن کا حد سے زیادہ بڑھنا یا گھٹنا

✓خون کی کمی

✓حیض کے دائمی طور پر بند ہونے کا وقت قریب آنا(مینو پوز)

✓تھائیرائڈ گلینڈ کی بے ترتیبی  ✓ہارمونز کا متوازن نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ ✓جگر کی بیماری 

✓ٹی بی،

✓آنتوں میں سوزش

✓شوگر یا حال ہی میں بچے کی ولادت یا حمل گر جانا 

✓بہت زیادہ ورزش 

✓سگریٹ نوشی

✓پولی سسٹک اووری سنڈرم

✓الکوحل کا استعمال 

✓سفر

✓ذہنی دباؤ

✓بعض دواؤں کا استعمال جیسا کہ مانع حمل گولیاں بھی اس مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں۔

 

ار ریگولر پیریڈز کا گھریلو علاج " Home Remedies Tips"

An image of Home Remedies Tips

ہر عورت کی اپنا ایک انفرادی نظام ہوتا ہے،لہذا معمولی سی بے قاعدگی میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری نہیں۔

یہاں اس ویڈیو میں آپ کو میں ماہواری کو با قاعدہ بنانے کے لئے کچھ گھریلو علاج بتاؤں گی جو کافی فائدہ مند ثابت ہو گا۔

An image of Home Remedies Tips

ادرک کا استعمال

ادرک کا استعمال ماہوار ی کو صحیح کرنے کے ساتھ اس کے درد سے بھی نجات دلاتا ہے اور دیر سے ہونے والی ماہواری کو صحیح وقت پر لے آتا ہے۔

۔ڈیڑھ چائے کا چمچ تازہ پسی ہوئی ادرک کو ایک کپ پانی میں پانچ سے سات منٹ تک ابالیں۔

۔تھوڑی چینی ملالیں

۔دن میں تین مرتبہ ہر کھانے کے بعد پیں۔

۔ایک مہینہ یا اس سے زیادہ استعمال کریں ار ریگولر پیریڈز کا مسلہ کافی حد تک ٹھیک ہو جاے گا۔

 

دارچینی

 

دار چینی گرم تاثیر رکھتی ہے، ماہواری میں ہونے والی اکڑاہٹ اور رکاوٹ کو دور کرتی ہے۔انسولین کی مقدار کو متوازن کرتی ہے جو پیریڈز کی باقاعدگی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کے جن خواتین کی اووریز میں پولی سسٹ بن جاتی ہے اس میں بھی یہ فائدہ مند ہے۔اور ماہواری کو جاری کرتی ہے۔

 

۔ڈیڑھ چائے کا چمچ دارچینی پاؤڈر ایک گلاس دودھ میں ملائیں،اور روزانہ کئی ہفتوں تک استعمال کریں۔

۔دارچینی کی چائے بھی پی سکتے ہیں،یا دارچینی پاؤڈر اپنے کھانے میں چھڑک کر کھائیں۔یا دارچینی کا ٹکڑا روزانہ چبا کر کھائیں۔ 

 

تل اور گڑ

 

تل ہارمونز کی مقدار کو مناسب کرتے ہیں جس سے ماہواری وقت پر ہوتی ہے،یہ ہارمونز کی زیادتی کو روکتے اور کمی کو پورا کرتے ہیں۔

گڑ کی تاثیر بھی گرم ہوتی ہے۔اور یہ بھی ماہواری کو آسان اور باقاعدہ بناتا ہے۔

۔ایک مٹھی تل کو سوکھا بھون لیں۔

۔ایک چائے کا چمچ گڑ اور تل ملا کر پیس کر پاؤڈر بنالیں۔

۔روزانہ ایک چمچ نہارمنہ کھائیں۔دونوں ماہواریوں کے درمیانی حصے میں یا ماہواری سے دو ہفتہ پہلے شروع کریں۔کچھ ماہ تک جاری رکھیں

خالی گڑ کا ایک ٹکڑا روزانہ کھانے سے بھی یہ نظام ٹھیک رہے گا۔

لیکن یاد رہے کہ ماہواری کے دوران یہ دوا استعمال نہ کریں۔

 

ایلوویرا

 

ہارمونز کی بے ترتیبی کو درست کر کے ماہواری کو باقاعدہ بناتا ہے۔

۔ایک پتے سے ایلوویرا جیل نکال لیں۔

۔ایک چائے کا چمچ شہد کے ساتھ ملا لیں ۔

۔صبح نہار منہ استعمال کریں

۔یہ علاج تین ماہ تک جاری رکھیں۔ یہ بھی ماہواری کے دوران نہ لیں۔

 

ہلدی

 

ہلدی کی تاثیر گرم ہے۔ماہواری کو باقاعدہ بنانے کے ساتھ درد کو بھی کم کرتی ہے۔

۔ایک چوتھائی چائے کا چمچ ہلدی دودھ ،شہد یا گڑ کے ساتھ لیں۔

روزانہ استعمال کریں جب تک آپ فرق محسوس نہ کر لیں

 

کچا پپیتہ

 

کچا پپیتہ یوٹرس کے پٹھوں کی کارکردگی کو درست کرتا ہے۔خاص طور پر ان خواتین کے لئے جن کا حیض بند ہونے والا ہو۔کچے پپیتے کا رس کچھ ماہ تک استعمال کریں۔لیکن پیریڈ کے دوران نہ لیں۔

 

ثابت دھنیہ

 

ایک چائے کا چمچ دھنیہ دو کپ پانی میں اتنا ابالیں کہ ایک کپ رہ جائے،چھان کر دن میں تین دفعہ پیریڈ سے پہلے استعمال کریں۔

کچھ مہینوں تک جاری رکھیں۔

 

وٹامن سی لیں

 

وٹامن سی جسم میں ایسٹروجن پیدا کرتا ہے جس سے بلیڈنگ شروع ہونے میں مدد ملتی ہے ۔ آپ وٹامن سی کی سپلیمنٹس بھی استعمال کر سکتی ہیں ۔ یا اورینج، لیموں کا استعمال بھی بڑھا سکتی ہیں 

 

گاجر کا رس

 

گاجر میں آئرن کی وافر مقدار موجود ہے ۔ اس لیے اس کا رس ماہواری کو باقاعدہ بنانے کے لیے بہترین ہے۔اس کے علاوہ ثابت گاجر بھی ہارمونز کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔

ایک گلاس گاجر کا جوس تین ماہ تک پئیں ۔آپ اس کو کسی اور سبزی کے ساتھ بھی ملا کر پی سکتی ہیں۔

 

پودینہ

سوکھا پودینہ اور شہد بھی ماہواری کا بہترین علاج ہے۔

ایک چائے کا چمچ سوکھا ہوا پودینہ پاؤڈر کی شکل میں ایک چائے کا چمچ شہد کے ساتھ ملا کر دن میں دفعہ لیں۔

کچھ ہفتے تک استعمال کریں۔

 

سونف

 

سونف کا استعمال بھی ماہواری کو باقاعدہ بنانے کے لیے بہت ہے۔

ایک گلاس پانی میں دو کھانے کے چمچ سونف پوری رات کے لیے بھگودیں اور صبح چھان کر پی لیں۔

ایک مہینے تک یا جب تک آپ کے ایام باقاعدہ نہ ہوجائیں استعمال کریں۔

 

ان ہوم رمیڈیز کے استعمال سے پیریڈز کی معمولی بے قاعدگی کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ڈاکٹر کو اس وقت فورا دکھائیں جب آپ کو 

٭90یا اس سے زیادہ دن تک پیریڈز نہ ہونا

٭21دن سے پہلے دوبارہ پیریڈز ہو جاتے ہوں

٭پیریڈز میں اچانک بے قاعدگی پیدا ہو گیئ ہو یعنی پہلے نارمل تھے اچانک ار ریگولر پیریڈز ہو گئے 

٭بہت زیادہ بلیڈنگ ہونا

ڈاکٹر پریڈز میں بے قائدگی کی اصل وجہ کا پتا لگانے کے بعد ہی صحیح علاج تجویز کر سکتی ہے ۔

نوزائیدہ بچوں کا ہچکیاں لینے کی وجوہات , روکنے کی ٹپس اور کب ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے؟  

An image of hiccups in newborns

نوزائیدہ بچوں میں ہچکیوں کی وجہ کیا ہے؟

An image of causes of hiccups in newborns

ڈایا فرام میں سوزش یا حرکت کی وجہ سے ہچکیاں آتی ہیں ۔ زیادہ تر ایسا دودھ پیتے وقت ہوتا ہے۔ یا پھر ہچکیاں ایسے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ بچوں میں ہچکیاں آنے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ تحقیق کے مطابق ہچکیاں ڈکار دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ نوزائیدہ بچوں میں ہچکیاں آنا ایک عام بات ہے اور عام طور پر یہ بچوں کو پریشان نہیں کرتیں ۔ چھوٹوں اور بڑوں میں تھوڑی دیر کے لیے آنے والی ہچکیاں خود ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ پھر بھی بچوں کی ہچکیاں روکنے کے لیے کچھ گھر یلو علاج بھی کیے جاسکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ کہ بچہ جلدی جلدی فیڈ کرے جس سے پیٹ میں گیس بن جاتی ہے جو ہچکی کا باعث بن جاتی ہے

ہچکیاں روکنے کے طریقے

ڈکار دلائیں

اگرچہ بچوں کو ہچکیاں کبھی بھی آسکتی ہیں لیکن آپ چند طریقے اپنا کر ہچکیوں کے باعث بچوں کو ہونے والی کسی قسم کی ممکنہ پریشانی سے چھٹکارہ دلا سکتے ہیں۔ کئی بچے نیند کے دوران ہچکیاں آنے کے باوجود بھی اٹھے بغیر سوئے رہتے ہیں۔

اس ویڈیو میں ہم آپ کو چند ایسے طریقے بتاتے ہیں جن کی مدد سے ہچکیوں سے چھوٹے بچوں کی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔

گہری سانس لیں اور بچے کو ڈکار لینے دیجیے

 

اگر آپ کا بچہ دودھ پیتے وقت ڈکار لینا شروع کردیتا ہے تو وقفہ لیجیے اور اپنے بچے کو ڈکار لینے دیجیے۔ ڈکار لینے کی وجہ سے کی ان اضافی گیس کے اخراج میں مدد ملتی ہے جو ہچکیوں کا باعث بن سکتی ہیں

جب آپ کا فیڈر استعمال کرنے والا بچہ 2 سے 3 اونس دودھ پی لے تو اس کے بعد آپ کو اسے ڈکار دلانا چاہیے۔ جبکہ اگر آپ کا بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے تو ایسے میں ایک بعد دوسرے پستان سے دودھ پلانے سے قبل بچے کو ڈکار دلائیں۔

 

بچے کی پیٹھ پر ہلکے سے ہاتھ پھیریں

 

بچے کو جب ہچکیاں آ رہی ہوں تو اس کی پیٹھ پر نفاست کے ساتھ ہاتھ پھیریں۔ جبکہ بچے کی پیٹھ پر زوردار طریقے سے ہاتھ ہر گز نہ ماریں۔بلکہ پیار سے اسے اٹھا کر آہستہ آہستہ کمر سہلائیں۔

 

An image of stop Causes of hiccups in newborns

گہری سانس لیں اور بچے کو ڈکار لینے دیجیے

اگر آپ کا بچہ دودھ پیتے وقت ڈکار لینا شروع کردیتا ہے تو وقفہ لیجیے اور اپنے بچے کو ڈکار لینے دیجیے۔ ڈکار لینے کی وجہ سے کی ان اضافی گیس کے اخراج میں مدد ملتی ہے جو ہچکیوں کا باعث بن سکتی ہیں

جب آپ کا فیڈر استعمال کرنے والا بچہ 2 سے 3 اونس دودھ پی لے تو اس کے بعد آپ کو اسے ڈکار دلانا چاہیے۔ جبکہ اگر آپ کا بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے تو ایسے میں ایک بعد دوسرے پستان سے دودھ پلانے سے قبل بچے کو ڈکار دلائیں۔

بچے کی پیٹھ پر ہلکے سے ہاتھ پھیریں

بچے کو جب ہچکیاں آ رہی ہوں تو اس کی پیٹھ پر نفاست کے ساتھ ہاتھ پھیریں۔ جبکہ بچے کی پیٹھ پر زوردار طریقے سے ہاتھ ہر گز نہ ماریں۔بلکہ پیار سے اسے اٹھا کر آہستہ آہستہ کمر سہلائیں۔

چوسنی کا استعمال کریں

نونہالوں کو ہونے والی ہچکیاں ہمیشہ فیڈنگ کے باعث نہیں ہوتیں۔ اس لیے جب بچے کو ہچکیاں آنے لگیں تب انہیں چوسنی دیجیے۔ اس طرح ڈایافرام کا تناؤ کم ہوگا اور یوں پھر ہچکیاں آنا بند ہوجائیں گی۔

بچے کو اس کے حال پر چھوڑ دیں

ہچکیاں عام طور پر خود بخود ہی بند ہوجاتی ہیں۔ اگر ہچکیوں سے آپ کا بچہ تنگ نہیں ہو رہا ہے ایسے میں آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ البتہ اگر بچے کی ہچکیاں بند ہی نہیں ہو رہی ہیں جو کہ بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر رہے گا کیونکہ یہ صحت کے کسی تشویشناک مسئلے کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

بچے کے فیڈر کا جائزہ لیجیے

ہچکیوں کے پیچھے فیڈر کا بھی کردار ہوسکتا ہے۔ چند فیڈرز ایسے ڈیزائن کے ہوتے ہیں جو دیگر فیڈرز کے مقابلے میں زیادہ ہوا جمع کر لیتے ہیں۔ اگر آپ کا بچہ فیڈر پیتے وقت ہچکیاں لیتا ہے تو ایسے میں کسی دوسرے برانڈ کی فیڈر استعمال کرنے کی کوشش کریں۔

گرائپ واٹر دیں

اگر آپ کا بچہ ہچکیوں سے پریشان ہورہا ہے تو اسے گرائپ واٹر پلائیں ۔ گرائپ واٹر جڑی بوٹیوں اور پانی سے مل کر بنتا ہے اور پیٹ کی تکلیفوں کے لیے بہترین ہے ۔ اپنے بچے کو کوئی نئی چیز دینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

بچے کو جب ہچکی آئے تو اسے تھوڑا سا گرم پانی پلایا جائے یا اسے فرش پر لٹا کر اس کی  پیٹھ تھپکی جائے۔ یا اسے اٹھا لیاجائے۔

ہچکیاں تشویش کا باعث کب بنتی ہیں یا کب ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے؟

An image of cause for concern or when should you see a doctor

✓ایک سال کی عمر کے اندر ہچکیاں آنا ایک نارمل بات ہے ۔ ماں کے پیٹ میں بھی بچے کو ہچکیاں آسکتی ہیں ۔ لیکن اگر بچے کو بہت زیادہ ہچکیاں آئیں اور وہ ان سے پریشان بھی ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ آپ اس کے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ ہوسکتا ہے کہ بچے کو کوئی طبی مسئلہ درپیش ہو۔

 

✓اگر ہچکیوں سے بچے کی نیند خراب ہو رہی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ اگر ایک سال کی عمر کے بعد بھی بچے کی ہچکیوں میں کمی نہیں آتی تو بھی ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

 

✓اس بات پر بھی دھیان دینا ضروری ہے کہ آپ کا ڈاکٹر آپ کو دقیانوسی ٹوٹکے کرنے سے بھی منع کرتا ہے ۔ بچے کو ہچکیاں آئیں تو انہیں چونکانے کی کشش نہ کریں نہ ان کی زبان کھینچیں ۔ یہ چھوٹے بچوں کے لیے کار آمد نہیں ہیں بلکہ الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔

 

ہچکیوں سے بچاؤ کی ٹپس

چھوٹے بچوں کی ہچکیاں مکمل طور پر روکنا بہت مشکل ہے کیونکہ ان کی ہچکیوں کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوتی پھر بھی کچھ طریقے ہچکیاں روکنے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

✓بچے کو دودھ پلانے کے لیے اس کی بھوک اور رونے کا انتظار نہ کریں اور اسے پرسکون حالت میں دودھ پلائیں۔خیال رکھیں کہ دودھ پیتے وقت آپ کا بچہ پرسکون ہو۔ مطلب یہ کہ والدین بچے کو اتنی دیر کے بعد دودھ پلانا شروع نہ کریں کہ جب وہ بھوک سے بے حال ہوجائے اور رونا شروع کردے کیونکہ اس طرح بچہ دودھ پینے سے قبل بے سکونی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

✓دودھ پلانے کے بعد بچے کو اوپر نیچے جھلانے یا اچھالنے سے گریز کریں ۔

✓دودھ پلانے کے فوراً بعد بچے کے ساتھ کھیلنے سے گریز کریں۔

✓ہر فیڈ کے بعد بچے کو بیس سے تیس منٹ کے لیے سیدھا رکھیں یعنی اسے اوپراٹھا کر رکھیں ہے۔

نوزائیدہ بچوں میں ہچکیوں کی کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ۔ اس لیے جب تک بچے کو ہچکیوں کی وجہ سے الٹی نہ آئے وہ اس سے پریشان نہیں ہوتے۔ اور ایک سال کی عمر کے اندر ہچکیاں آنا ان کے لیے عام بات ہے۔

ایک سال کی عمر ہونے تک بچے کی ہچکیاں خود ہی ختم ہوجاتی ہیں اگر ایک سال کی عمر کے بعد بھی ہچکیاں جاری رہیں اور بچہ اس سے پریشان ہو تو ڈاکٹر کوضرور بتائیں تاکہ وہ ان کی صحیح وجہ جاننے کی کوشش کر سکے۔

خواتین میں پولی سسٹک اووری سنڈروم سے متعلق اہم معلومات” Polycystic Ovary Syndrome (PCOS) in Women”

an image of Polycystic Ovary Syndrome (PCOS) in Women

پولی سسٹک اووری سنڈروم ایک ایسا مرض ہے جس میں خواتین کے ہارمونز غیر متوازن ہوجاتے ہیں ۔ اس بیماری کی وجہ سے پیریڈز کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین نوعیت اختیار کرتے ہوئے شوگر اور دل کے امراض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اکثر اس مرض میں خواتین کی اووری میں سسٹ بن جاتی ہیں جس کی وجہ سے اسے پولی سسٹک اووری سنڈروم کہتے ہیں ۔ یہ ہارمونل بیماریوں میں  سے  سب  سے زیادہ مشترکہ مسئلہ ہے ۔

جو خواتین میں دیکھنے  میں آتا ہے اووری   سے کچھ خاص ہارمون نکلتے ہیں جو عورت کے  جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن پی سی او ایس میں  اووری کے اندر پانی  کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں  بن جاتی ہے اور اگر الڑاساؤنڈ کیا جائے تو وہ گھڑی کے ڈائل کی طرح یا ہار کے موتیوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ 20 فیصد سے 35 فیصد خواتین میں الڑا ساؤنڈ پر پی سی او کی تشخیص ہوتی ہے

پولی سسٹک سنڈروم کا باعث بننے والے ہارمونز کی تبدیلی عام طور پر پہلی ماہواری کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اگر اس کے بعد وزن بڑھنا شروع ہوجائے تو ان علامات پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ضروری نہیں کہ پولی سسٹک سنڈروم کی مریض کی ہر عورت میں تمام علامات ظاہر ہوں۔ اسکے علاوہ یہ علامات معمولی سے شدید بھی ہوسکتی ہیں۔ اکثر خواتین کو periods کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا وہ حاملہ نہیں ہوپاتیں۔

یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ ایک کنڈیشن ہے اور صحت بخش خوراک کھانے اور طرز زندگی میں تبدیلی سے اس کا علاج ممکن ہے. دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک خاتون پی سی اوز کا شکار ہے جن میں سے 75 فیصد کو ماں بننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ پولی سسٹک اووریز کا شکار ہیں تو جسم میں ہارمونز کا تناسب بہت زیادہ ہونے کے علاوہ اووری میں سسٹ، ماہواری میں بےقاعدگی اور ذیابیطس سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پی سی اوز ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہے، اس بات کا اب تک علم نہیں ہو سکا لیکن خواتین میں ہارمونز کے حوالے سے یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔

an image of Polycystic Ovary Syndrome (PCOS) in Women

پولی سسٹک اووری سنڈروم کی علامات

"Symptoms of Polycystic Ovary Syndrome (PCOS)"

an image of "Symptoms of Polycystic Ovary Syndrome (PCOS)"

دنیا میں خواتین کو ( PCOS ) کی مختلف علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ضروری نہیں کہ تمام خواتین میں ایک جیسی علامات واضح ہوں البتہ تمام خواتین میں ( PCOS) کی علامات اس وقت سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔

جب لڑکی کو پہلی بار ماہواری آئے ،چونکہ اس بیماری کا تعلق خواتین میں تولیدی ہارمون کی کمی سے ہے۔ لہٰذا اس بیماری کی سب سے عام علامت بانجھ پن ہے ۔ اس کے علاوہ ( PCOS)

کی تمام علامات میں ماہواری میں توازن نہ ہونا ،ماہواری کم آنا ، زیادہ آنا، درد سے آنا ،زائد بالوں کی نشونما ،بالوں کا گرنا،ایکنی وزن کا بڑھنا ،جسم کے حساس جگہ پر تکلیف ہونا ،آواز کا بھاری ہونا ، سینہ میں ابھار نہ آنا اور ڈپریشن شامل ہے۔ اب کرتے ہیں علامات کی تفصیل پر۔۔

ماہواری کے مسائل

پیریڈز کا بہت کم یا بالکل نہ آنا یا بہت زیادہ  آنا اور بار بار بلیڈنگ ہونا۔

ماہواری میں عدم توازن 

پی سی او ایس کی عام علامت پیریڈز کی کمی ہے ۔اگر کسی عورت کو سال میں آٹھ یا آٹھ دفعہ سے کم پیریڈز آئے اور پیریڈز کے دوران بہاؤ تیز یا کم ہو اور اگر یہ شکایات مستقل موجود رہیں تو والدہ کی ذمہ داری ہے کہ بچی کے ان مسائل کو فوری طور پر ڈاکٹر کو بتائیں تاکہ وہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے پی۔سی۔او۔ایس کی تشخیص کر سکے کیونکہ بر وقت علاج نہ کیا جائے تو بعد میں خواتین میں بانجھ پن جیسا مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے

بال جھڑنا

اینڈروجن لیول ہائی ہونے کی وجہ سے قدرتی بال تیزی سے گرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین مردوں کی طرح سر کے دونوں جانب سے گنج پن کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے ان کا ماتھا چوڑا ہونے لگتا ہے

جسم پر رواں بڑھ جانا

اینڈروجن ہارمون لیول میں اضافہ کے باعث خواتین کے چہرے اور جسم پر رواں بڑھ جاتا ہے ۔ یہ زائد بال موٹے اور گہرے رنگ کے ہوتے ہیں یہ بال جسم کے ان حصوں پر زیادہ نشونما پاتے ہیں جن سے مردوں کی مماثلت پیدا ہو۔ جیسے ٹھوڑی،گالوں ،ہونٹوں کے اوپر سینہ اور رانوں پر ۔

ایک اندازے کے مطابق (PCOS)کی شکار خواتین میں زائد بالوں کی نشونما کی شکایت 60 فیصد پیدا ہوتی ہے

ایکنی

جلد چکنی ہوجانا اور چہرے پر دانے نکل آنا۔ اگر آپ (PCOS) پی سی اوز کا شکار ہیں تو آپ کا چہرہ مستقل چکنا رہے گا جس کی وجہ سے ایکنی کی شکایت شدت اختیار کر جائے گی ۔یوں تو بلوغت میں نوجوانوں کو ایکنی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے لیکن (PCOS) کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایکنی کا علاج لمبے عرصہ پر محیط ہو سکتا ہے

بانجھ پن

پولی سسٹک اووری سنڈروم بانجھ پن کی سب سے عام وجہ ہے ۔ بہت سی خواتین پولی سسٹک اووری سنڈروم کی وجہ سے کوشش کے باوجود حاملہ نہیں ہوپاتیں۔

نیند میں خلل واقع ہونا

پی۔سی۔او۔ایس کی مریضہ کو سوتے میں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جس سے نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی تکان ،چڑ چڑاہٹ پیدا ہونے لگتی ہے

ڈپریشن

ڈپریشن اور (PCOS) کا براہ راست تعلق ہے ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو (PCOS) کا شکار ہوں ان کے مزاج میں سختی ،غصہ ،گھبراہٹ ،بے چینی اور افسردگی طاری رہتی ہے چونکہ خواتین ایکنی ،وزن میں زیادتی ،بانجھ پن کا شکار رہتی ہیں جس کے باعث عدم اطمینان کی کیفیت میں رہتی ہیں۔

تولیدی صلاحیت میں کمی

پی۔سی ۔او۔ایس کی عام علامت تولیدی صلاحیت میں کمی واقع ہونا ہے ،اس بیماری کی وجہ سے خواتین کا ماہواری کا نظام متاثر ہوتا ہے جس کے باعث انڈہ بیضہ دانی سے خارج نہیں ہو پاتا ۔ اگرچہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ڈاکٹر مختلف علاج تجویز کرتے ہیں لیکن حمل ٹھہرنے کے بعد حمل میں پیچیدگی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔البتہ بانجھ پن کے علاج کے ساتھ ورزش ،وزن پر کنٹرول کرنا ،چکنی اور میٹھی چیزوں سے پرہیز کیا جائے تو ماں بننے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں

پی سی او ایس کے علاج سے متعلق چند ضروری معلومات

an image of the treatment of PCOS (Polycystic Ovary Syndrome)

پولی سسٹک اووری سنڈروم کا علاج روزمرہ کی زندگی میں کچھ بنیادی اور ضروری تبدیلیوں کے ذریعے ممکن ہے۔

پی سی او ایس کی علامات واضح ہونے کے بعد ڈاکٹر کے مشورے سے گلوکوز ٹیسٹ ،لپڈ (lipid)  لیول ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کرائیں تاکہ بر وقت علاج کر کے تولیدی مسائل کی پیچیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے

 پی سی او ایس کا علاج اس پر منحصر ہے کہ مسئلہ کیا ہے اور اس کے مطابق پی سی او ایس کا علاج کیا جاتا ہے۔وہ خواتین جن کا وزن زیادہ ہو انہیں  وزن کم  کرنے  کے لئے  تجویز کیا جاتا ہے ۔ اس کے لئے انہیں غذائی پرہیز اور ورزش  وغیرہ بتائی جاتی ہے۔

تحقیق  سے  یہ بات  ثابت ہوگئی ہے کہ وزن کم ہونے سے جو  ہارمونز میں تبدلیاں آتی ہیں وہ کافی  حد تک  ٹھیک  ہو جاتی  ہیں اور پی سی او ایس کی علامات  میں بھی کافی  بہتری آ جاتی ہے ۔ روزانہ90۔60 منٹ تک تیز تیز چلنا وزن کم  کرنے کے  لئے  ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ غذا میں چکنائی والی چیزیں ‘ بیکری کی  میٹھی  چیزیں ٔ‘ میٹھے مشروبات ‘ آلو ‘ چاول وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے 

غذا کے ذریعے پی۔سی۔او۔ایس کا علاج ممکن ہے بشرط یہ کہ مریضہ وزن پر قابو رکھے.ورزش کرے اور نیند پوری کرے ۔

روٹی چاول نہ لیں یا تھوڑا سا لیں اور باقی جس چیز میں غذائیت ہے جیسے کہ انڈا، گوشت ، سبزی اور دال ہے اس کی مقدار بڑھا دیں تو بہتر ہوگا اور اس سے پیٹ بھی بھر جائے گا۔ دودھ دہی کا استعمال کریں اور میٹھے سے پرہیز کریں۔

کاربوہائیڈریٹ غذا کھانے سے پرہیز کریں۔کاربوہائیڈریٹ غذا سے مراد ایسی غذا جو نشاستہ دار ہو، مثلا تلے ہوئے آلو، چکنائی سے بھرپور کھانے، چاول اور تلے یا بھنے ہوئے کھانے سے پرہیز کریں، پھر چاہے وہ ہری سبزیاں ہی کیوں نہ ہوں۔

 

صرف کھانے پینے کی عادات پر قابو کرلیں اور جسمانی سرگرمی بڑھا لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بجائے ہر وقت بیٹھے رہنے کے چلیں پھریں، باقاعدگی سے پارک جا کے چہل قدمی کریں اور ورزش کریں

پی سی او ایس سے جنگ لڑنے کا سنہری اصول یہ ہے کہ کھانا کم کھایا جائے اور چہل قدمی کو معمول بنا لیا جائے جبکہ اندرونی جسمانی مسائل کو ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے

لیموں کے عرق کے ساتھ گرم پانی پینا نہ صرف وزن کو کم کرتا ہے، بلکہ یہ پی سی او ایس کے جراثیم سے بھی محفوظ رکھتا ہے، لیموں میں شامل اجزاء خواتین کے اندرونی نظام کو ان اثرات سے پاک رکھتے ہیں

 

 

ایکسرسائیز کو معمول بنائیں

an image of Incorporate exercise into your daily routine.

 

ایکسر سائیز صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، مگر پی سی او ایس سمیت دیگر اندرونی بیماریوں کے لیے یوگا اور وزن کو کم کرنے میں مدد فراہم کرنے والی ایکسرسائیز زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں، اس لیے ایکسر سائیز کو اپنا معمول بنالیں۔

اگر حیض  باقاعدہ نہ ہو تو اس کو با قاعدہ کرنے کے لئے دوائیاں دی جاتی ہیں اس طرح  اگر چہرے  یاجسم  پر بھی بال زیادہ  ہوں تو اس کی علیحدہ دوائیاں ہیں یہ دوائیاں  کافی عرصے تک کھانا پڑتی ہیں اور  ان کا اثر بھی 6-9  مہینے کے بعد ظاہر ہونا شروع  ہوجاتا ہے اور کم از کم 2 سال تک لینا پڑتی ہیں اس دوران بالوں کے لئے آپ کو تھریڈنگ‘ بلیچ یا لیزر ٹریٹمنٹ کروانا پڑتی  ہیں

وہ خواتین جو بے اولادی کے مرض میں مبتلا ہوں تو ان کا علاج اس کے مطابق کیا جاتا ہے ۔ اس لئے مریض  سے پہلے ڈسکس کر لیا جاتا ہے کہ وہ کس چیز کے لئے  علاج چاہ رہی ہے اور  ان اصولوں پر اس کا علاج کیاجاتا ہے۔ 

حمل ٹھہرانے کی خواہشمند خواتین کیلئے انڈوں کے اخراج کے لئے دوائی دی جا سکتی ہے ساتھ میں وزن کم کرنے سے حیض میں توازن برقرار رکھ کر پی سی او ایس سے متاثرہ خواتین میں حمل ٹھہرنے کے امکانات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ 

پی ۔سی۔او۔ایس کے لئے حمل ضائع کرنے والی دوائیں بھی تجویز کی جاتی ہیں لیکن اچھی ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ان دواؤں کا استعمال کرنا چاہئے ان دواؤں کے تین ،چھے یا آٹھ مہینہ کے کورس کے ذریعے اینڈروجن لیول کم کیا جاتا ہے

پی۔سی۔او۔ایس میں وراثت کا اہم عمل دخل ہے اگر والدہ کو یہ بیماری ہو بچی میں بھی اس بیماری کے منتقل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

چھوٹے بچوں میں نپل یا چوسنی کا استعمال! کیسا ہے؟

an image of Nipples in Infants – Is It Safe?

نومولود بچہ کی نگہداشت اور پرورش ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے جس  کی مکمل ذمہ داری ماں پر ہوتی  ہے۔بچہ جب دنیامیں آتا ہے تو وہ رو کر اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے۔اور جیسے جیسے وہ دنیا سے آشنا ہوتا ہے تو وہ اپنی ہرضرورت اور تکلیف کا اظہار رو کر کرتا ہے ۔جسے بعض اوقات نئی ماؤں کے لئے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ بچہ بلاوجہ رو رہا ہے ۔کچھ تو ماں بننے کے بعد کا ڈپریشن ہوتا ہے اور کچھ ناتجربہ کاری کہ وہ بچہ کی ضرورت اور تکلیف کو سمجھ نہیں پاتیں اور اسے چپ کروانے کے لئے اس کو چوسنی جیسی چیز کا استعمال کروانے لگتی ہیں۔

اکثر سننے میں آتا ہے کہ خاتون نے اپنے صرف ایک ماہ کے بچہ کے رونے پر اس کے منہ میں فوراً چوسنی لگا دی جب ان سے پوچھا جائے یا انھیں اسکے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تو وہ کہنے لگتیں ہیں کہ یہ تنگ بہت کرتا ہے ہر وقت روتا رہتا ہے ۔

جیسا کہ ہر چیز کے فائدے اور نقصانات ہیں اسکے بھی ہیں۔ اب بات کرتے ہیں کہ بچوں میں چوسنی کے استعمال سے کیا فائدے اور نقصان ہو سکتے ہیں۔

بچے کو چوسنی دینے کے فائدے

an image of the benefits of giving a pacifier to a baby

بچے قدرتی طور پر چوسنے کی صلاحیت لیکر پیدا ہوتے ہیں کچھ بچے تو پیدا ہونے سے پہلے ہی انگوٹھا یا انگلیاں چوستے ہیں۔ نپل یا پیسیفائر بچے کی اس قدررتی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ کیونکہ بہت چھوٹا بچہ کھا پی نہیں سکتا صرف سک کر سکتا ہے۔ اب اگر بچہ فیڈنگ کے وقفوں کے دوران سک کرنا چاہتا ہے تو یہ چوسنی اسکی مدد کرتی ہے۔

 

بچوں کو اگر چوسنی کی عادت ڈالی جائے تو ان میں سے بہت کم انگوٹھا چوسنے کی عادت کی طرف مائل ہوتے ہیں

 

چوسنی لینا انگوٹھا یا انگلیاں چوسنے سے بہر حال بہتر ہے۔ والدین چوسنی کے استعمال کو تو کنٹرول کر سکتے ہیں لیکن انگوٹھا چوسنے کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے

 

اگر بچہ بہت زیادہ رو رہا ہے یا بہت الجھن کا شکار ہے تو یہ بچے کو چپ کروانے کے لیے بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے وقتی طور پر بچے کا دھیان رونے سے ہٹ جاتا ہے۔

 

بچے کو سونے کے لیے مدد ملتی ہے۔ بچے کے دودھ پیتے پیتے سونے کی عادت چھڑانے کیلئے ضروری نہیں ہے کہ اسے دودھ کے متبادل کوئی غذا دی جائے ۔چوسنی دے کر بچوں کو سلایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ صرف سوتے وقت چوسنی منہ میں لے کر سونے کا عادی ہو تو پھر ایک دفعہ جب وہ چوسنی کے بغیر سونا سیکھ جائے گا تو چوسنی کی عادت بھی خودبخود ختم ہو جائے گی 

بچہ کی چوسنے کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

بچہ کم روتا ہے پر سکون رہتا ہے۔ چوسنی کی طرف اس کا دھیان لگا رہتا ہے۔ بچہ اپنے آپ کو مینج کر لیتا ہے

جدید ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ چوسنی کے استعمال سے بچوں کی اچانک موت کے رسک میں کمی ہو سکتی ہے

 لوگوں کا کہنا ہے کہ چوسنی پیٹ کے درد کو روکتی ہے 

چوسنی دینے کے نقصان

جہاں ایک چیز کے کچھ فائدے ہیں وہاں اس کے کچھ نقصان بھی ہیں۔ ڈاکٹرز اس کام سے منع کرتے ھیں جبکہ روتے ھوئے بچے کو چپ کروانے کے لیے اس سے بڑا کوئی ھتھیار نہیں۔ 

 اکثر مائیں بچے کو چپ کروانے کیلئے  اسے چوسنی دے دیتی ہیں،چوسنی لگانے سے بچہ چپ تو ضرور ہو جاتا ہے لیکن ماؤں کا یہ عمل آگے جا کر بچہ کی صحت اور نشوونما کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے،

 

✓بچہ ماں کا دودھ پینا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اس کو ماں پینے میں مشکل ہوتی ہے تو وہ فیڈر پینے کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اکثر مائیں سوال کرتی ہیں کہ بچہ بریسٹ فیڈ نہیں کرتا تو ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے

An image of a disadvantage of pacifiers

جراثیم کا داخلہ "Entry of germs"

جب آپ اپنے بچے کو چوسنی لگاتی ہیں تو یہ بات یقینی ہے کہ جتنی دیر آپ کے بچے کے منہ میں چوسنی رہے گی جراثیم آپ کے بچے کے جسم میں داخل ہوتے رہیں گے۔جو اس ننھی جان کو بیمار اور کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔پھر آپ چاہیں اپنے بچے کو کتنا ہی صاف رکھیں اور اس کی نگہداشت کے لئے کتنی ہی مہنگی پروڈکٹ استعمال کریں سب بیکار ہیں۔

منہ کی شیپ

چوسنی آپ کے بچے کے منہ کی شیپ کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس کے ہونٹ منہ میں لگی چوسنی کو مستقل چوسنے کے باعث خراب ہونے لگتے ہیں۔جب آپ اپنے بچے کو فیڈ کروائیں تو بزرگ خواتین مشورہ دیتی ہیں کہ بچہ کو فیڈ کروانے کے بعد ہونٹوں کو انگلی کی مدد سے ہلکے سے ٹیب ٹیب کر دیں تاکہ وہ اٹھیں نہیں کیونکہ اس وقت بچہ کے اعضاء نازک ہوتے ہیں اورا ن کی شیپ خراب ہو جاتی ہے۔

An image of mouth shape due to pacifier use

صحت کے لئے خطرناک

یہ عمل آپ کے بچے کی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ جب بچہ چند ماہ کا ہو جاتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اگر اسکے منہ سے چوسنی کہیں گر جائے تو وہ اسے اٹھا کر دوبارہ اپنے منہ میں لگا لے۔اب بچہ تو اس بات کو نہیں سمجھتا کہ اس کی چوسنی کسی صاف جگہ گری ہے یا گندی جگہ۔بعض اوقات جب بچے نے پیمپر نہیں پہنا ہوتا تو بچہ پشی پوٹی کر دیتا ہے اور پھر آگے جو ہوتا ہے وہ آپ خود سمجھ سکتی ہیں۔

چوسنی لینے والے بچوں کو کان کے انفکشن زیادہ ہوتے ہیں۔

آلودہ پلاسٹک پروڈکٹ

چوسنی ایک پلاسٹک پروڈکٹ ہے اور ہم سب ہی اچھی طرح واقف ہیں کہ آج کل پلاسٹک پروڈکٹ کس طرح تیار کی جا رہی ہیں۔ریسائیکلنگ کے بعد تیار کی جانے والی پلاسٹک پروڈکٹ جس میں پانی تک رکھنے کے ممانعت ہے تو وہ آپ اپنے بچہ کے منہ میں کس طرح لگا سکتے ہیں۔بچہ آپ کا وقت لیتا ہے لیکن چند ماہ بعد سیٹ ہو جاتا ہے اسی لئے خطرناک شارٹ کٹ سے گریز کریں۔

پیٹ کی خرابی

چوسنی لگانا گویا بچہ کے پیٹ میں جراثیم کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔جب بچے کے دانت نکلنے لگتے ہیں تو وہ اپنے دانتوں سے چوسنی کو چبا کر کاٹ بھی دیتا ہے اور کبھی کبھار اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بچے کے پیٹ میں بھی داخل ہوجاتے ہیں۔لہٰذا آئے دن بچہ کے پیٹ کی خرابی کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ آپ کا غلط طرز عمل ہے ۔

چوسنی کو کبھی بھی ڈوری وغیرہ میں ڈال کر بچے کی گردن میں نہ ڈالیں ورنہ یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے

عادت چھڑانا مشکل

آگے جا کر جب بچہ بڑا ہونے لگتا ہے تو آپ کو خود اس کے منہ میں لگی چوسنی بری لگنے لگتی ہے اور جب آپ چاہتی ہیں کہ بچہ اسے چھوڑ دے تو یہ اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ بچہ اس کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔شروع شروع میں جب آپ بچے کو چوسنی لگاتی ہیں تو وہ اسکا عادی ہونے میں ٹائم لیتا ہے اور منہ سے نکال دیتا ہے ۔پہلے چوسنی لگانا مشکل ہوتا ہے لیکن آگے جا کر اسے چھڑوانا اور بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر چوسنی دینی ہے تو اس کی کیا احتیاط ہے؟

An image of a product should meet all standards.

پراڈکٹ تمام تر معیارات پر پورا اترتا ہو

کسی اچھی کمپنی کی تیار شدہ بہترین معیار کی چوسنی خریدئیے، جس کے لیے ممکن ہے کہ آپ کو تھوڑے اضافی پیسے خرچ پڑ جائیں تو بچوں کی صحت کے لیے کر لیں۔

بچے کی عمر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے

چوسنی کے درست سائز کے انتخاب کے لیے یہ عام طور پر عمر کے لحاظ سے 3 اقسام میں بنائی جاتی ہیں: پہلی، پیدائش کے بعد سے 6 ماہ کی عمر کے بچوں کے لیے، دوسری 6 ماہ سے 18 ماہ کے بچوں کے لیے۔ اور ان کو ساتھ ساتھ بریسٹ فیڈنگ کی عادت ڈالیں۔

لیٹیکس یا سلیکون کی چوسنی کا استعمال کریں؟

an image of a latex or silicone pacifier

لیٹیکس سے بنی چوسنی زیادہ عرصے تک قابلِ استعمال رہنے والی اور لچکدار ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ ان بچوں کے لیے بہت ہی بہتر ثابت ہوتی ہے جن کے دانت آنا شروع ہوگئے ہیں۔ تاہم اس چوسنی کا اہم نقصان یہ ہے کہ سورج کی تپش سے یہ خراب ہوسکتی ہیں۔ اس لیے اس کو دیتے وقت خاص خیال رکھیں۔

چوسنی کو کچھ عرصے بعد تبدیل کرنا چاہیے

بہترین سے بہترین چوسنی بھی ہمیشہ کے لیے قابلِ استعمال نہیں ہوتی اور انہیں بہت زیادہ استعمال کے بعد بدل لینا چاہیے۔

سیفٹی اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو ہر 2 ماہ بعد چوسنی بدلنی چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب چوسنی پر کاٹنے کے نشان ہوں، وہ چپچپی ہو رہی ہو یا اس کا رنگ ہلکا ہوچکا ہو۔

چوسنی کا استعمال زیادہ نہیں کرانا چاہیے کیونکہ یہ بہرحال کئی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ صرف بعض ناگزیر حالات میں استعمال کرنا چاہیے جب کہ بچہ رو یا تنگ کر رہا ہو۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر بچے کو اچھی طرح سے ماں کا دودھ پلایا جائے اور اس کی ہر طرح سے تسلی ہو تو وہ انگوٹھا چوسنے یا چوسنی کی طرف مائل نہیں ہوتا اس لیے ماﺅں کو کوشش کرنی چاہیے کہ فیڈر کے بجائے اپنا دودھ زیادہ پلائیں تاکہ بچے میں کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہ جائے اور وہ لاشعوری یا شعوری طور پر مصنوعی طریقوں کی طرف مائل نہ ہو سکے

بچے اور موبائل فون کا استعمال! بچوں کو موبائل اسکرین کی خطرناک شعاعوں سے کیسے بچائیں؟

an image of Protect Children from the Harmful Rays of Mobile Screens

جدید ٹیکنالوجی آئی تو لیپ ٹاپ اورکمپیوٹر کی جگہ آئی پیڈ اور ٹیب استعمال ہونے لگے۔ ہر پل دنیا سے جڑے رکھنے والی ٹیکنالوجی سے خارج ہونے والی الیکٹرومیگنیٹک ریڈیئیشن یعنی تابکاری شعاعوں کے ہمارے دماغ اورجسم پراثرات اتنے خطرناک ہیں جس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔موبائل فون کااستعمال ضرورت سے زیادہ اب عادت بن چکاہے۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ انسان موبائل نہیں بلکہ موبائل انسان کواستعمال کر رہا ہے۔بے شک یہ ضرورت ہے لیکن اب عادت اور مجبوری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ہمارا بچہ تو موبائل فون کا اتنا دیوانہ ہے کہ پوچھو مت، ہمیں اس کے اتنے فیچرز نہیں پتہ جتنے اسے پتہ ہیں

ارے بچے تو بچے ہیں موبائل  فون سے تھوڑا بہل جاتے ہیں اس میں حرج ہی کیا ہے۔۔

بچہ تھوڑا کھیل لے گا اسے موبائل فون دے دیں کیا ہوجائے گا، کچھ نہیں ہوتا سب کہنے کی باتیں ہیں

یہ وہ جملے ہیں جو کم و بیش الفاظ کی تھوڑی تبدیلی کے ساتھ آج کل آپ کو ہر گھر میں سننے کو ملیں گے، ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں انسان کیلئے بے پناہ آسانیاں پیدا ہوئی ہوئیں اس جدت اور ٹیکنالوجی نے انسان کو نت نئے مسائل اور بیماریوں کی آماجگاہ بھی بنا دیا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک سال کے بچے کے ہاتھ میں بھی ماں باپ بڑی بے فکری سے موبائل فون  پکڑا دیتے ہیں اور یہی کہتے نظر آتے ہیں ، خوش ہوجاتا ہے موبائل فون دیکھ کر۔پھر رفتہ رفتہ یہ کچھ منٹ سے کچھ گھنٹے اور بچے کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ موبائل فون استعمال کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے ماں باپ بچوں کو آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں اور وہ کمرے میں بند، آنکھوں سے فون  اور کانوں میں ھینڈز فری لگائے مگن ہوتے ہیں، انھیں دنیا جہاں، ملنے جلنے، گھر میں دلچسپی کسی سے کوئی غرض نہیں رہتی، پھر والدین افسوس کرتے اور چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔

موبائل فون کے استعمال کے مضر اثرات

an image of the harmful effects of mobile

✓والدین سے دوری اور سماجی تعلقات کا کم ہو جانا

بچوں میں موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان جو سامنے آ رہا ہے کہ انھیں اب سماجی تعلقات، میل جول، بہن بھائیوں اور والدین سے بات کرنے کے بجائے موبائل فون میں گم رہنے مین زیادہ مزہ آتا ہے یہاں تک کے اگر آپ زبردستی انھیں کسی تقریب میں لے جائیں تو وہاں بھی وہ میل جول اور ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے موبائل فون سے ہی خود کو مصروف رکھے نظر آئیں گے۔فونز نے سماجی تعلقات اور تربیت میں جو رکاوٹ ڈالی ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں نتیجے میں جب یہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی تربیت ویسی نہیں ہو پاتی جیسی معاشرے میں جینے کیلئے لازمی ہے اور یہ بچے اپنے خول میں بند ہو کر معاشرے سے بالکل کٹ جاتے ہیں

✓ٹیومر کا خطرہ

عام طور پر بچے موبائل فونز استعمال کرتے ہوئے اپنی سماعت کو مکمل فون پر ہی فوکس رکھتے ہیں یہ اس وقت اور خطرناک ہوجاتا ہے جب ان میں ہینڈز فری کے استعمال کی عادت پیدا ہوجاتی ہے، کانوں اور دماغ کے درمیان ایک باریک جھلی جو دماغ کو کسی بھی آواز کی کیفیت کی صورتحال سے آگاہ کرتی اور دماغ اسی لحاظ سے پورے جسم کو کمانڈ بھیجتا ہے یہ جھلی متاثر ہوکر پھٹ جاتی ہے اور اس کے بعد ایک ہلکا سا زخم کانوں اور دماغ کے درمیان بنتا ہے جو رفتہ رفتہ ایک ٹیومر کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

✓بینائی پر اثر

مسلسل فون کے استعمال سے اس کی اسکرین سے نکلنے والی قاتل روشنی بینائی پر سخت برا اثر ڈالتی ہے جس سے بینائی کمزور یا بصارت سے محرومی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

✓ذہنی وجسمانی  نشونما  کا متاثر ہونا

موبائل فونز استعمال کرنے والے بچے اس سے نکلنے والی مخصوص اور خطرناک لہروں کے قیدی بن جاتے ہیں  یہ لہریں  بچوں کی ذہنی  وجسمانی نشونما میں رکاوٹیں ڈال کر اسے صرف ایک جانب سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں یا اس کی جسمانی ساخت کو متاثر کرتی ہیں  نتیجے میں وہ موبائل فون یا گیمز کے معاملے مین تو بہت تیز ہوجاتا ہے لیکن زندگی کے دیگر اہم شعبوں میں بات کرنے یا اپنی صلاحیتیں دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔اور اس کا جسم اس کی عمر کے لحاظ سے نشونما نہیں پاتا۔

✓تعلیمی صلاحیت میں کمی اور امتحانات کے  نتائج پر اثرات

موبائل فونز استعمال کرنے والے بچوں کی اکثریت چونکہ اپنا زیادہ تر وقت موبائل فون پر ہی لگاتی ہے اس لیئے ان کی توجہ اور یکسوئی کتابیں پڑھنے اور اسے یاد رکھنے  سے ہٹ جاتی ہے، اور جس وقت موبائل فون کی جگہ ان کے ہاتھوں میں کتاب ہو تب بھی ان کا ذہن موبائل فون کے کسی نہ کسی فیچر میں ہی الجھا ہوا ہوتا ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی صلاحیت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی قابلیت و اہلیت دن بدن کم ہوتی جاتی ہے

an image of an image of the harmful effects of Mobile

بچوں کو موبائل کی عادت سے کیسے بچائیں؟

an image of Don't show cartoons on mobile

✓آپ خود موبائل کااستعمال کم کریں

سب سے پہلے آپ کو اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔اگر آپ بچے کے سامنے ہر وقت موبائل استعمال کریں گے تو آپ کا بچہ بھی اس کی ڈیمانڈ کرے گا۔اسے لگے گا کہ جس طرح کھانا، پینا، سونا، جاگنا زندگی کا حصہ ہے بالکل اسی طرح روزانہ موبائل کا استعمال بھی اس کی اہم ضرورت ہے۔یاد رکھیں بچہ سنتا کم ہے دیکھتا زیادہ ہے۔

✓بچوں کووقت دیں

بچے موبائل اسی وقت لیتے ہیں جب وہ فارغ ہوتے ہیں۔ انھیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ کیا کریں۔ پہلے تو ان کی بوریت دور کریں ان کے ساتھ کھیلیں۔انھیں کہانیاں سنائیں۔ماضی کے واقعات اورتجربات سے آگاہ کریں۔اچھے برُے کی تمیز سکھائیں اور انھیں تنہائی سے بچائیں۔کسی بھی بچے کی ذہن سازی ،خیال سازی اورشخصیت کو بنانے کے لئے ہیومن ٹچ (Human touch) بہت ضروری ہے۔

✓کارٹون موبائل پر نہ دکھائیں

اینیمیٹڈ کارٹون، الیکٹرانک گیمز اور دیگر وڈیوز بچہ کو موبائل پر دکھانے کی عادت نہ ڈالیں۔اگر آپ کو اپنا بچہ اور اس کی صحت عزیز ہے توبچہ کو ضد کرنے ، رونے، کھانا نہ کھانے پر موبائل ہرگز نہ دیں۔ یاد رکھیں موبائل فون کی بے جا عادت اب نشہ میں شمار ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جب تک آپ کا بچہ اسے ہاتھ میں نہ لے لے مطمئن نہیں ہوتا۔

بچے جو احساس دلائیں کہ موبائل ضرورت کی چیز ہے

بچہ کواحساس دلائیں کے موبائل فون ضرورت کی چیز ہے اسی لئے اسے صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کرنا چاہئے۔ ساتھ ساتھ موبائل کے اضافی استعمال سے ہونے والے نقصانات سے بچہ کو آگاہ کریں۔

✓سگنل آف کردیں

ان تمام انرجی سورسس کا ٹرن آف ٹائم بھی ہونا چاہئے۔تبھی آپ بچ سکتے ہیں اگر آپ نے کوئی بھی ڈیوائس آن رکھی ہے تواس کے اثرات مستقل آپ پر پڑتے رہیں گے۔اس سے پلوشن ہرطرف پھیلتی رہے گی۔اگر اس سے بچنا ہے تو استعمال کے بعد اسے آف کرنا نہ بھولیں۔

موبائل فون ہمیشہ ہاتھ میں نہ رکھیں

اگرآپ اپنے ہاتھ میں موبائل فون رکھیں گے توآپ کا بچہ بھی رکھے گا۔ اس بات کا احساس سب سے پہلے آپ کو کرنا ہے کہ صرف ضرورت کے وقت ہی موبائل اپنے ہاتھ میں رکھیں۔اگرآپ خود ہر وقت موبائل استعمال کریں گے توآپ کا بچہ بھی اسی عادت کو اپنائے گا کیونکہ آپ کا بچہ آپ ہی کا طرزعمل اختیار کرتا ہے۔

✓تربیت پرتوجہ دیں

پہلے گراؤنڈ نہیں تو بچے گلیوں میں ہی کھیل لیتے تھے۔اب حالات کے ڈرسے یہ بھی ممکن نہیں رہا۔ اکثر ماؤں نے اپنی تربیت کی ذمہ داری سے جان چھڑا لی ہے۔تربیت کرنا ایک بڑا مشکل عمل ہے اس کے لئے صبر و برداشت چاہئے ۔بچہ کئی سوالات پوچھتا ہے وقت مانگتا ہے۔پہلے والدین وقت دیتے تھے سوال کاجواب دیتے تھے۔اس طرح ان کے اندر جو جذبہ ہوتا تھا وہ بچوں میں منتقل ہو جاتا تھا۔

✓آگاہی مہیا کریں

آنکھوں میں اندر آپٹیکل نرو کا سسٹم ہوتا ہے۔موبائل کی شعاعوں سے وہ تحریک میں آ جاتی ہے جس سے آنکھیں خراب ہوتی ہیں۔توجہ کی کمی ہوتی ہے۔غصہ زیادہ آتا ہے۔فیصلہ کرنے میں مشکل درپیش آتی ہے۔آپ جو چاہتے ہیں کے آگے جا کر آپ کاب چہ ڈاکٹر،انجینئر یا کامیاب انسان بنے توجان لیں کہ اس موبائل سے اگلے دس سالوں کے اندر بچے کی ذہنی کارکرگی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

an image of turning off the signal

اصول بنائیں "Build principles"

۔کھاتے وقت بچہ کوموبائل ہر گزنہ دیں یہ نہ سوچیں کہ وڈیو دیکھتے دیکھتے بچہ کھانا آرام سے کھا لے گا۔

۔گھرکے تمام افراد کے لئے دسترخوان پر موبائل ساتھ رکھنے پر پابندی لگائیں۔

۔کئی بیماریوں کی وجہ موٹاپے سمیت یہی ہے کہ اگر کھانا کھاتے وقت آپ کھانے پردھیان نہ دیں تو آپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ آپ کیا اور کتنا کھا رہے ہیں ۔ اس کی لذت دماغ جذب نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے آپ کھانے کی افادیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔

۔ہفتے میں ایک دفعہ ایک گھنٹہ کے لئے بچوں کوموبائل دینے کا اصول مرتب کریں۔

۔ہر وقت اور ہر جگہ موبائل فون کو سامنے ہر گز نہ رکھیں۔

احتیاطی تدابیر اپنائیں "Adopt precautionary measures"

an image of adopting precautionary measures

وائرلیس نیٹ ورکنگ کی بڑھتی ہوئی فریکوئنسی کی شکل میں ہمارے دماغ کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اسی لئے بچوں کوآگاہی دیں کہ:

۔مناسب والیم کے ساتھ ہینڈ فری ،بلوٹوتھ یااسپیکر کا استعمال کریں۔

۔سوتے وقت موبائل فون تکیے کے نیچے نہ رکھیں۔

۔موبائل فون کواستعمال کے وقت بھی جسم سے کم ازکم چھ انچ کے فاصلے پررکھیں۔

۔چارجنگ کے دوران موبائل فون استعمال نہ کریں۔برقی مصنوعات کاچارجنگ کے دوران استعمال سے خطرہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

۔اندھیرے میں موبائل کے استعمال سے گریز کریں۔

سب سے پہلے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچوں کو موبائل فون کم ازکم 16 سال کی عمر سے پہلے کسی صورت نہیں دیا جائے گا، اگر سکول یا کالج یا کسی جگہ جاتے ہوئے بچوں سے رابطے کا مسئلہ ہے تو صرف اتنے وقت کیلئے ایک عام سا فون جس میں صرف کال سننے اور کرنے کی سہولت ہو وہ بچے کو دیا جاسکتا ہے، ورنہ بچوں کیلئے موبائل فون کی عمر 16 سال سے کم نہ ہو۔

16 سال کی عمر میں بھی موبائل فون دینے کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ محفوظ اور آپ فکروں سے آزاد ہوگئے، بلکہ آپ اس کیلئ وقت مقرر کریں اور ساتھ ہی نگاہ رکھیں کہ وہ فون پر کیا دیکھ رہا ہے کس طرح استعمال کررہا ہے اس کی دلچسپیاں کس چیز میں ہیں۔

بچوں کے ساتھ ہی کچھ احتیاطی تدابیر والدین کو بھی اختیار کرنا ہوں گی

نوزائیدہ بچوں کا پیٹ کا درد ، وجوہات ، اور علاج

An image of abdominal pain in newborns

شیر خوار بچوں میں پیٹ کا درد ایک عام مسئلہ ہے جس میں بچہ تکلیف کے باعث اپنی ٹانگوں کو اکڑا کر چیختا ہے ۔ بچہ درد سے چیخ رہا ہوتا ہے تو ماں کے علاوہ پورا خاندان اپنے آپ کو ایک مصیبت میں محسوس کرتا ہے ۔ جس کا حل ان کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ اگرچہ بعض جسمانی یا اندرونی خرابیاں صرف ڈاکٹر کی مدد سے ہی حل ہو سکتی ہیں ۔ لیکن عام بچوں کے سلسلے میں والدین اگر کچھ سمجھداری سے کام لیں تو ان کو بھی اور بچے کو بھی اس سے راحت مل سکتی ہے ۔عموماً بچوں کے پیٹ کا یہ درد تین چار ماہ میں ختم ہو جاتا ہے۔بچوں کو اکثر بہت سی تکلیفیں ہوتی ہیں جو کہ بچے بتا نہیں سکتے۔ اور اس طرح بچے رو کر اپنی تکلیف کا اظہار کرتے ہیں اور بچوں کو اکثر گیس کی بہت شکایت ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کے پیٹ میں بہت درد ہوتا ہے اور ساری ساری رات بچے روتے رہتے ہیں۔ اور اس سے مائیں ھی بہت پریشان ہو جاتی ہیں اور اس لیے آپ بچوں کے لیے احتیاط کریں

پیٹ کے درد کی وجوہات

یوں تو اس پیٹ کے درد کی وجہ کے بارے میں یقینی طور پر کہنا مشکل ہے مگر اس کی کچھ وجوہات بہت کامن ہیں۔

گیس

پیٹ کے درد کی سب سے واضح وجہ یہ ہے کہ بچہ گیس خارج کرتا ہے اور اس کا پیٹ پھول جاتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں اور عموماً زیادہ دودھ پینے کے بعد یہ علامات شروع ہو جاتی ہیں ۔ بچے کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور اگر یہ پہلے سے موجود ہو تو دودھ پینے کے بعد اس میں اور شدت آ جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر بچے کے پیٹ میں گیس آتی کہاں سے ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دودھ پینے کے دوران بالخصوص فیڈر سے تو وہ کافی زیادہ ہوا دودھ کے ساتھ نگل جاتا ہے ۔ دوسری صورت میں گیس اندرونی طور پر پیدا ہوتی ہے ۔ یہ گیس عموماً بڑی آنت میں پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہاں ایسے جراثیم موجود ہوتے ہیں جو پروٹینز اور شوگر کو توڑ کر مختلف گیسوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

An image of baby intestinal gas

"بوٹل فیڈنگ" Bottle-feeding

اگر بچہ فیڈر سے دودھ پی رہا ہو تو وہ اوور فیڈنگ یعنی زیادہ مقدار میں دودھ پی سکتا ہے جس سے اس کا پیٹ زیادہ بھر جائے گا اور وہ تکلیف کا باعث ہو گا ۔ اس مشکل سے بچنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ دودھ کی مقدار کم کر دی جائے ۔ اس سے بظاہر یوں محسوس ہو گا کہ بچہ بھوکا رہ گیا ہے لیکن اصل میں بچہ اتنا بھوکا نہیں ہوتا جتنا نپل کو چوسنا اس کی عادت اور نفسیاتی ضرورت بن چکی ہوتی ہے ۔اگر اس حالت میں بچہ تمام دودھ کو ہضم کر بھی لے تب بھی ضرورت سے زیادہ بھرا ہوا پیٹ بے آرامی کا باعث ہو سکتا ہے ۔بچہ دودھ پینے کے دوران ہوا بھی ساتھ ساتھ نگلتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ مائیں دودھ پلانے کے بعد بچے کو عمودی حالت میں رکھتی ہیں تاکہ ڈکار آ کر نگلی ہوئی ہوا باہر نکل جائے ۔

بعض اوقات بچے بہت زیادہ ہوا نگل جاتے ہیں، خاص طور پر شروع کے دنوں میں ۔ اگر دودھ پلانے سے پہلے نپل چیک کر لیا جائے کہ اس کے سوراخ بند یا تنگ تو نہیں ہیں ۔ یا نپل بوتل کے ساتھ صحیح طور پر کسا ہوا ہے تو بچے کے ہوا نگلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔ بوتل کو ایسے پکڑنا چاہیے کہ بچے کے منہ میں دودھ ہی جائے اور ہوا نہ جائے ۔

An Image of bottle feeding

ڈبے کا دودھ

پیٹ کے درد کا ایک سبب دودھ سے پیدا ہونے والی حساسیت بھی ہے ۔ ڈبے کا دودھ اگرچہ احتیاط سے تیار کیا جاتا ہے لیکن اس میں موجود پروٹین بعض بچوں کے لیے ٹھیک نہیں ہوتے ۔ ان سے آنتوں میں رد عمل کے طور پر سوجن پیدا ہو سکتی ہے ۔ اگزیما کی طرح جسم پر لال دھبے یعنی Rash اور  الرجی ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ دودھ کی حساسیت کے باوجود یہ علامات پیدا نہ ہوں اور صرف پیٹ کا درد ہی اس کی علامت ہو ۔

یہ علامات گائے یا بھینس کے دودھ سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں ۔ اس طرح سے پیدا ہونے والی الرجی کی تشخیص مشکل ہوتی ہے۔ لیکن اس کا علاج سادہ ہے وہ یہ کہ گائے کے دودھ کی بجائے سویا بین سے حاصل کردہ ڈبے کا دودھ دیا جائے جو بازار میں دستیاب ہے ۔ 

پیٹ کے درد کی ان وجوہات کے علاوہ دوسرے اسباب بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس صورت میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ کسی سمجھدار ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے ۔ اس کا علاج جتنی جلد ہوجائے بہتر ہے کیونکہ یہ ایک قسم کا سائیکل سا بن جاتا ہے جس میں بچہ درد سے چیختا چلاتا ہے اور ہوا کی مزید مقدار نگلتا رہتا ہے جس سے اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے لیکن اس سائیکل کو سمجھداری سے توڑا جاسکتا ہے ۔

an image of powdered milk

"علاج" Treatment

مائیں بچے کے درد کا علاج مناسب احتیاطی تدابیر سے کر سکتی ہیں ۔

ہر دفعہ دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلائیں اور اس کے بعد بھی کچھ دیر کندھے سے لگا کر سیدھا رکھیں ۔

بچے کوپیٹ کے بل لٹانے سے بھی آرام ملتا ہے یا کندھے سے لگا کر سہلانے سے بھی آرام آتا ہے ۔ اگر آپ بچے کو اپنی گود میں ایسے بٹھائیں کہ اس کے پیٹ پر آپ کا ہاتھ ہو تو بھی وہ آرام محسوس کرتا ہے ۔

بعض دفعہ بچے کو تھوڑا آگے پیچھے جھولانے سے یا گاڑی میں بٹھا کر سواری کرانے سے بھی پیٹ درد سے آرام ملتا ہے ۔

ماں کی خوراک کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔بعض دفعہ ماں محسوس کرتی ہے کہ وہ کوئی خاص غذا لیتی ہے تو بچہ بے چین ہو جاتا ہے اور روتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ماں کی غذا کا کوئی جز دودھ سے بچے میں پہنچ کر اسے تکلیف پہنچاتا ہے ۔ یہ عمل کسی بھی غذا سے ہو سکتا ہے اور صرف ایسا محسوس ہوتو ماں اس غذا سے پرہیز کر کے بچہ کو آرام پہنچا سکتی ہے۔ ماں جو چاہیے کہ نرم غذا کا استعمال کرے اور اچھے سے چبا کر کھانا کھائیں۔

اگر ددوھ پلانے والی ماں بادی اشیاء کا استعمال کرے تو یہ بھی آپ کے بچے کے لیے بہت بترین ہے۔ اور سب سے پہلے آپ اپنے کھانے پینے کی احتیاط کریں۔ اور اس کے بعد بچوں کے لیے کوئی اور ترکیب استعمال کریں 

بچہ ڈبے کا دودھ پی رہا ہو تو ایسے فارمولے کے بجائے جو گائے کے دودھ سے تیار کیا گیا ہو ۔ ایسا فارمولا استعمال کریں ۔جو سویا بین کے آٹے سے تیار کیا گیا ہو ۔ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ بچے کو دودھ کی حساسیت تو نہیں ہے

بچوں کو اگر پیٹ کے درد کی شکایت ہو تو بچوں کو سہاگہ پیس کر اس میں شہد ملا کر اسے انگلی کی مدد سے بچوں کے منہ میں لگائیں۔ بلکل تھوڑا تھوڑا اس سے بچوں کے پیٹ کا درد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اور اس سے بچوں کا ہاضمہ بھی درست رہتا ہے 

جن بچوں کے پیٹ میں درد ہو۔ ان بچوں کے لیے سرسوں کا تیل نیم گرم کر کے اس کے بعد اس تیل سے بچوں کی مالش کر لیں ۔اس سے بچوں کے پیٹ کا درد بھی ختم ہو جائے گا ۔اور گیس کی شکایت بھی نہیں رہے گی 

فیڈر پینے والے بچوں کو آپ زیتون کا تیل نیم گرم کر کے بچے کے پیٹ پر لگا کر مالش کر لیں ۔اور اس سے آپ کے بچے کی آنتیں نرم رہیں گی.

اگر اپ کا بچہ فیڈر پیتا ہے۔ تو اس کے لیے آپ فیڈر کو اْبال لیں۔ اور روز فیڈر کو تین بار بؤائل کریں ۔اور اس کے بعد آپ فیڈر کو ہر دو ماہ بعد تبدیل کریں

اگر بچہ فیڈر پیتا ہے تو دودھ بنانے کے لیے جو پانی استعمال کریں وہ پانی سونف والا ہو سونف کو پانی میں اْبال کر آپ استعمال کریں۔ یہ آپ کے بچے کی گیس کو بھی ختم کرتا ہے 

گرائپ واٹر پلائیں ۔ گرائپ واٹر جڑی بوٹیوں اور پانی سے مل کر بنتا ہے اور پیٹ کی تکلیفوں کے لیے بہترین ہے ۔  

ان تمام تدابیر کے باوجود اگر کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو تو اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں فوری مشورہ طلب کریں ۔ مناسب اور بر وقت طبی مشورے کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا ۔

an image of treatment for abdominal pain