İnternet kazinosu Əlavə Aspektlər və Marketinq və Reklam Mükafatı Texnoloji olymp casino online yeniliyə başlayın

Qumar müəssisələrinin fayda mexanizmləri istehlakçıların toy mərasimlərini yaxşılaşdırmaq üçün əsas mənbələrdən biridir. Bununla belə, əlavə bonusların artırılması qanunvericiliyi və şərtləri ifadə edən sərt bir uyğunluq tələb edir.

Məsələn, onlayn kazino, demək olar ki, bütün iştirakçılarına qeydiyyat bonusları təklif edir və ilkin ödəniş etmək istəyirsinizsə, əlavə bonuslar olmadan pulsuz fırlanmalar təklif edir. Continue reading “İnternet kazinosu Əlavə Aspektlər və Marketinq və Reklam Mükafatı Texnoloji olymp casino online yeniliyə başlayın”

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کیوں ہوتا ہے

An image of jaundice occurring in newborn babies?

Why does jaundice occur in newborn babies?

Table of Contents

حمل کے دوران بچے کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور پریگنینسی کے دوران یہ ضرورت خون کے سرخ خلیے پوری کرتے ہیں اس لیے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کچھ بچوں میں سرخ خون کے خلیے اْنکی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بچے جب پیدا ہو جاتے ہیں، تو اْنہیں جسم میں آکسیجن ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے اتنے زیادہ سرخ خون کے خلیوں کی ضرورت نہیں رہتی جتنی اْنہیں حمل کے دوران بچہ دانی میں ہوتی ہے۔ جب یہ زائد سرخ خون کے خلیے ٹوٹتے ہیں تو یہ بیلیروبن(bilirubin) کو آزاد کر دیتے ہیں. بیلیروبن ایک رنگدار مادہ ہے جو سرخ خون کے خلیوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور جیسے ہی یہ خلیے اپنی ٹوٹتے ہیں یہ مادہ قدرتی طور پر آزاد ہو جاتا ہےجو گردوں میں جاکر جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ چونکہ نوزائیدہ بچوں کے گردے پوری طرح سے ایکٹو نہیں ہوئے ہوتے اس لیے یہ بیلیروبین والا مادہ فلٹر نہیں کر پاتے جس کے باعث یہ مادہ بچے کی جلد میں جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے جو پیلیا یعنی یرقان کہلاتا ہے۔جیسے ہی گردے سہی طرح کام کرنا شروع کردیتے ہیں پیلیا ختم ہوجا تا ہے۔

An image of jaundice occurring in newborn babies

اس کے علاوہ یرقان کی طبیعیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں مثلاً بچوں کے جگر کا مکمل نشونما تک نہ پہنچنا, 9 ماہ پورے ہونے سے پہلے بچے کی پیدائش ہونا، بلڈ گروپ کے مسائل یعنی ماں اور بچے کا بلڈ گروپ کا مختلف ہونا، یا پھر ہیپاٹائٹس بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر نوزائیدہ بچوں میں یرقان نارمل ہوتا ہے جو 2 سے 3 ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے

نوزائیدہ بچوں میں یرقان ہونے کی کیا علامات ہو سکتی ہیں

 

بچوں میں یرقان کا پتا لگانا بے حد آسان ہے۔ اس کے علامات بڑی جلدی ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ آپ بچے کے سینے پر ہلکا سا دباؤ ڈالیں۔ اگر ہاتھ ہٹانے پر اس جگہ پہ ہلکی سی زرد رنگت نظر آتی ہے تو اپنے معالج سے رابطہ کریں اس کے علاوہ ناک یا پیشانی پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالیں۔ اگر جلد سفید ہوجائےتو یرقان نہیں ہے۔ اگر جلد میں پیلاہٹ دکھائی دے تو فوراً اپنے بچے کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اس کے علاوہ یرقان میں بچے کے ہاتھ، پاؤں اور مسہوڑے بھی پیلے ہونے لگ جاتے ہیں آنکھوں کی سفیدی بھی پیلی پڑسکتی ہے۔پیلاہٹ سب سے پہلے چہرے پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر سینا، پیٹ اور سب سے آخر میں پاؤں پیلے ہونے لگتے ہیں۔

نوزائیدہ کے پیلیا/ یرقان زیادہ تر بغیر کسی علاج کے  1 سے 2  ہفتہ کے اندر خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے، اس لیے والدین کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اکثر بچوں میں یرقان ایک سے دو ہفتے میں ٹھیک تو ہو جاتا ہے پر بچے کا ڈاکٹر اس بات کافیصلہ کرتا ہے کہ بچہ خود بخود صحت یاب ہو جاۓ گا یا اسے علاج شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ 

An image of jaundice symptoms occurring in newborn babies

-اگر یرقان معمولی نوعیت کا ہو تو یرقان سے متاثرہ بچوں کو زیادہ دودھ پلانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس طرح جسم سے بلیو ریبن مادہ خارج کرنے میں مدد ملتی ہے اور پرقان بھی ٹھیک ہو جاتا ہے

آپ نے کچھ لوگوں سے سُنا ہوگا کہ وہ یرقان کو ماں کی چھاتی سے حاصل ہونے والی خوراک یا دودھ سے منسوب کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ یرقان ماں کے دودھ سے منسوب کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ نارمل ہے اور اس سے بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

فارمولا دودھ بھی دیا جا سکتا ہےاگر بچوں کو ماں کا دودھ پینے میں مشکل ہو اور ان کا وزن گرنے لگے یا جسم میں پانی کی کمی ہونے لگے تو ڈاکٹر ڈبے کا دودھ لکھ کر دے دیتے ہیں۔ ماں کے دودھ کے ساتھ فورمولا دودھ بھی دیا جاتا ہے اور کبھی کچھ دنوں کے لیے ماں کا دودھ بند کرکے فورمولا دودھ کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ غرض دودھ کے بارے میں اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔

An image of Sunlight checking the jaundice

سورج کی روشنی

بچے کو دھوپ کی روشنی میں پندرہ منٹ کے لیے لے کر بیٹھ جائیں۔ صبح کی روشنی بچے کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہے۔ یہ عمل دن میں تین سے چار بار روزانہ کریں جب تک کہ یرقان ٹھیک نہ ہو جائے۔ سورج کی روشنی سے بیلیروبن گھل جاتا ہے اور بچے کے جسم سے آسانی سے خارج ہو جاتا ہے۔

کب بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں

An image of jaundice occurring in newborn babies?

یرقان تیزی سے بڑھ رہا ہو (جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کا پیلا ہونا)

-آپکے بچے کو بخار ہے

-آپ کا بچہ بہت زیادہ سُست یا ڈھیلا نظر آ رہا ہےآپ

۔دودھ پینے کی خواہش کم ہونا

-جسم میں پانی کی کمی ہونا

-یا بچہ ایکٹو نہ ہو دودھ پینے کے لیے بھی نہ جاگے

-اگر 2 سے 3 ہفتے بعد آپ کے بچے کا پیلیا ٹھیک نہیں ہوتا ہے یا بچے کے پاخانے کا رنگ خلاف معمول بدل جاتا ہے تو یہ بھی کسی بیماری کی وجہ سے ہوسکتا ہے 

اگر آپ کے بچے میں یہ علامات ہوں تو اسکو فورا ڈاکٹر کے پاس کے جائیں

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے میں یرقان 3 سے5 دن بعد ظاہر ہو اس لیے اگر آپ کو یہ کہا جاتا ہے کہ ڈسچارج ہونے کے بعد دوبارہ ہسپتال آئیں تاکہ بچے کے بیلیروبن یا یرقان کا لیول دوبارہ چیک کیا جا سکے، تو بے حد احتیاط سے ہدایات پر عمل کریں اور لازمی بچے کو ڈاکٹر سے چیک کروائیں۔

یرقان سے بچاؤ کیسے کریں

پیدائش کے بعد پہلے گھنٹوں اور ابتدائی دنوں میں بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد دودھ پلانا، خصوصاً ماں کا دودھ پلانا، سنجیدہ نوعیت کے یرقان کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ دودھ پینے کے بعد آپ کا بچہ زیادہ پاخانہ کرے گا، اور یہ دودھ بچے کے جگر کو اتنی توانائی دے گا کہ جسم میں بیلیروبن کو خارج کرنے میں مدد ملتی ھے

 

آنکھوں کی بینائی میں اضافے کے لئے 10 مفید غذائیں اور ٹپس

An image of beneficial foods and tips to improve eyesight

10 Beneficial Foods and Tips to Improve Eyesight

Table of Contents

آنکھیں قدرت کا حسین تحفہ ہیں انکے کمزور ہونے سے بچے ہوں یا بڑے دونوں پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں آنکھوں کی نظر چاہے قریب کی ہو یا دور کی دونوں ہی صورتوں میں پریشانی اور ذہنی تناؤ سے کمزور ہوتی ہیں۔ بہت سے بچوں کی نظریں پیدائشی کمزور ہوتی ہیں ،لیکن نظر کمزور ہونے کی صورت میں پریشان ہونے کے بجائے آنکھوں کی روشنی بڑھانے کی کوشش کریں۔بہت سی غذائیں ایسی ہیں جو آنکھوں کی صحت کیلئے بہت مفید ہیں-

 اسی طرح غذاؤں کے ساتھ ساتھ زیادہ موبائل، ٹی وی کمپیوٹر سورج کی تیز روشنی اور رات کے وقت کم لائٹ میں اسٹذیز سے پرہیز کریں۔ہم ہمیشہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے.. لیپ ٹاپ ، اسمارٹ فون اور الیکٹرونک آلات کے بڑی تعداد میں ہر طرف پھیل جانے کے ساتھ ہم سب کو نظر  کی کمزوری کا سامنا ہے۔ اسی طرح ہمارے بچوں کو بھی نظر سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔ اس کے لیے ہم اپنے گھروں میں دستیاب بعض غذاؤں کے ذریعے خود کو نظر سے متعلق مسائل سے بچا سکتے ہیں

آنکھوں کو تندرست رکھنے کے لئے قبض نہیں ہونا چاہئے اسکے علاوہ متوازن غذاکا استعمال آنکھوں کی روشنی میں بہت معاون ہے۔ 

اب بات کرتے ہیں کہ وہ کون سی غذائیں ہیں جو نظر کی کمزوری کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

 

An image of glasses, beneficial foods, and tips

1-کیوی فروٹ

ترش پھلوں میں وٹامن سی بھرپور مقدار میں پائی جاتی ہے، یہ نظر کی طاقت کو مضبوط کرتی ہے۔کیوی وٹامن”C” سے سب سے زیادہ بھرپور پھلوں میں سے ہے۔ یہ انسانی جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنے میں مددگار ہوتا ہے اس کے علاوہ تناؤ کو کم کرتا ہے اور بینائی کی طاقت کو بہتر بناتا ہے۔

2-گاجر کا جُوس

 

گاجر بینائی کو مضبوط بنانے کے لئے بہترین عناصر میں سے ایک ہے، ماہرین کے مطابق روزانہ ایک گلاس گاجر کے جوس کا استعمال آپ کو بینائی کی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے، گاجر میں وٹامن اے،  پوٹاشیم، کاربورہائیڈریٹ اور فائبر پائے جاتے ہیں، جو بینائی کو تیز کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔گاجر کیروٹن اور وٹامن “A” سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ نظر کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بہترین غذا میں سے ایک ہے۔

گاجر اور پالک کا رس 145 گرام ملا کر پینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھ جاتی ہے

 

3-ٹماٹر

اگر نظر تھوڑی کمزور ہے تو ٹماٹر بے حد مفید ہے۔یہ بھی وٹامن”C” سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسی لیے آنکھوں کی صحت کی مضبوطی کے لیے عمومی طور پر بہت فائدہ مند ہے۔

4-زیتون کا تیل

یہ مخلتف وٹامنوں اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زیتون کا تیل آنکھوں کی صحت کی بہتری اور نظر کو طاقت ور بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے

5-خشک میوہ جات

An image of dry fruits for eyesight

موسمِ سرما کے شروع ہوتے ہی خشک میوہ جات کا استعمال بڑھ جاتا ہے جن میں خاص طور سے مونگ پھلی، اخروٹ پستہ، بادام، انجیر اور چلغوزے وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔تمام میوہ جات بالخصوص بادام ، مونگ پھلی میں وٹامن ای سے بھرپور غذائی عناصر پائے جاتے ہیں، جو آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ لہذا ہر موسم میں ڈرائ فروٹس کو اپنی خوراک کا حصہ بنایئں۔تمام میوہ جات بالخصوص بادام ، مونگ پھلی میں وٹامن”E” سے بھرپور غذائی عناصر پائے جاتے ہیں جو آنکھوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔بادام، اخروٹ اور کاجو جیسے میوہ جات میں اومیگا 3 کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، یہ آنکھوں کی جھلی (retinas) کو تیز روشنی سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے۔بادام رات میں بھگو کر صبح چھلکا اتار کر بارہ گرام مکھن اور مصری میں ملا کرایک ماہ تک کھانے سے نظر تیز ہوجاتی ہے۔ اس کے علاؤہ چالیس دن تک سات بادام ، مصری ، سونف دونوں دس دس گرام پیس کر رات کو گرم دودھ کے ساتھ لینے سے آنکھوں کی روشنی تیز ہوتی ہے اسکے بعد رات بھر پانی نہ پیئیں۔

6-سونف

کھانے کے بعد سونف کھانے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے۔

پسی ہوئی سونف آدھا چمچ میں تھوڑی سی چینی ملاکر دودھ کے ساتھ لے لیں اس سے نظر بڑھے گی۔

7-مچھلی

An image of fish for eyesight

آنکھوں کے پردوں کو دو قسم کے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنا کام درست طریقے سے کرسکیں، یہ دونوں فیٹی ایسڈز چربی والی مچھلی میں مل جاتے ہیں،

مچھلی میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ، جو آنکھوں کے اعصاب کو مضبوط اور خشک آنکھوں جیسی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، اومیگا 3 آنکھوں کے امراض کو کم کرنے میں نہایت سود مند ثابت ہوتا ہے۔ 

8-پالک

پالک ایسی سبزی ہے، جس میں آئرن اور وٹامن سی کی بہت بڑی مقدار ہوتی ہے، جو آپ کی آنکھوں کے لئے دھوپ کے مضر اثرات سے بچانے کا کام کرتی ہے۔

پالک میں موجود لیوٹین ایسا جز ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ آنکھوں کے پٹھوں میں آنے والی کمزوری اور موتیے کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ بچوں کو جوس کی صورت میں پلائیں یا پھر سبزی کے طور پر ان کی غذا کا حصہ بنائیں۔ 

ہفتے میں دوبار پالک کا استعمال لازمی کریں۔پالک کو مختلف طریقے سے بنا کر کھایا جاسکتا ہے اور یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ کیسے کھانا ہے بلکہ اس کا استعمال معمول بنا لینے کو یقینی بنائیں۔

 

9- انڈے کی زردی

انڈے میں وٹامن اے بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے ، جو آپ کو رات کے اندھے پن کی بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔انڈے میں موجود زنک جسم کو لیوٹین استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ اجزا انڈے کی زردی میں پائے جاتے ہیں جو کہ سورج کی مضر روشنی سے آنکھوں کے پردے کو بچانے میں مدد دے سکتے ہیں، اس کے علاوہ یہ بینائی کو کنٹرول کرنے والے نظام کے تحفظ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

10-شکر قندی

An image of شکر قندی

 شکر قندی

نارنجی یا اورنج رنگ کے پھلوں اور سبزیوں جیسے شکرقندی، گاجر، آم اور آڑو وغیرہ بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں جو کہ وٹامن اے کی ایک قسم ہے جو بینائی کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ تاریکی میں آنکھوں کو ایڈجسٹ ہونے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ایک شکر قندی میں اتنی وٹامن سی ہوتی ہے جو کہ ایک دن کی ضروریات کا نصف ہوتی ہے جبکہ وٹامن ای بھی کچھ مقدار میں جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔

 

آج کل نظر کی کمزوری ایک عام مسئلہ بن چکی ہے اور کم عمری سے ہی چشمہ لگ جاتا ہے۔تاہم اگر آپ کوشش کریں تو اچھی غذا سے اپنی آنکھوں کو قبل از وقت یا عمر کے ساتھ آنے والی کمزوری سے تحفظ دے سکتے ہیں اور چشمے لگانے سے بچ سکتے ہیں۔ 

 

-نظر ٹھیک کرنے سے متعلق کچھ ٹپس

 

پاؤں کے تلوؤں میں سرسوں کے تیل کی مالش کرنے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے-

 

آنکھوں کے آگے اندھیرا آتا ہو تو آنولے کا رس پانی میں ملا کر صبح و شام چار دن پینے سے فائدہ ہوتاہے ۔

 

تازہ دودھ چھان کر بغیر گرم کئے مصری یا شہد ، بھیگی ہوئی بیس کشمش کا پانی ملا کر چالیس دن پینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے

 

دھنیا آنولے کے ساتھ پیس کر کھانے سے آنکھون کی کمزوری دور ہوتی ہے

 

صبح سویرے ننگے پاؤں سبز گھاس پر چلنے سے آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہوتا ہے

 

پھول گوبھی کا رس پینے سے آنکھوں کی کمزوری دور ہوتی ہے۔

 

پودینے کے تیل کو اپنے ہاتھ پر مل کر سونگھیں-پودینے کا تیل دماغ کے اندر ان لہروں کو بڑھاتا ہے جو ہوشیاری اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں‘ یہ خوشبوئیں دماغ کے پیچیدہ نظام کو تحریک دیتی ہیں اور آنکھوں تک ان کے اثرات جاتے ہیں جن کی مدد سے آپ مدھم روشنی میں زیادہ آسانی سے دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

 

ہر بار اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے کم از کم اپنا تولیہ استعمال کریں۔ تولیے کا مشترکہ استعمال سے آنکھوں کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

 

لیبر پین شروع ہونے کی کیا علامات ہیں اور کب ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے

An image of signs that labor pains have started

What are the signs that labor pains have started, and when should you see a doctor?

Table of Contents

لیبر پین کب شروع ہوتی ہے یہ بات تجربہ کار مائیں بھی نہیں بتا سکتی کیونکہ اکثر ظاہر ہونے والی نشانیاں غلط بھی ہوسکتی ہیں ۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو درد لیبر کا محسوس ہوتا ہے وہ حقیقت میں زیادہ کھا لینے کی وجہ سے پیٹ کا درد ہوتا ہے۔لیبر پین کو پہچاننا اس وقت تک مشکل ہوتا ہے جب تک درد پوری طرح نہ آنے لگیں۔اس لئے یہ جاننے کے لئے کہ ہاسپٹل کب جانا ہے اور کب بچے کی پیدائش کا وقت ہے اس کے لیے کچھ نشانیاں معلوم ہونا ضروری ہیں۔

 

An image of What are the signs that labor pains have started, and when should you see a doctor?

پانی کا بہہ جانا

آپ کے بچے کی حفاظت دراصل پانی کے ایک تھیلے کے ذریعہ ہوتی ہے۔ لیبر کی حالت میں یہ تھیلی ہھٹ جاتی ہے اور پانی رس رس کر نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر آپ کی بچہ دانی میں اسی وقت contractions ہوتی ہیں تو اسے لیبر کی ایک علامت مانا جاتا ہے۔

اکثر حاملہ خواتین اس بات سے ڈرتی ہیں کہ ایسا کسی بھی وقت ہوسکتا ہے کہ پانی کی تھیلی پھٹ جاۓ۔لیکن ایسا بہت کم خواتین کے ساتھ ہوتا ہےکہ لیبر سے پہلے بچہ دانی میں موجود پانی کی تھیلی پھٹ جاتی ہے اور پھر لیبر پین شروع ہوجاتی ہے ۔اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو بھی پانی ایک دم نہیں بہہ جاتا۔پانی کی تھیلی پھٹ جانا لیبر شروع ہونے کی اہم علامت ہے۔اس کے باوجود 80 فیصد خواتین میں تھیلی پھٹنے کے بعد بھی ولادت میں 8 سے 9 گھنٹے تک لگ جاتے ہیں 

کسی بھی مادے یا رطوبت کا ڈسچارج ہونا

An image of the discharge of any substance or fluid

پریگنینسی کے دوران بچہ دانی/ یوٹرس ایک گاڑھے مادے کے ذریعے بند رہتی ہے یہ مادہ قدرتی طور پر بچے کو انفیکشن سے محفوظ کرتا ہے۔لیکن جیسے جیسے لیبر کا وقت قریب آتا ہے یوٹرس ڈلیوری کے لئے نرم ہونے لگتا ہے۔ساتھ ہی اس سے گاڑھا مادہ ڈسچارج ہونے لگتا ہے بعض اوقات اس کے ساتھ خون بھی شامل ہو جاتا ہے۔ایسی صورت میں ڈلیوری کا وقت چند گھنٹوں ،دنوں بعد بھی ہو سکتاہے۔لیکن یہ بھی لیبر کی نشانی میں سے ایک نشانی ہے۔

بہت تیز دردوں کا آنا

درد ہونا لیبر کی واضح نشانی ہے لیکن حمل کے آخری ہفتوں میں ہونے والے غلط دردوں (False labour) کو بھی خواتین لیبر پین سمجھ لیتی ہیں لیکن یہ درد مستقل اورشدید نہیں ہوتے اور خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔یہ درد عام طور پر بھوک یا پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں لہذا ایسے میں کچھ کھاپی لیا جائے تویہ درد خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

اصل لیبر پین ڈلیوری تک بڑھتے ہی جاتے ہیں اور کم نہیں ہوتے۔درد آنے کا وقفہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتاجاتا ہے جو دردپہلے 5 سے 10 منٹ کے وقفے سے آتی ہیں وہ پھر 3 سے 5 منٹ کے وقفے سے آنے لگتے ہیں ۔یہ درد کمرسے اٹھ کر پیٹ کی طرف جاتاہے ۔ 

کمر میں شدید قسم کا درد ہونا

An image of having severe pain in the back

اکثر حاملہ خواتین کی کمر میں حمل کے شروع مہینوں سے ہی درد ہوتا رہتاہے۔لیکن اگر یہ درد بہت شدید ہو جائے تو یہ بھی لیبر پین کی نشانی ہے۔عام طور پر بچے کے چہرے اور ماں کی ریڑھ کی ہڈی کے درمیان آنول  ہوتی ہے۔لیکن بعض اوقات بچے کا سر ماں کی ریڑھ کی ہٖڈی کے قریب ہوتا ہے اور اس طرح ماں کی ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑتا ہے جس کی وجہ سے درد پیٹ تک تو جاتا ہے لیکن کمر میں بہت شدید درد ہوتا ہے۔کمر کا شدید درد اس بات کی نشانی ہے کہ آپ لیبر کے بالکل قریب ہیں..

ماں کو لیبر پین کا کب پتہ چلتا ہے

 ہر عورت کی لیبر کی حالت مختلف ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش سے تقریباً ایک مہینہ پہلے ہی آپ کا جسم لیبر کے لیے تیار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کچھ عورتوں میں سروکس(cervix) یعنی بچے دانی کا منہ پہلے ہی کھلنا شروع ہوجاتا ہےاور بچے کا سر پیدائش کی پوزیشن میں جانا شروع ہوجاتا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ یہ علامات ہوں تو جان لیں کہ آپ لیبر کی حالت میں ہیں.

-پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہو، بالکل ویسے ہی جیسے ایام حیض یعنی پیریڈز کے دوران ہوتا ہے

-ویجائینا سے پانی نکلے لیکن ساتھ ہی بچہ دانی میں contractions محسوس ہوں

-شدید درد ہو اور درد کا وقفہ کم سے کم ہو

 ڈاکٹر کے پاس کب جائیں

An image of when you should go to the doctor

 

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ لیبر کی حالت میں ہیں لیکن آپ کوپوری طرح اس کا یقین نہیں ہے تو اپنی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔  اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ عورتیں لیبر کی حالت کے بارے میں نہیں جانتی اور انہیں ڈاکٹر کے مشورے کی ضرورت ہوتی ہے. 

فورا ڈاکٹر سے چیک کروائیں اگر:

-پانی کی تھیلی پھٹ گئی ہو

-ویجائینا(vagina) سے خون آ جاۓ

-آپ کو بخارہو، شدید سر درد ہو -کوئ پریشانی ہو یا پیٹ میں درد ہو رہا ہو۔

 

پریگنینسی کے دوران فولک ایسڈ کا استعمال

An image of folic acid during pregnancy

Table of Contents

Use of Folic Acid During Pregnancy

حمل میں فولک ایسڈ کے فوائد ہر حاملہ خاتون کے لیے جاننا ضروری ہیں۔ فولک ایسڈ بچے کی دماغی اور جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور صحت مند حمل میں مدد دیتا ہے

بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی بہتر نشونما اور گروتھ کے لیےڈاکٹر  فولک ایسڈ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ فولک ایسڈ کو روزانہ اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

An image of the use of folic acid during pregnancy

فولک ایسڈ کیا ہے

فولک ایسڈ وٹامن B9  کی قسم ہے جسے فولیٹ (Folate)بھی کہتے ہیں۔ فولیٹ خون کے سرخ خلیات یعنی ریڈ بلڈ سیلز کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی نشونما میں بھی مدد کرتا ہے۔

فولک ایسڈ کب کھانا چاہیے

یہ حمل کے شروع کے دنوں میں لینا چاہیے جب بچے کی گروتھ  میں خرابی ہونے کے چانسز ہوتے ہیں اس لیے ڈاکٹر اسے حمل کے شروع یا حمل سے پہلے ہی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاکہ جب آپ کا بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی بن رہی ہو تو آپ کے جسم میں فولک ایسڈ کی وافر مقدار موجود ہو۔ ایک ڈاکٹر کے مطابق جو مائیں حاملہ ہونے کے ایک سال پہلےسے ہی فولک ایسڈ کھانا شروع کر دیتی ہیں ان میں premature بچے کی پیدائش کے چانسز-50 سے 90 فیصد کم ہوجاتے ہیں۔

کیا اچھی غذا سے فولک ایسڈ لے سکتے ہیں  

An image of folic acid be obtained from a healthy diet?

حمل کے دوران آپ کو فولک ایسڈ کی وافر مقدار چاہیے ہوتی ہے لیکن فولک ایسڈ عام طور پر غذاؤں میں اس مقدار میں نہیں پایا جاتا جو آپ کی کمی کو پورا کرسکے۔ لہذا ڈاکٹر یہ کمی پوری کرنے کے لیے ان ادویات کا استعمال تجویز کرتے ہیں جن میں فولک ایسڈ موجود ہوتا ہے  اس کے علاوہ فولک ایسڈ کے کے لیے سب سے بہترین غذا دلیہ گہرے سبز رنگ کی سبزیاں مثلاً پالک، ساگ، میتھی وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

فولک ایسڈ کے فائدے

An image of folic acid be obtained from a healthy diet?

فولک ایسڈ کے استعمال سے نیورل ٹیوب (neural tube)کی نقص سے بچا جا سکتا ہے۔ نیورل ٹیوب دراصل بچے کا وہ حصہ ہوتا ہے جس سے بچے کا دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کا بنتی ہے۔اگر آپ کے جسم میں فولک ایسڈ کی وافر مقدار موجود نہ ہو تو نیورل ٹیوب صحیح طرح بند نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بچے میں اس کے بہت سیریس ہیلتھ اشوز پیدا ہوجاتے ہیں جن کا تعلق دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے ہوتا ہے۔مثلاً:

 

ریڑھ کی ہڈی کا نامکمل بننا 

 

-حرام مغز(spinal cord) اور  مہروں کی نشوونما  ٹھیک سے نہ ہونا جس کی وجہ سے ريڑھ کی ہڈی میں خالی جگہ رہ جاتی ہے ایسے بچے تمام عمر کے لیے ذہنی معزور ہوتے ہیں

 

یا دماغ کی اہم چیزیں نہیں بنتی ایسے بچے مشکل سے بچتے ہیں

لیکن ان سب سے بچنے کےلیے ہم فولک ایسڈ کا استعمال کر سکتے ہیں اور ایسی  صورتحال سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے خاندان میں ایسی کوئی ہسٹری موجود ہے تو آپ کو اگلے بچے کے لیے فولک ایسڈ کی مقدار زیادہ کرنی پڑے گی تاکہ آپ اگلی بار اس سے بچ سکیں۔ ڈاکٹر کو اس کے بارے میں آگاہ کیجیے تاکہ وہ آپ کو اسی کے مطابق خوراک ، ادویات اور مشورے دے سکے۔

اس کے علاوہ فولک ایسڈ آپکے بچے اور آپ کو بہت سی مشکلات سے بچاتا ہے جیسا کہ

 

-پیدائشی طور پر بچے کے کٹے ہونٹ اور تالو

-وقت سے پہلے پیدائش

-آبورشن (Abortion)

اس کے علاوہ فولک ایسڈ دوران حمل پچیدگیاں مثلاً  جس میں ماں کا ہائی بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔  ٹانگوں ہاتھوں اور پیروں کی سوجن بھی بڑھ جاتی ہے کو بھی کم کرتا ہے

فولک ایسڈ کی کتنی مقدار لینی چاہیے

An image of how much folic acid should be taken

 

خواتین جو بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں ان کو ڈاکٹرز روزانہ کم از کم 400 مائیکرو گرام فالک ایسڈ  کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ کوئی ملٹی وٹامنز کھا رہی ہیں تو اس کے پیچھے دی گئی لسٹ میں دیکھیے کہ کیا یہ آپ کو فالک ایسڈ کی ضروری مقدار فراہم کر رہا ہے؟

 

-اگر آپ conceive کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو 400 مائیکروگرام فولک ایسڈ لینے کی ضرورت ہے.

 -اسی طرح حمل کے تین ماہ میں بھی 400 مائیکروگرام اور 4 سے 9 ماہ تک 600 مائیکروگرام لیں لیکن اگر آپ لمبے عرصے کے لیے نہیں لے سکتی تو کم سے کم حمل کے پہلے بارہ ہفتوں تک روزانہ 400 ملی گرام فولک ایسڈ کا استعمال لازمی کریں یہ بہت اہم ہے۔ یہ گولیاں خالی پیٹ نہ کھائیں بلکہ کھانے کے درمیان میں کھائیں۔یہ گولیاں پانی یا لیموں پانی کے ساتھ کھائیں کیونکہ اس طرح یہ جلدی جسم میں جذب ہوتی ہے۔

 

فولک ایسڈ کھانے کے بعد کچھ سائیڈ ایفیکٹ ہو سکتے جیسے

پیٹ میں درد, کالے پاخانے, قبض, نرم پاخانہ دل گھبرانا یا متلی آنا سینے میں جلن وغیرہ

 لیکن یہ اتنی پریشانی کی بات نہیں کالے پاخانوں کا مطلب ہے کہ فولک ایسڈ جسم میں جذب ہو رہا ہے۔دوائی جاری رکھیں3 سے 5 دنوں میں مسئلہ خود بخود ہی حل ہوجائیگا۔گولیاں کھانے کے درمیان میں کھاکر دیکھیں۔چائے یا دودھ پینے کے تین گھنٹے بعد تک گولی نہ کھائیں۔

 

 

Add Your Heading Text Here

Add Your Heading Text Here

بچوں کے حفاظتی انجیکشن

An image of children’s vaccination injections

Table of Contents

Children’s vaccination injections

بچوں میں پیدائش کے بعد انکو حفاظتی انجیکشن لگوانا بہت ضروری ہے ہمارے ہاں 5 سال سے کم عمر 27 فیصد بچوں کی موت ان بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے جنھیں ویکسی نیشن کے ذریعے روکا جاسکتا ہے- ایک ماں کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ حفاظتی انجیکشن اس کے بچے کے لیے کتنے اہم ہیں.جان لیوا بیماریوں کو کنٹرول اور ختم کرنے کے لیے سب سے زیادہ کارآمد طریقہ حفاظتی ٹیکے ہیں یہ انجیکشن بچوں کے جسم کو ان جان لیوا بیماریوں سے لڑنے کے لیے تیار کرتے ہیں اور انھیں ان بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں یہ ان بیماریوں کو کنٹرول کرتے ہیں جو دنیا بھر میں عام ہیں ان میں تپ دق( T.B) چیچک(small pox)

پولیو(polio)  

نمونیا

 خسرہ(Measles)

 خناق(Diphtheria )

 تشنج(Tetanus)

کالی کھانسی(whooping cough)

روبیلا(جرمن خسرہ)، ممپس(گلے کا ایک مرض) ہیپاٹائٹس بی اور ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی شامل ہیں، پینے کے صاف پانی کے بعد ان امراض کو قابو کرنے کا دوسرا موثر طریقہ حفاظتی انجیکشن ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں حفاظتی ٹیکے لگوائیں.

 
An image of children’s vaccination injections

حفاظتی انجیکشن کب اور کس بیماری کے لیے لگاۓ جاتے ہیں

پیدائش کے فورا بعد پہلا ٹیکہ تپ دق یعنی ٹی بی کا لگایا جاتا ہے جو کہ دائیں بازو پر لگتا ہے اور اس کا نشان تاحیات رہتا ہے

اس کے لگانے سے بچہ سینے کی ٹی بی سے 80 سے 85 فیصد جبکہ دماغ کی ٹی بی سے 100 فیصد محفوظ رہتا ہے- شروع میں ٹیکے کی جگہ پر کچھ دکھائی نہیں دیتا لیکن ڈیڑھ ماہ بعد وہ جگہ پھولنا شروع ہوجاتی ہے- اکثر والدین یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں- لیکن یاد رکھیں کہ یہ ایک نارمل بات ہے- اور ٹیکے کی جگہ کا پھولنا اس بات کی نشانی ہے کہ ٹیکہ صحیح لگا ہےاگر یہ جگہ نہ پھولے تو اس کامطلب ہوتا ہے کہ ٹیکہ صحیح نہیں لگا لیکن کچھ عرصے بعد پھولی ہوئی جگہ کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ وہاں صرف ایک نشان رہ جاتا ہے- اور یہ نشان رہنا بھی ضروری ہے اگر یہ نشان نہ ہو تو اس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ٹیکے نے اپنا کام نہیں کیا- 

 اور اس انجیکشن کے ساتھ ساتھ پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے دوا کے قطرے پلاتے ہیں

An image of vaccinations given, and for which diseases

 

6 ہفتے بعددوسرا ٹیکہ جس کو پینٹا کہتے ہیں یعنی یہ پانچ بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے جن میں خناق(Diphtheria) 

کالی کھانسی(whooping cough) 

تشنج یعنی Tatanus

ہیپاٹائٹس بی

ہیمو فیلس انفلوئنزا شامل ہیں یہ انجیکشن ان بیماریوں سے بچائو کیلئے لگاتے ہیں اور ساتھ پولیو سے بچائو کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں۔ 

10 ہفتے بعد پھر  خناق‘ کالی کھانسی اورتشنج سے بچانے کا ایک ٹیکہ اور ساتھ پولیو کے قطرے دئیے جاتے ہیں

14ہفتے بعد دوبارہ سے خناق‘ کالی کھانسی اورتشنج سے بچائو کیلئے انجیکشن لگاتے ہیں اور ساتھ پولیو سے بچائو کے قطرے بھی پلائے جاتے ہیں

9 ماہ کی عمر میں پہنچنے پر خسرہ سے بچائو کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے ‘ خسرہ کابنیادی سبب ایک وائرس ہے اور اس سے بچائو ممکن ہے‘ یہ صرف ان بچوں کو ٹارگٹ کرتا ہے جو حفاظتی ٹیکے نہ لگوا سکا ہو

بچوں میں حفاظتی انجیکشن لگنے کے بعد کیا اثرات ہو سکتے ہیں

An image of effects in children after vaccination

حفاظتی ٹیکوں کے بعد زیادہ تر بچے ٹھیک رہتے ہیں اور کچھ بچوں میں معمولی اثرات آتے ہیں جیسے! 

-بچے کو تیز بخار ہونا

-دودھ کم پینا یا کم غذا کھانا

-انجیکشن لگنے کی جگہ سوزش 

سوئ لگنے کی جگہ سرخ ہونا یا اس جگہ گلٹی بن جانا

یہ سب اثرات نارمل ہیں جو کچھ ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں اس کے لیے کسی خاص علاج کی ضرورت نہیں

بچیوں کو ماہواری کے لئے کیسے تیار کریں؟ 

An image of How to Prepare Girls for Menstruation

Table of Contents

How to Prepare Girls for Menstruation?

 

قدرت کے قانون کے مطابق ہر بچی 13 سال کے بعد لڑکی اور 30 سال بعد عورت بن جاتی ہے ،قدرت کے اس قانون کو سمجھنے میں دس سے بارہ سال کی بچیوں کو بہت سے ذہنی مسائل کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

ہمارے ملک میں اس موضوع پر بات کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔معاشرہ مذہب اور سماجی اقدار کا سہارا لے کر عورتوں کی جنسیت کو ایک ایسا موضوع بنا کر پیش کرتا ہے جس پر گفتگو کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں لڑکیوں کے لیے ماہواری سے متعلق معلومات کے حصول کا بنیادی ذریعہ والدہ یا بڑی بہنیں ہوتی ہیں۔اکثر پیریڈز کی یہ معلومات بھی لڑکیوں کو اس وقت دی جاتی ہے جب انھیں پہلی مرتبہ ماہواری ہو چکی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سی لڑکیاں اپنی ماہواری کا آغاز بے خبری اور بغیر تیاری کے کرتی ہیں۔لڑکیاں ذہنی طور پر ماہواری کے تجربے کے لیے تیار نہیں ہوتیں کیونکہ انھیں بتایا ہی نہیں جاتا کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے۔

اسلئے ضروری ہے کہ مائیں بچیوں کو زندگی کے اس مرحلے یعنی ماہواری یا حیض کے لیے پہلے سے تیار کریں ۔

معاشرتی رویے کے باعث یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواتین کی ماہواری صحت ایک ایسا معاملہ ہے جسے بہت ڈھکا چھپا ہونا چاہیے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے نئی نسل جنم پاتی ہے۔

اس وقت ہمارے یہاں کچھ جگوں پے صورتحال کچھ یہ ہے کہ جیسے ہی لڑکی کو پیریڈز شروع ہوتے ہیں تو انھیں گھر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ان کو باہر جانے اور کھیلنے سے بھی منع کر دیا جاتا ہے۔ توہم پرستی کی وجہ سے ٹھنڈی اور کھٹی چیزیں کھانے سے روک دیا جاتا ہے۔ کئی گھرانوں میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ماہواری کے دوران لڑکی کنگھی بھی نہ کرے۔ تو اس طرح کی غلط باتوں کو سن کر بچیاں پریشان ہو جاتی ہیں لہذا ماؤں کو چاہیے کہ اپنی بچیوں کو صحیح انداز میں گائیڈ کریں۔۔

 

آپ اپنی بیٹی کی مدد کرنے کیلئے کیا کر سکتی ھیں؟

An image of talking openly with your daughters

 

اپنی بچیوں سے کھل کر بات کریں

اپنی بیٹی کو بغیر کسی ڈر اور فیصلے کے کھل کر بات کرنے کو کہیں۔ اگر آپکی بیٹی کے دوست اور انٹرنیٹ اسکے لئے تعلیم کا واحد زریعہ ھوں تو ممکن ھے کہ وہ غلط مشورہ حاصل کر لے۔ آپ بات چیت کا آغاز اس سوال کے ساتھ کر سکتے ھیں کہ وہ بلوغت یعنی میچورٹی کے بارے میں کیا جانتی ھے۔ آپ اسکو وہ تمام معلومات دیں جنکی آپکے مطابق اسکو اس عمر میں ضرورت ھو۔

اگر آپکی بیٹی بلوغت کے نزدیک ھو اور اس نے اس موضوع پر آپ سے بات نہ کی ھو تو یہ آپکی ذمہ داری ھے کہ آپ بات چیت کا آغاز کریں۔ ممکن ھے کہ آپ کو اسے پیریڈز کے بنیادی حفظان صحت، جنسی پختگی اور نوعمری میں حمل سے متعلق بات کرنی پڑے اور اس کو سمجھانا پڑے۔۔ اگر کسی  بچی کے والد جو کہ اکیلے ھوں اور اس موضوع کے بارے میں بات کرنے میں ھچکچاھٹ محسوس کریں تو کسی خاتون دوست یا رشتہ دار کو بیٹی سے بات کرنے کو کہیں۔ 

بچیوں کو ماہواری کے لئے تیار کرنے کے لئے مفید مشورے

۔ بچیوں کے سینے میں ابھار آنا اور حساس جگہوں پربال آنا اس بات کی علامت ہے کہ انھیں ماہواری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے ہمارے ملک کی آب و ہوا میں بچیوں کو دس سے تیرہ سال کی عمر میں ماہواری شروع ہوتی ہے لہذا اس عرصے کے دوران بچیوں کے جسمانی خدوخال پر ضرور نظر رکھیں ۔

-ماؤں کو اپنی فیملی ہسٹری پر بھی مد نظر رکھنی چاہئے ،جن خاندانوں میں بچیاں دس سال کی عمر میں ہی جوان ہو جاتی ہیں ان ماؤں کو دس سال سے قبل ہی اپنی بچیوں کی خوراک اور اٹھنے بیٹھنے کی عادات پر نظر رکھنی چاہئے۔

An image of self-awareness for the period time

پیریڈز کو لیکر کئی ایسی باتیں ہیں جو بچیوں کے سمجھ میں نہ آئیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی بیٹی آپ کے سمجھانے پر کئی طرح کے سوال پوچھے جسے سن کر آپ کو الجھن محسوس ہو لیکن غصہ ہونے کے بجائے اسے تبدیلی کے بارے میں پیار سے سمجھائیں

-بچیوں کو سینیٹری پیڈ سے متعلق معلومات دیتے وقت اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتا دیں ۔ 

جن بچیوں کو چھوٹی عمر میں ماہواری آئے تو ان ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ ہر 4 گھنٹے بعد انھیں پیڈ کی تبدیلی کا یاد دلائیں ۔ساتھ میں پیڈ کی تبدیلی کے بعد اسے ضائع کرنے کا طریقہ بھی سمجھانا بہت ضروری ہے کیوں کہ کچھ بچیاں اسکول کے واش روم میں پیڈ فلش ان کرنے کی کوشش کرتی ہیں لہذا انھیں یہ بتا دیں کہ ایک نا پاکی ہے اس لئے اسے شوپر میں ڈال کر واش روم کے ڈسٹ بن میں ہی ضائع کریں 

-اپنی بچیوں کو ماہواری کے دوران جسمانی صفائی اور ارد گرد کے ماحول کی صفائی کے اصول بھی سکھائیں ،انھیں یہ سمجھائیں کہ خود کو اور ماحول کو صاف رکھنا صرف ان کی ذمہ داری ہے کسی اور کی نہیں ۔

-کچھ گھرانوں میں ماہواری کے دوران بچیوں کو غسل کرنے روکا جاتا ہے جس سے بچیاں کئی مسائل ( خارش ،انفیکشن ) میں مبتلا ہو جاتی ہیں اس لئے بچیوں کو ذ ہنی طور پر تیار کریں کہ ماہواری کے دوران ایک دن بعد گرم پانی سے ضرور غسل کریں ، زیر ناف صابن کیمیکل یا لیکوئڈ سوپ کا استعمال نہیں کریں ۔

-بچیوں کو ماہواری کی بنیاد ی معلومات اس طرح فراہم کریں کہ ہر لڑکی کی ماہواری کا چکر 28 سے 30 دن پر محیط ہوتا ہے۔

لہذا جس دن ماہواری آئے اس دن وہ اپنے کیلینڈر پر نشان لگا لے تاکہ آئندہ آنے والے مہینے کے ماہواری کے لئے وہ ذہنی طور پر تیار ہو ۔ ساتھ ہی انھیں یہ بھی بتا دیں کہ ہر مہینہ کی صرف ایک ہی تاریخ ماہواری کے لئے نہیں ۔لہذزا ماہواری جلدی یا دیر سے آنے میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔ اس طرح آپ اپنے سامنے اپنی بچی سے عملی طور پر کیلینڈر پر ماہواری کی اگلی تاریخ ٹریک کرائیں ۔

ماہواری کے دوران اچھی خوارک اور جسمانی سکون کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اپنی بچیوں کو ابتدائی دنوں سے ہی اچھی خوارک جیسے دودھ گوشت ہری سبزیاں اور فولک ایسڈ والی خوراک دینا شروع کر دیں ۔ تاکہ وہ ایک صحت مند ماں بن کر صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں

Medical help طبی مدد کب ڈھونڈنی ھے؟

An image of when to seek medical help

اپنی بیٹی کے ڈاکٹر سے ملاقات کے اوقات مقرر کریں

-15 سال کی عمر تک ماھواری کا آغاز نہ ھوا ھو

-اگر اسکے ماھواری کے ایام سات دن سے زیادہ رھیں

-ماہواری کا درد بہت زیادہ ہو اور میڈیسن سے بھی ٹھیک نہ ہو

-معمول کے مطابق زیادہ پیڈ گیلے کر رھی ھو

درد آور اور شدید ماھواری کی وجہ سے سکول یا دوسری سرگرمیاں چھوڑ رھی ھو

پیریڈز سے ہر لڑکی کو گزرنا ہی پڑتا ہے۔ کافی طویل وقت سے لوگ اس پر بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور اسے شرمندگی کا موضوع مانا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو جب پہلی مرتبہ پیریڈز آتے ہے تو جانکاری کی کمی کی وجہ سے وہ کافی گھبرا جاتی ہیں۔

اس حالت میں ایک ماں کی ذمہ داری ہے کہ بڑی ہوتی بیٹی کو اس کے جسم میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ کرے اسے سمجھائیں تا کہ عین وقت پر آپ کی بیٹی کو کوئی گھبراہٹ نہ ہو

 

لیکوریا کیا ہے؟ اور اس سے کون سے صحت کے مسائل ہوسکتے ہیں ؟

An image of what is leucorrhea

What is leucorrhea, and what health problems can it cause?

Table of Contents

اس کی کیا وجوہات ہیں اور اس کا کیا علاج ہے؟

جس طرح ایک تعلیم یافتہ ماں ایک تعلیم یافتہ نسل کو پروان چڑھاتی ہے اسی طرح ایک صحت مند عورت ہی ایک صحت مند نسل کو جنم دے سکتی ہے ۔ 

مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شرم و حیا کے سبب بہت ساری لڑکیاں اور خواتین بھی اپنے پوشیدہ امراض کے حوالے سے تزبزب کا شکار رہتی ہیں اور کسی کو بتا نہ سکنے کے سبب نہ صرف خود بھی تکلیف اٹھاتی رہتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسل کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں

ان بیماریوں سے سب سے عام بیماری لیکوریا یا پھر سیلان رحم ہے ۔ یہ بزات خود کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے سبب ظاہر ہونے والی ایک علامت ہے ۔ 

What is leucorrhea? لیکوریا کیا ہے؟

An image of leucorrhea

سیلان رحم یالیکوریا (leukorrhea) کوئی بیماری نہیں بلکہ کئی بیماریوں کا بطور نتیجہ اور ساتھ ساتھ یہ کئی نئے ہونے والے انفیکشن اور بیماریوں کی وجوہات ہوسکتی ہے۔یہ خواتین کے اندام نہانی یعنی ویجائنہ سے بہنے والا سفید یا پیلے رنگ کا مادہ ہوتا ہے۔

اگر چہ یہ ڈسچارج جینیٹل صحت کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ہے لیکن خارج ہونے والے مادہ میں تبدیلیوں کو روکنے کے لئے طبی توجہ کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے۔تاکہ انفیکشن سے بچاجاسکے۔اس ڈسچارج کااصل مقصد جسم سے نقصان دہ بیکٹیریا اوردیگر حیاتیات کاجسم سے نکلنا ہے۔

اگر یہ ڈسچارج سفید اور بدبو کے بغیر ہو تو نارمل سی بات ہے لیکن اگر یہ گاڑھا اور بدبو دار ہو تو لیکوریا ہے۔لیکوریا کی عام طور پر دواقسام ہوتی ہیں۔پہلی فزیولوجیکل اور دوسری پیتھولوجیکل ۔

فزیولوجیکل لیکوریا سے مراد جسمانی عوامل جیسے جوش و خروش یاگھبراہٹ ہیں۔مثال کے طور پر لڑکیوں میں بلوغت کے دوران ہارمونل تبدیلیاں، اوویولیشن سائیکل اورکم عمری میں حمل اور سیکسشوئل ایکسائٹمنٹ وغیرہ

2۔پیتھولوجیکل لیکوریا نامناسب غذا اور صحت کی خرابی کے باعث ہوتا ہے۔ جینیٹل ٹریک انفیکشن بھی اسکی بڑی وجہ ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ نفسیاتی عوامل کا بھی نتیجہ ہوسکتاہے۔

لیکوریا خواتین میں پائی جانے والی ایسی بیماری ہے جوانھیں دیمک کی طرح اندرسے چاٹ جاتی ہے۔لیکوریا خواتین کے تولیدی نظام میں ایک یاایک سے زائد اعضاء کومتاثرکرسکتاہے۔جسم میں ٹاکسن کاجمع ہوناغیرمعمولی نہیں اس کاسبب ناقص،غیرمتوازن غذااورنامناسب طرز زندگی ہے۔

لیکوریاجیسی بیماری پرخواتین کوفوری طبی توجہ دینی چاہئے بصورت دیگربیماریوں اورانفیکشن کے خطرات میں اضافہ ہوجاتاہے۔ لیکوریا کیا ہے اور اسکی وجوہات کیا ہیں یہ تو خواتین کی بڑی تعداد جانتی ہیں لیکن اس سے صحت پر ہونے والےنقصانات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اگرکوئی اس بیماری کی علامات میں مبتلا ہے تو بغیر کوتاہی برتے وہ اپنا بر وقت علاج کروائیں اور اس بیماری سے نبرد آذما ہوسکے۔

لیکوریا کی علامات

An image of symptoms of leucorrhea?

اسکی علامات ہر خاتون میں مختلف ہوسکتی ہیں لیکن بعض میں ایک ساتھ کئی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔جو مندرجہ ذیل ہیں۔

اندام نہانی سے سفید یا پیلا اور بدبودار مادہ کا اخراج ،پنڈلیوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد،پیٹ کے حصے میں بھاری پن،  کا نہ ٹھہرنا، بھوک نہ لگنا،  کے افعال میں کمی، وزن کا تیزی سے گھٹنا ، لو بلڈ پریشر ، اداسی ، بانجھ پن، نسوانی حسن میں کمی ، چہرے کی بے رونقی ، 

سستی اور کاہلی، جلدی غصہ آنا، دل ڈوبنا وغیرہ۔ یہ تمام مسائل لیکوریا کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس کے علاؤہ اندام نہانی میں خارش، قبض، بار بار سردرد، عمل انہضام کے مسائل، چڑچڑاپن، آنکھوں کے نیچے جلد پر کالے حلقے عام علامات ہیں۔

لیکوریا کی وجہ سے ہونے والے صحت کے مسائل

An image of health problems caused by leucorrhea

پیروں میں درد

جب کسی لکڑی میں دیمک لگ جائے تو وہ کمزور ہوجاتی ہے۔ اسی طر ح اگر کسی عورت کولیکوریا کی شکایت ہوجائے تو وہ بھی اندرونی طور پر کمزور ہوجاتی ہے جس کے باعث اس کی ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں پیر اور گھٹنے درد کرنے لگتے ہیں اور یہ درد اکثر شدید ہوجاتا ہے۔

آنکھوں کے نیچے ہلکے

آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑنا کوئی عام بات نہیں اگر تو آپ کو نیند پوری نہیں لیتی تو یہ اس کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کی ایک اہم وجہ لیکوریا بھی ہے۔جسمانی کمزوری مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے جن میں سے ایک آ نکھوں کے نیچے حلقے پڑنا بھی ہیں۔

تھکاوٹ اور چڑچڑاپن

خواتین کی اکثریت مسلسل تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کا شکار رہتی ہے۔بے شک اسکی وجہ گھریلو مسائل اورمصروفیت بھی ہوسکتی ہیں لیکن اس میں لیکوریا جیسی بیماری بھی پوشیدہ ہے۔جسم کے اندرونی معاملات ظاہر ہونے کی مختلف علامات ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے۔

سر اور کمردرد

اگر عمارت کمزور ہوجائے تو بلڈنگ کھڑی نہیں رہ سکتی آہستہ آہستہ اس عمارت کے حصے اپنی جگہ چھوڑنے لگتے ہیں۔بالکل اسی طرح لیکوریا کے باعث کمر اورسر میں درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔یہ بیماری آپ کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

جینیٹل پرابلم

لیکوریا کوئی عام بیماری نہیں بلکہ خاص توجہ طلب مسئلہ ہے۔یہ بیماری مختلف جینیٹل مسائل پیدا کرسکتی ہے۔یہ ڈسچارج ایسٹ اوربیکٹیریل انفیکشن کے سبب اور اس میں اضافہ کا باعث بھی بنتا ہے۔اس کے سبب خارش،سوجن،جلن اورزخم جیسے مسائل ہوسکتے ہیں۔

صحت وصفائی کے مسائل

لیکوریا کے سبب نہ صرف آپ کی صحت بلکہ صفائی کا حصول بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔پاکیزگی کا احساس نہ ہونا ذہنی ٹینشن کاسبب بنتا ہے۔اگر آپ کسی بھی ایسے مسئلے کا شکار ہیں توابتداء میں ہی اس کاعلاج کریں تاکہ خوشگوار اور صحت مند زندگی پاسکیں۔

جسمانی اعضاء کی ناقص کارکردگی

جب جسم میں ٹاکسن جمع ہو جاتے ہیں اور جسمانی اعضاء جیسے گردے ،آنتیں اور جلد جسم سے ان ٹاکسن کو نکالنے میں ناکام ہوتے ہیں تو نتیجتاّ جسم ان ٹاکسن کواندام نہانی سے ڈسچارج کی شکل میں خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکوریا کی کیا وجوہات ہیں؟

 

-نامناسب طرز زندگی اور غیر متوازن کھانے کی عادات

-صدمہ اور پریشانی

-حسدورقابت

-رحم یعنی یوٹرس کے نچلے گردن نما حصے کاورم

-ہارمونل عدم توازن

-بار بار اسقاط حمل ہونا

-جینیٹل زخم جو اضافی کھجلی کاسبب بنتے ہیں۔

-نامناسب جینیٹل ہائیجین -بیکٹیریل اورفنگل انفیکشن -بدہضمی، قبض ہونا 

-خون کی کمی ہونا

-ذیابیطس 

-کثرت حیض

-زیادہ مباشرت کرنا

 -نوجوان لڑکیوں میں یہ حیض شروع ہونے کے ایک سال پہلے یا ایک سال بعد ہوسکتا ہے۔ بہت سی خواتین ڈلیوری کے بعد اس مرض کا شکار ہوجاتی ہیں۔اسطرح کے معاملات یوٹرائن انفیکشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اندام نہانی میں سوزش بھی اسکا سبب بنتی ہے۔اسکے لئے فوری طور پر طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دیگر بیماریوں اور انفیکشن سے بچاجاسکے۔

لیکوریا کا کیا علاج ہے؟

An image of causes of leucorrhea

اس مرض کی علامات کی نشاندہی ہی اس کے علاج میں پہلا قدم ہے۔ڈاکٹر اس مرض کی وجہ کے مطابق ادویات تجویز کرتے ہیں۔اسکے ساتھ ساتھ اس مرض کا گھریلو علاج بھی محفوظ طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ان میں سے کوئی بھی ایک طریقہ علاج جو آپ آسانی سے کرسکیں اپنائیں 

1-کیلا اس مرض میں مفید ہے کیلا کھا کر دودھ میں شہد ملا کر پیئیں۔یا ایک کیلے پر چند قطرے اصلی گھی یا صندل کی لکڑی کا تیل لگا کر صبح و شام دس دن تک استعمال کرسکتی ہیں۔اگر یہ بھی مشکل ہو تو صرف دو کیلے اور تین چمچ شہد ملا کر کھا لیں۔

2-چار گلاس پانی میں دو سے تین چائے کے چمچ میتھی دانہ ڈال کر آدھے گھنٹے تک پکا کر چھان کر پی لیں۔

3-زیرہ بھون کر اگر خالی نہ کھایا جائے تو تھوڑی سی چینی ملاکر کھالیں۔

4-رات میں ایک گلاس پانی میں ایک چمچ ثابت دھنیا بھگو دیں۔اور صبح خالی پیٹ پی لیں بہترین نتائج کے لئے ایک ہفتہ تک استعمال کریں۔

5-سوگرام مونگ توے پر بھون کر پیس کر شیشی میں بھر کر رکھ لیں۔روزانہ ایک کپ پانی میں آدھا کپ چاول بھگودیں۔پانی چھان کر ایک چمچ مونگ کا پاؤڈر حل کر کے روزانہ ایک بار پی لیں۔

6-دس گرام سونٹھ ایک گلاس پانی میں ڈال کر اتنا پکالیں کہ ایک چوتھائی پانی رہ جائے ۔چھان کر پی لیں تین ہفتے تک استعمال کریں۔

7-عام صورت میں ایک ایک چٹکی پسی ہوئی پھٹکری صبح، دوپہر اور شام کو پانی کے ساتھ لینے سے لیکوریا یا سیلان رحم ختم ہوجاتا ہے ۔

آپ کیا کھاتی ہیں یہ اس مرض میں اہم ہے۔کم از کم دہی کا استعمال روزانہ کریں۔مختلف انفیکشن اور بیماریوں سے بچنے کے لئے مکمل صفائی اور ہلکی ورزش کریں۔۔

 -قبض سے بچیں چائے،کافی ،میدہ ،تلی ہوئی مصالحے دارمرغن اشیاء ترک کریں اور پھل سبزیاں استعمال کریں۔سیلان الرحم کی مریضہ کو غذا میں دودھ ، کیلا اور تازہ رس والے میٹھے پھلوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ انگور اس میں بالخاصہ مفید ہے۔

غصہ ،رنج و غم، ذہنی پریشانیوں سے جس حد تک ہوسکے بچیں۔

ہلکا اور زود ہضم کھانا کھائیں۔

بھاری ثقیل کھانے، مباشرت، پریشانی، صدمہ، غصہ، حسد و رقابت وغیرہ سے خود کو بچائیں ۔

ترکش اور مصالحے دار کھانوں سے پرہیز کریں

کھٹّی، بادی، تیز گرم اشیاء سے پرہیز لازمی ہے۔

 لیکوریا کی وجہ سے عورت اندر ہی اندر آہستہ آہستہ کھوکھلی ہوتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی صحت تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ لیکوریا عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ کم سنی ہو یا سن یاس کا زمانہ۔۔ اس لیے اسکا علاج بروقت کروانا نہایت ضروری ہے

خوتین میں ویجائینا کے انفیکشن اور انکی کیا وجوہات ہیں ؟

An image of vaginal infections in women

Vaginal Infections in Women—Causes and Care

Table of Contents

 

ویجائنل انفیکشن ایک قسم کے فنگس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ایک عام بیماری ہے جو ویجائینا میں ہوتا ہے. ℅75 فیصد خواتین کو کسی نہ کسی وقت یہ انفیکشن ضرور متاثر کرتی ہے. یہ انفیکشن میرڈ اور 

ان میرڈ دونوں خواتین میں ہوسکتی ہے. یہ انفیکشن کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے کچھ خواتین کو پیریڈز ختم ہونے کے بعد یہ انفیکشن ہوسکتا ہے.

تمام عورتوں کو ان کی اندام نہانی(vagina) کی کئیر کرنا ضروری ہے. ایک صحت مند اندام نہانی (vagina) میں فائدہ مند بیکٹیریا قدرتی طور پر موجود ہوتے ہیں جو  انفیکشن کو روکنے میں مدد دیتے ہیں.

انفیکشن کی کیا علامات ہو سکتی ہیں

An image of vaginal infections

ویجائینا کے انفیکشن ویجائنل ڈسچارج جو عام طور پر گاڑھا اور سفید ہوتا ہے۔ نارملی بھی عورت کی ویجائینا سے ڈسچارج ہوتا ہے لیکن صحت مند خواتین کا ڈسچارج سفید ، صاف اور بدبو سے پاک ہوتا ہےاور اس کے اخراج سے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی. اور انفیکشن میں ڈسچارج کے ساتھ خارش , درد سوزش ہوتی ہے اور یہ عام ڈسچارج کی نسبت بدبودار بھی ہوتا ہے 

۔ ویجائنہ اور اس کے آس پاس شدید خارش ہونا۔

۔ شدید جلن یا سوزش ہونا۔

۔پیشاب کرتے ہوئے جلن یا سوزش ہونا۔

۔ویجائینا کا سرخی مائل یا اس پر سوجن ہوجانا۔

یہ سب ویجائینا کے انفیکشن کی علامات ہیں

اس انفیکشن کا علاج کیا ہے

What is the treatment for this infection?

An image of treatment for infection

صفائ کا خیال رکھیں  

تیز خوشبو والے صابن کے استعمال سے گریز کریں

خواتین جسم کے اندرونی حصوں کی صفائی کے لئے زیادہ خوشبو والے صابن کے استعمال  نہ کریں کیونکہ ایسے صابن میں عام طور پر کیمیکل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ویجائنل ہیلتھ کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔ اس لیے نقصان دہ صابن کو بھول جائیں اور اس جگہ کی صفائی کے لئے اچھے بیبی شیمپو کا استعمال کریں یا  صرف پانی سے اچھی طرح اس جگہ کو صاف کریں ۔

آرام دہ لباس کا انتخاب کریں

زیادہ تنگ کپڑے نہ پہنیں جیسے ٹائٹس جینز وغیرہ لیکن اگر پہننے بھی ہیں تو کوشش کریں زیادہ دیر کے لیے نہ پہنیں گھر میں ڈھیلے اور آرام دہ لباس پہنیں

اس کے علاوہ کاٹن کے انڈر گارمنٹس استعمال کریں زیادہ گرم کپڑے والے اور ٹائیٹ انڈر گارمنٹس پہننے سے بچے تاکہ پسینہ نہ آۓ 

ویجائینا کو واش کرنا

صفائ کے لیے صرف پانی کا استعمال کریں اور زیادہ پریشر نہ دیں اس سے آپ نارمل بیکٹریا کو ختم کر سکتی ہیں جس سے انفیکشن ہو سکتا ہے

واش کرتے وقت دھیان رہے کہ ویجائینا کو پہلے واش کریں اور پھر اینل ایریا کو صاف کریں ہمیشہ آگے سے پیچھے کی طرف واش کریں پیچھے سے آگے کی طرف نہ آئیں..اینل ایریا واش کرنے کے بعد ویجائینا کی طرف نہ آئیں کیونکہ اینل ایریا کے جراثیم سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے.

اس کے علاوہ ویجائینا اور اینل ایریا کے درمیان والا حصہ جس کو عجان (perineum) یعنی پرینیم کہتے ہیں اس کو لازمی صاف کریں اگر یہ ایریا نظر انداز کیا جاۓ تو یہاں بیکٹریا کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور انفیکشن ہو سکتا ہے اس لیے اس ایریے کو صاف رکھیں

An image of washing the vagina

ویجائینا کو خشک رکھیں

واش کرنے کے بعد ویجائینا کو خشک رکھیں 

پسینے سے بچنے کے لیے کھلا لباس پہنے

ماہواری کے دوران احتیاط کریں

ہر چار سے چھ گھنٹے کے بعد پیڈ تبدیل کر لیں

ماہواری کے دنوں میں بھی ویجائینا کی صفائ کا خاص خیال رکھیں

صاف انڈر گارمنٹس پہنیں کوشش کریں کہ 2دن سے زیادہ ایک ہی انڈر وئیر نہ استعمال کریں اور انڈر گارمنٹس کو واشنگ مشین کی بجاۓ ہاتھ سے دھوئیں کیونکہ واشنگ مشین میں دھونے سے بیکٹریا اور جراثیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے اس لیے انفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ سے دھوئیں

ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں

An Image of How to Contact a Doctor

ڈسچارج کا ہلکا پیلا رنگ اور سرمئی رنگ بدبو دار سوزش  خارش اور سرخ ہوجانا

یہ انفیکشن کی علامت ہیں یہ انفیکشن حمل کے دوران بھی ہو جاتے ہیں اگر آپکو یہ انفیکشن ہوجاے تو ڈاکٹر آپکو کوئی کریم بتادیگا

اگر آپکو انفیکشن ہو گیا ہے تو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ ڈاکٹر کو لازمی چیک کروائیں اور اس کے مشورے سے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کریں

شرم کی وجہ سے عموماً خواتین اس بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرتے ہوئے بھی کتراتی ہیں ۔ یہ ہی لاپرواہی آگے جاکر صحت کے بڑے مسئلے کی وجہ بن سکتی ہے ۔ اس لیے اپنا علاج وقت پر کروائیں

 

حمل کے دوران وہ کون سی علامات ہیں جن کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟

An image of symptoms pregnancy

Which symptoms during pregnancy should not be ignored?

Table of Contents

حمل کے دوران آپ جو کچھ محسوس کررہی ہیں وہ معمول کے مطابق ہے یا نہیں یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے لیکن احتیاط کے طور پر آپ اپنی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اگر آپ بہتر محسوس نہیں کر رہی ہیں 

اگر آپ کسی علامت کے بارے میں پر یقین نہیں ہیں یا بہتر محسوس نہیں کررہی ہیں تو اپنی ڈاکٹر کے پاس لازمی جائیں اگر کوئی پریشانی ہے تو ڈاکٹر آپ کو گائیڈ کر دے گی اور اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو آپ اپنی اور بچے کی صحت کی طرف سے مطمئن ہو جائیں گی۔ پریگنینسی کے دوران کچھ علامات ہیں جن کو آپ نے نظر انداز نہیں کرنا اور اگر ان میں سے کوئ بھی علامت آپ میں ہو تو فورا اپنی ڈاکٹر سے رابطہ کریں

An image of Not Be Ignored during pregnancy symptoms

متلی یا قے کے ساتھ درد ہونا یا بغیر متلی کے پیٹ میں درد ہونا

اگر درد شدید ہے یا تیزی سے اٹھ رہا ہے تو یہ قبض،  وائرل انفیکشن ، فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس کے علاوہ یہ پری ایکلیمسیا(pre- Eclamsia) کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ پری ایکلیمسیا جو  ایسی خطرناک حالت ہے جس پر آپ کو اپنے  بچے کی حفاظت کے لئے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اگر آپ کو متلی یا قے کے ساتھ درد ہو یا پیٹ میں ناف کی جگہ درد ہو تو جلد سے جلد اپنی ڈاکٹر کے پاس جائیں..

بخار کا ہونا

اگر آپ کو 99 تک بخار ہے لیکن زکام یا زکام کی علامات نہیں ہیں تو اسی دن اپنے ڈاکٹر کو چیک کروائیں اور اگر بخار 101  سے زیادہ ہے تو فوراً ہی جلد سے جلد اپنے ڈاکٹر کے پاس جائیں کیونکہ اتنے تیز بخار کا مطلب ہے کہ آپ کو کوئی انفیکشن ہے

جو آپ کے بچے کو ایفیکٹ کر سکتا ہے

ویجائینا سے خون کا آنا

An image of Vaginal bleeding

حمل کے دوران کسی بھی وقت خون کا آنا خطرناک پیچیدگی کی طرف اشارہ کرتا ہے

ناف میں شدید  اور ایک طرف ہونے والے درد کے ساتھ خون کا آنا اکٹوپک(Ectopic) حمل کی وجہ سے ہو سکتا ہے ایکٹوپک حمل  یعنی وہ حالت جب بچہ یوٹرس کے باہر بڑھنا شروع کردیتا ہے اور یہ ایک ایمرجینسی کی حالت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بہت زیادہ بلیڈنگ خاص طور پر جب پیٹھ میں یا ناف میں درد کے ساتھ زیادہ خون گرے تو ہو سکتا ہے یہ ایک ابورشن ہو ۔

حمل کے آخری ایام میں بلیڈنگ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پلیسنٹا (آنول) بچے دانی سے الگ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ یہ وقت سے پہلے لیبر یعنی وہ لیبر جو 37 ہفتوں کے مکمل ہونے سے پہلے ہی شروع ہوجائے کی نشانی ہے۔  اس لیے اگر ویجائینا سے تھوڑا سا خون آۓ یا ساتھ درد ہو تو فورا ڈاکٹر کے پاس جائیں

ویجائینا سے پانی یا کسی بھی رطوبت کا ڈسچارج ہونا

37 ہفتوں سے پہلے ویجائینا سے کسی رطوبت یا پانی کے نکلنے کا مطلب ہے کہ بچے دانی میں آپ کے بچے کی حفاظت کرنے والا  پانی سے بھرا تھیلا زیادہ جلدی پھٹ گیا ہے ایسی حالت میں آپکو چاہیے کہ جلد سے جلد ڈاکٹر کے پاس جائیں ایسی صورتحال میں آپ کی ڈاکٹر آپ کو اسپتال میں داخل کرسکتی ہے تاکہ آپ کو انفیکشن سے بچانے کے لئے علاج ہوسکے اور آپ کو وقت سے پہلے پیدائش کے لئے تیار کیا جاسکے۔

بچے میں حرکت کا کم ہونا یا نہ ہونا

An image of decreased or no fetal movement

اگر حمل کے 21 ہفتوں کے بعد آپ کے بچے نے چوبیس گھنٹوں سے زائد عرصے سے حرکت کرنا بند کردیا ہے یا اس کی حرکت معمول سے کم ہوگئی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کا بچہ تکلیف میں ہو ایسی حالت میں فورا ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

حمل کی آخری دنوں میں شدید خارش ہونا

An image of preeclampsia

پریگنینسی کے آخری دنوں میں پورے جسم پر شدید خارش کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ

 آپ کے جگر میں کوئی خرابی ہے، خاص طور پر جب خارش بہت شدید ہو، رات میں زیادہ ہو اور اس خارش کی وجہ سے آپ کی نیند بھی خراب ہو اور آپ کے پیر کے تلووں اور آپ کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں بھی خارش ہو تو یہ حمل میں پچیدگی کی وجہ بنتی ہے اس لیے ایسی حالت میں ڈاکٹر کے پاس جائیں اور پراپر علاج کروائیں۔

درد یا جلن کے ساتھ urine کا آنا

اگر یورین کرتے وقت درد یا جلن ہو اور اس کے ساتھ اگر آپ کو بخار، ٹھنڈ کا لگنا یا کمر میں درد بھی ہے تو آپ کے یورینری ٹریک (urinary tract) یعنی پیشاب کے راستہ میں انفیکشن ہوسکتا ہے۔ یہ گردوں، مثانے  پر اثر ڈالتا ہے۔ اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اینٹی بایوٹکس سے ہونا چاہئے۔ 

پری ایکلیمسیا

یہ بلڈ پریشر زیادہ ہونے کی حالت ہے لیکن پریگنینسی میں شدید پچیدگی کی وجہ بنتا ہے اس کی بہت سی علامات ہیں اس لیے اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فورا ڈاکٹر کے پاس جائیں

جیسا کہ.

سر میں شدید درد ہونا

اگر آپ کے سر میں دو یا تین گھنٹوں سے بھی زیادہ دیر تک درد رہے اور نظر  کی پریشانی بھی ہو اور اس کے ساتھ آپ کے ہاتھوں، آنکھوں اور چہرے میں اچانک سوجن ہوجاتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو پری ایکلیمپسیا ہو۔

آنکھوں سے دوہرا دکھائی دینا، دھندلاپن، کم دکھائی  بھی پری ایکلیمپسیا کی ایک علامت ہوسکتی ہے

اگر حمل کے آخری ایام میں قے ہو اور بخار کے ساتھ پسلی کے ٹھیک نیچے درد ہو تو یہ بھی پری ایکلیمپسیا کی علامت ہوسکتا ہے