بچوں کے نفسیاتی مسائل ، وجوہات اور بچاؤ

An image of common psychological problems in children

Children’s Psychological Problems, Causes, and Prevention

بچے جہاں والدین کے لیے باعث مسرت ہوتے ہیں وہیں ان کے مسائل والدین کو پریشانیوں کے گرداب میں پھنسا دیتے ہیں اور بچوں کی محبت میں گم والدین رہنمائی کے اصولوں کو محبت اور دوستی میں ضم کردیتے ہیں اور اس چکر میں بچوں کی صحیح تربیت ممکن نہیں ہو پاتی اور وہ اپنے صحیح مدار سے ہٹ جاتے ہیں۔

اس میں شک وشبہے کی گنجائش نہیں کہ بچوں کے نفسیاتی مسائل میں زیادہ حصہ والدین کا عطا کردہ ہوتا ہے۔ دیکھا جاتا ہے بچے ضدی ہوجاتے ہیں۔ غصہ کرتے ہیں محفلوں سے یا لوگوں سے گھبراتے ہیں اکثر خاموش رہتے ہیں۔ روتے ہیں۔ والدین پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔

An image of children's psychological problems, causes, and prevention

کچھ بچے غیر ضروری جبر، مارپیٹ یا ڈرانے دھمکانے کے سبب خوف کا شکار ہوجاتے ہیں اور انھیں مختلف قسم کی چیزوں سے بلاوجہ خوف آنے لگتا ہے۔ جیسے جانور، کیڑے مکوڑے، نا واقف لوگ، بادل کی گرج، اندھیرا یا ہوائی جہاز کی آواز وغیرہ۔ کچھ بچوں میں یہ نفسیاتی عارضے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ بالکل بزدل ہوجاتے ہیں۔

حتیٰ کہ انھیں نیند میں بھی خوف آنے لگتا ہے اور ڈراؤنے خواب ان کی نیند میں مسلسل مداخلت کرتے رہتے ہیں۔سکول سے ڈر اور خوف بھی اس کی ایک قسم ہے۔ بچہ اسکول جانے سے گھبراتا ہے۔ اسے اپنے اساتذہ اور اسکول کے دوسرے بچوں سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے حوصلہ افزائی، پیار و محبت، انعام دے کر سکول میں کچھ وقت گزارنے کے لیے رضا مند کیا جائے۔ بچوں کے کچھ کامن مسلے اور ان کو کیسے حل کیا جائے 

بچوں کا رات میں سوتے ہوئے ڈر جانا

An image of children scared while sleeping at night

 ڈراؤنے خواب دیکھنے والے بچوں کو نیند کم آتی ہے۔ وہ بار بار جاگ جاتے ہیں یا سوتے میں بڑبڑاتے رہتے ہیں۔ نیند سے بیدار ہو کر رونے لگتے ہیں۔ بستر پر اِدھر اُدھر جگہ بدلتے ہیں۔

ان کی نیند پرسکون نہیں ہوتی، بلکہ وہ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں اور بے آرام دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ تر اچانک صدمہ، ڈر و خوف پر مبنی واقعات پیش آنے یا نیند سے قبل ڈراؤنی کہانیاں سننے، بار بار حوصلہ شکنی، والدین سے جدائی یا مارپیٹ وغیرہ کے سبب بچہ رات کو سوتے میں ڈرتا ہے۔ ایسے بچے کو حوصلہ دینے اور یقین دہانی کروانے کے علاوہ اسے اپنی ذات پر اعتماد بحال کرنے میں مدد دینا چاہیے۔ اگر ماں بچے کو اپنے ساتھ سلائے تو بہتر ہے۔ اس کے ذہن سے ڈر اور خوف کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

اور رات کو سونے سے پہلے اچھی باتیں بتائیں۔۔ ڈراؤنی کہانی سنانے یا بچوں کو ایسی کہانی پڑھنے سے روک دیں۔۔ بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارے۔۔ بچے کو جنوں، بھوتوں کی کہانیاں سنائیں گے یا کسی اور چیز سے ڈرائیں گے تو لامحالہ طورپر آپ اس کی ایک بزدل شخصیت بنا رہے ہیں۔ اس لیے بہت ضرورت ہے کہ آپ اسے بہادر لوگوں کی باتیں سنا کے ایک مضبوط انسان بنائیں

حسد

اکثر والدین کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کے بچوں میں جیلسی والی فیلنگز بہت زیادہ ہیں۔۔

دوسرے بہن بھائیوں اور خاندان میں موجود بچوں سے حسد کا پیدا ہونا ایک عام نفسیاتی مسئلہ ہے۔ خصوصاً بڑے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کے ساتھ پیار و محبت اور توجہ میں اضافہ کریں۔ دوسرے لوگوں کے سامنے سزا دینے سے گریز کریں۔ انھیں ان کی اہمیت کا احساس دلائیں اور ان کے حسد کے جذبے کو مسابقت و مقابلے کی صحت مند فضا میں بدلنے کی کوشش کریں۔ اور اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ نہ کریں۔ ان کے کئے گئے کام کو سراہے اور ان کو اور زیادہ پیار سے motivate کریں کہ وہ اس سے بھی اچھا کر سکتا ہے 

احساس کمتری اور احساسِ عدم تحفظ

An image of an inferiority complex and sense of insecurity

آپ کے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے اگر آپ ہر اچھے کام پر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔۔۔ شاباش اور انعام دیں۔ بچے پر اعتماد کریں اور ہر وقت کے پہرے نہ لگائیں بچے غلطیاں کریں گے تو سیکھیں گے۔ غلطیاں کرنے پر اگر آپ چیخیں، چلائیں گے تو بچہ خود کو اکیلا اور بھکرا ہوا محسوس کرے گا۔ جن باتوں کی بچوں کو تعلیم دیں ان پہ خود بھی عمل کریں

ذہنی صدموں، والدین کی جانب سے عدم توجہ، بچوں کے ساتھ سلوک میں تفریق، بار بار غصہ یا تنقید کرنے کے سبب بچوں میں احساس کمتری اور احساسِ عدم تحفظ جنم لیتا ہے، ان کا اپنی ذات پر اعتماد ہی ختم ہوجاتا ہے۔ جس کا اظہار وہ مختلف صورتوں میں کرتے ہیں۔

بچے کی زبان میں لکنت آسکتی ہے، وہ دوسروں سے الگ تھلک رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اجنبی لوگوں کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہے، کسی نئے کام میں ہاتھ ڈالنے سے اجتناب کرتا ہے۔ اس کی یادداشت کمزور ہوجاتی ہے۔ والدین سمجھ داری سے اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ بچوں کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھیں اور انھیں انفرادی توجہ دیتے رہیں۔ لڑکا، لڑکی میں تفریق کرنے سے آپ ان میں مطلب بہن بھائیوں میں فاصلہ پیدا کریں گے اور بچیوں کو احساس کمتری میں مبتلا کریں گے اور بچے بھی احساسِ برتری میں مبتلا ہوکے اپنی من مانیاں کریں گے۔ ان کی جائز خواہشات کو پورا کریں، ان میں خود اعتمادی کو ابھاریں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔

غصہ

کچھ بچوں میں سماجی یا جذباتی محرومیوں کا ردّعمل غصے کی شکل میں اُجاگر ہوتا ہے اور وہ معمولی معمولی بات پر شدید غصے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے بچوں کو مارتے ہیں۔ برتن توڑتے ہیں یا کھانا کھانے سے انکار کردیتے ہیں۔ چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے ہیں یا کتابوں کو پھاڑ دیتے ہیں۔ اس کے جواب میں والدین کو سختی نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے پیار و محبت سے پیش آئیں، اور ان کی محرمیوں کو کم کرکے راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں۔

 

جھوٹ بولنا

بچے کو جھوٹ سے دور رکھنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ جھوٹ سے پرہیز کریں۔ اس کے سامنے ایک باعمل اور سچے انسان کے روپ میں آئیں۔ اسے سچ بولنے پر تعریف و انعام سے نوازیں اور جھوٹ بولنے پر سزا دیں۔ اس پر سچ کی اہمیت مذہب اور معاشرے کے نقطۂ نظر سے واضح کریں اور اخلاقیات کا درس دیتے رہیں۔

جرائم

چوری کے علاوہ دوسرے جرائم بھی مختلف معاشرتی یا گھریلو عوامل کی بدولت پیدا ہوتے ہیں، اور بعض اوقات تشویش ناک صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ جیسے دوسرے بچوں سے زبردستی چیزیں چھیننا، ساتھیوں کو مارنا پیٹنا، کھیل کے میدان میں شکست تسلیم کرنے سے انکار، جنسی جرائم وغیرہ وغیرہ۔ یہ صورت حال انتہائی سنگین ہوتی ہے۔ بچے کی محرومیوں کا خیال رکھیں۔ اسے پیار و محبت اور بھرپور توجہ دیں۔ مذہبی تعلیم کی طرف راغب کریں۔ اخلاقیات کا درس دیں۔ انسانی حقوق کا احترام کرنا سکھائیں۔

 

مٹی کھانا

عدم توجہ، نگرانی میں کمی یا خوراک وقت پر نہ ملنے کے سبب بچے مٹی کھانے کے عادی ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر جب گھر میں صفائی کا بھی فقدان ہو اور بچے کو وافر مقدار میں مٹی دستیاب ہو، مٹی کے علاوہ بچہ ملتی جلتی چیزیں جیسے ربر وغیرہ بھی کھالیتا ہے۔ مٹی کھانے کے سبب پیٹ میں کیڑے ہوسکتے ہیں یا آنتوں کی تکلیف واقع ہوسکتی ہے۔ بچے کی نگرانی سخت کردیں۔ غذا فوری طور پر دیں۔ گھر میں سے مٹی کے تمام ذرائع ختم کردیں۔

انگوٹھا چوسنا

یہ ایک عام عادت ہے اور ایسے بچے زیادہ تر عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو توجہ، پیار و محبت میں اضافہ، حوصلہ افزائی اور تعریف و تحسین کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے

بچوں کا سوتے میں بستر گیلا کرنا

An image of Bedwetting in children while sleeping

لاکھوں بچے نہ چاہتے ہوئے بھی رات کو نیند میں بستر گیلا کردیتے ہیں، جو بچوں کے والدین کے لیے نہایت تناؤ اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ چند بچوں کے لیے بستر گیلا کرنا باعث شرمندگی اور مایوسی کا سبب بن سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ رشتے داروں کے گھر ٹھہرنے کے خیال سے خائف ہوتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف چند ایسے بھی بچے ہیں جن کو بستر گیلا کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا. سب سے پہلے یہ واضح کرتے چلیں کہ ایلیمنٹری اسکول جانے والے بچوں میں بستر گیلا کرنا عام بات ہے۔ لیکن اگر بچوں کو بہت ہی کم عمری میں رات کو بستر خشک رکھنے کے حوالے سے تربیت دینے کی کوشش کی جائے تو ان میں مایوسی، شرمساری اور اینگزائٹی پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹرز کے اندازے کے مطابق 20 فیصد بچے اس عمر میں بھی روزانہ بستر گیلا کردیتے ہیں، ایلیمنٹری اسکول کے 7 فیصد بچے کم از کم ہفتے میں ایک بار بستر گیلا کرتے ہیں، جبکہ 100 میں سے ایک ٹین ایجر بھی بستر گیلا کر سکتا ہے۔

اپنے بچوں کو سمجھائیے کہ وہ اکیلے نہیں جو بستر گیلا کرنے کی پریشانی کا سامنا کررہے ہیں، بلکہ ایسے بہت سے دیگر بچے بھی ہیں، اس طرح بچے میں پریشانی اور خوف میں کمی واقع ہوگی۔ زیادہ تر بچوں میں وقت کے ساتھ بستر گیلا کرنے کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

عادت کو چھڑوانے کے لیے عام طور پر یہ مشورے دیے جاتے ہیں کہ بچوں کو رات سونے سے پہلے بچے کو مائع غذائیں (پانی وغیرہ) دی جائیں، یا پھر بچوں کو سونے سے قبل زبردستی واش روم لے جانے کی عادت ڈالی جائے، مگر ان ترکیبوں پر عمل کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوتا، کیونکہ اصل جڑ پر کام نہیں کیا جاتا۔دراصل دماغ اور مثانے کے درمیان ناپختہ تعلق کے باعث بچہ بستر گیلا کردیتا ہے، یہی تعلق انسانی جسم کو رات کو اٹھنے اور پیشاب کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔اس ناپختہ تعلق میں اکثر مزید الجھاؤ اس وجہ سے بن جاتا ہے کہ بچوں کے مثانے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ رات کے وقت ان کا جسم جو پیشاب تیار کرتا ہے وہ اپنے اندر جمع نہیں کرپاتے چنانچہ رات کو سوتے وقت بستر گیلا ہوجاتا ہے۔

بچوں کا کسی خاص افراد سے دوری اختیار کرنا

An image of children avoiding certain individuals

بچپن عمر کا ایک خوبصورت دور ہے۔ اس دور کو بے فکری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم بچوں کو بھی کچھ مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ کبھی اسکول میں، کبھی گلے محلے میں تو کبھی کھیل کے میدان میں۔ انہیں ہم عمر ساتھی تنگ کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا پھر تذلیل کی جاتی ہے۔ ان سب منفی روئیوں کو  کہتے ہیں اور کچھ بچے مسلسل اس طرح کے برتاؤ کا نشانہ بنتے ہیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنے والے بچوں اپنی نوعمری کے دور میں وہم، وسوسوں اور ذہنی انتشار کا سبب بننے والے دیگر مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اگر بچہ کسی خاص فرد سے ڈرتا ہے یا دوری اختیار کرتا ہے تو اپنے بچے کے ساتھ بات چیت کریں اور اس سے وجہ جاننے کی کوشش کریں۔

ماں باپ کسی بھی بچے کی زندگی میں ایک اہم کردار انجام دیتے ہیں اور اس کے سماج سے جڑنے اور اس کی ذاتی نشو و نما میں مدد کرتے ہیں۔ دونوں ماں باپ کا ایک جگہ جمع ہونا ایک بچے کی زندگی میں استحکام لا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے صحت مندانہ نشو و نما کی حوصلہ افزائی ممکن ہے

کیا بہترین غذا کے استعمال سے زہنی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں؟  اس کے علاؤہ کون سی غذائیں دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں؟

An image of the best diet to enhance mental abilities

غذائیں کھائیں ذہنی صلاحیت بڑھائیں  

ہماری زندگی کے مصروف ترین معمولات ہمارے دماغ کو الجھا کر رکھ دیتے ہیں اور ہم ذہنی طور پر تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔بہت سے کام، گھر اور باہر کی بہت سی ذمہ داریاں، اہل خانہ کی ضروریات کو یاد رکھنا اور انہیں پورا کرنا، اس کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فونز میں سوشل میڈیا کا استعمال اور ان کے ذریعے دوستوں سے جڑے رہنا، یہ سب ہمارے دماغ پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے جس سے ہمارے دماغ کی کارکردگی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی عمر، طویل عرصے تک یکساں معمولات سر انجام دینا اور ان میں کوئی تبدیلی نہ کرنا بھی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہےتاہم اس صورتحال کو مخصوص ورزشوں اور غذاؤں سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ یہاں آپ کو کچھ ایسی غذائیں بتائی جائیں گی جو آپ کی دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

An image of which foods affect brain health?

انسانی جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو لیکن کامیاب زندگی گزارنے کے لیے دماغی طور پر طاقت ور ہونا بھی ضروری ہے ۔ ذہنی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے ایسے غذاؤں کا انتخاب کریں جودماغ کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ مختلف امراض سے بھی دماغ کو محفوظ رکھیں ۔

دماغ انسانی جسم کا وہ اہم جُز ہے جس کے بغیر جسم کوئی حرکت نہیں کر سکتا، اگر دماغ صحیح کام کرے گا تو اس کا اثر انسانی جسم کی کارکردگی پر  براہ راست ہو گا۔ 

صحت مند غذا جسم کے تمام اعضاء کے لیے نہایت ضروری ہے، اگر آپ روزمرہ صحت مند خوراک کا استعمال نہیں کریں گے تو اس سے آپ کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر کچھ ایسی چیزیں کھا رہے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کچھ غذائیں ایسی ہیں جو آپکی ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں جن کا استعمال ہمارے لئے اور ہمارے بچوں کے لیے بہت مفید ہے۔۔

اب بات کرتے ہیں ان غذاوں کی جو غذائیں زہنی صلاحیت کو بڑھا دیتی ہیں

اخروٹ

ویسے تو تمام ڈرائی فروٹ ہی انسانی صحت کے لئے بہترین تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں وٹامن ای،گڈ فیٹس اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو انسانی صحت کے لئے بہترین تصور کیے جاتے ہیں ۔لیکن دماغی صحت کو بہترین بنانے کے لئے خاص طور پر اخروٹ کا استعمال بہترین ثابت ہوتا ہے۔ اخروٹ میں ’میلا ٹونین‘ نامی مادہ جو دماغ کو روشن رکھنے کے ساتھ اس کے ذریعے پیغام رسانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اخروٹ جسم میں میلاٹونین کی مقدار کو بڑھاتے ہیں جس کے نتیجے میں پرسکون نیند سے بھی مستفید ہوا جاسکتا ہے۔

یہ واحد پھل ہے جس میں الفا لائنو لینک ایسڈ کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے ۔یہ جز دورانِ خون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس سے دماغ تک آکسیجن کی فراہمی موثر انداز سے ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی ذہنی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔

An image of use Walnut mental health

زیتون کا تیل

زیتون کے تیل کے ان گنت فوائد ہیں۔ زیتون کے تیل میں ایسی چکنائی موجود ہوتی ہے جودماغ کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مکھن کے بجائے زیتون کے تیل کا استعمال طویل مدت کے لیے دماغی صحت کا تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔

بیریز

مختلف اقسام کی بیریز جیسے بلو بیریز، بلیک بیریز، اسٹرابیریز میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس دماغی صحت کو بہتر بناتی ہیں اور مختلف امور پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اسٹربری اور بلیوبیریز کا استعمال سلاد کے لئے بھی کیا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ انکا استعمال یاداشت کو بڑھاتا ہے۔اور ان کا استعمال زہنی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کافی

سردیوں میں کافی کا استعمال کافی بڑھ جاتا ہے ۔ کافی میں موجود کیفین ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ کافی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دماغی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ۔ یہ مشروب مایوسی یا ڈپریشن کے خاتمے کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

پالک

سبز پتوں والی سبزی کا استعمال صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ لیکن پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ کی وافر مقدار ہونے کی وجہ سے یہ ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے ۔ ایک تحقیقی ادارے کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان کی دماغی صحت عمر بھر سہی رہتی ہے۔

سبز رنگت والی میں بہت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں کیلشیئم، پوٹاشیئم، فولیٹ، زنک اور مینگنیز شامل ہیں۔ یہ دماغ کو افعال کو بہتر بناتی ہیں

مچھلی

سبز پتوں والی سبزی کا استعمال صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ لیکن پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ کی وافر مقدار ہونے کی وجہ سے یہ ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے ۔ ایک تحقیقی ادارے کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان کی دماغی صحت عمر بھر سہی رہتی ہے۔

سبز رنگت والی میں بہت قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں کیلشیئم، پوٹاشیئم، فولیٹ، زنک اور مینگنیز شامل ہیں۔ یہ دماغ کو افعال کو بہتر بناتی ہیں

 

چاکلیٹ

An image of used chocolate for mental health

چاکلیٹ کے بے شمار فوائد میں سے ایک فائدہ دماغی صلاحیت کو بڑھانا بھی ہے۔امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ناشتے میں یا دن کے آغاز میں چاکلیٹ کھانا دماغی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے اور آپ اپنا کام بہتر طور پر سرانجام دے سکتے ہیں۔

لیکن بہت زیادہ چاکلیٹ موٹاپے کا سبب بھی بن سکتی ہے لہٰذا اسے صرف صبح کے وقت اور تھوڑی مقدار میں کھایا جائے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت کھائی جانے والی غذا جسم کے بجائے دماغ کو توانائی پہنچاتی ہیں اور جزو بدن ہو کر موٹاپے کا سبب نہیں بنتی

 

ان غذاؤں کے علاوہ روزانہ متوازن غذا کا استعمال کریں۔ دودھ، دہی، انڈے، سبزیوں، گوشت اور پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ جنک فوڈ اور باہر کے کھانوں سے پرہیز کریں۔ متوازن غذا جسمانی و ذہنی صحت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔

دماغی صحت کو متاثر کرنے والی غذائیں

An image of foods that affect brain health

ہم روزانہ کی بنیاد پر کچھ ایسی چیزیں کھا رہے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یا اس سے ہماری زہنی صلاحیت کتنی متاثر ہوتی ہے۔۔۔

آئیے ہم آپ کو چند ایسی غذاؤں کے بارے میں بتائیں جو دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔

میٹھے مشروبات

کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس جیسے مشروبات جن میں سوڈا وغیرہ شامل ہوتا ہے، اگر آپ ان ڈرنکس کا استعمال معمول بنا لیں گے تو یہ شوگر ، ہائ بلڈ پریشر ، ہائی کولیسٹرول اور ڈائمنشیا یعنی یاداشت کی کمزوری جیسی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔میٹھے مشروبات جس میں ’آرٹیفیشیل سوئٹنر‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، اگر اسے روز مرہ کی غذا میں شامل کر لیا جائے گا تو اس سے انسان کے اندر سیکھنے کی صلاحیت، حافظہ، اور دماغی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس

ایسی چیزیں جس میں ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، یعنی اناج کو بہت سے مراحل سے گزارنے کے بعد جو چیز سامنے آتی ہیں، جن میں ڈبل روٹی، پاپے، بسکٹس وغیرہ شامل ہوتے ہیں، یہ چیزیں خوراک میں روز شامل کرنے سے جسم میں شکر کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ کاربوہائیڈریٹس جسم میں داخل ہو کر شکر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، ان چیزوں کے روزانہ استعمال سے بھی انسان کا حافظہ اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو بالآخر ڈائمنشیا یعنی یاداشت کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

An image of refined carbohydrates

تلی ہوئی چیزوں کا استعمال

تلی ہوئی چیزیں کھانے میں تو بے حد مزیدار ہوتی ہیں مگر ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ انہیں کھانے سے ہماری صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ تلی ہوئی اشیاء کھانے سے انسان موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے اور جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ موٹاپے کا تعلق براہ راست دماغ سے ہوتا ہے کیونکہ موٹاپے سے انسان سُستی کا شکار ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ دماغ اپنی قدرتی صلاحیت سے محروم ہوتا رہتا ہے۔

 

گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال

گوشت انسان کی صحت کے لیے فائدہ مند تو ہے مگر اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال انسان کو بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے۔

 

تحقیق کے مطابق خوراک میں گوشت کے استعمال کو معمول بنانے سے الزائمر کی بیماری ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس بیماری میں عارضی طور پر انسان کی یاداشت کمزور ہو جاتی ہے۔۔ گوشت میں آئرن وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، اگر ہم روز آئرن کا اضافی استعمال کر یں گے تو اس سے دماغ کی صحت متاثر ہونے کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

 

انسان کا نظام انہضام خوراک سے توانائی حاصل کر کے جسم اور دماغ کو فراہم کرتا ہے لیکن بعض خوراک میں ایسے غزائی اجزا ہوتے ہیں جو دماغ کی صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تاہم چند قدرتی طریقوں سے بھی دماغ کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔   

روزہ مرہ کی زندگی میں انسان کی خوراک اور ارد گرد کا ماحول ذہنی صلاحیت پر براہ راست اثر کرتا ہے اس لئے ماہرین ذہنی صلاحیت بڑھانے کے لئے غذائیت سے بھرپور اور متوازن خوراک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں

ماں بننے کی خواہش مند خواتین کے لیے 9 اہم تجاویز

An image of Tips for Women Who Wish to Become Mothers

Table of Contents

ماں بننے میں تاخیر خواتین کو کئی اقسام کی پریشانیوں میں مبتلا کردیتی ہے، یہ مرحلہ خواتین کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ لیکن احتیاط نہ کی جائے تو یہ خوبصورت لمحات بھاینک خواب میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی شادی شدہ جوڑے کے دل میں اولاد پانے کی خواہش بیدار ہونے لگتی ہے ۔

یوں تو یہ تجربہ عورت اور مرد دونوں ہی کے لیے نیا اور انوکھا ہوتا ہے لیکن عورت کو زندگی میں اس مرحلے کے دوران کئی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ پہلی بار ماں بننے والی یا خواہش رکھنے والی لڑکیوں کو عموما اس کام میں کئی احتیاطوں اور کئی باتوں کاخیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معلومات کی کمی کی وجہ سے حمل ٹھرنے میں انہیں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ عام طور پر ماں، ساس یا گھر کی دیگر تجربہ کار خواتین لڑکیوں کو چند چیزوں سے بچنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بھی اولاد کی خواہش مند خواتین کو اپنی خوراک اور طرز زندگی میں احتیاط اور توازن لانے کی ضرورت ہوتی ہے-ایک عورت کے لیے ماں بننا سب سے بڑی خوشی کا موقع ہوتا ہے-

 

An image of Important Tips for Women Who Wish to Become Mothers

عام طور پر جب بھی کوئی نوجوان جوڑا شادی کے بعد اپنے خاندان میں اضافے کا خواہشمند ہوتا ہے تو اس کو اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے اس اہم ترین فیصلے سے پہلے کچھ اقدامات کرنا ضروری ہوتے ہیں جو کہ ماں اور بچے کی صحت اور زندگی کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ حمل کے ٹھہرنا بھی اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب کہ ماں جسمانی اور ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو-

اب بات کرتے ہیں کہ وہ کون کون سی تجاویز ہیں جن پر عمل کرنے سے آپ کو پریگنینسی میں کافی مدد مل سکتی ہے 

۔کیفین کا حد سے زیادہ استعمال نہ کریں

Do not consume excessive caffeine.

An image of "Do not consume excessive caffeine."

کیفین جو کہ چائے ، کافی جیسے مشروبات میں موجود ہوتا ہے یا پھر چاکلیٹ میں بھی موجود ہوتی ہے اس کا استعمال حمل ٹھرنے کے امکانات کو پچیس فی صد تک کم کر دیتا ہے- اس لیے اگر آپ ماں بننے کی خواہشمند ہیں تو آپ کو اپنی چاۓ کافی پینے کی عادت پر قابو پانا ہو گا تاکہ آپ ماں بننے کے مرحلے میں داخل ہو سکیں-

آپ کو اپنی صبح کی چائے کی پیالی چھوڑنے کی ضرورت نہیں لیکن اگر آپ دن میں دو سو ملی گرامز سے زیادہ کیفین استعمال کر رہی ہیں تو احتیاط کی ضرورت ضرور ہے ۔ 200 ملی گرامز کا مطلب ہے ایک دن میں  دو سے زیادہ آٹھ اونس  کے کپ یعنی بڑے مگ۔ جسم میں کیفین کی زیادتی حمل ٹھرنے میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے اور اس سے عورت کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ کیفین کے زیادہ استعمال سے جسم میں آئرن جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور اسقاط حمل یا پری مچیور بے بی ہونے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔

زیادہ جنک فوڈ کھانے سے گریز کریں

تحقیق سے معلوم ہوا کہ زیادہ جنک فوڈ کھانے والی خواتین کو حمل ٹھرنے میں تاخیر کا سامنا ہوسکتا ہے۔ وہ خواتین جن کی غذا میں پھل وغیرہ زیادہ اور جنک فوڈ کم شامل ہوتا ہے ان میں جلدی حمل  ٹھرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور وہ کم وقت میں حاملہ ہو جاتی ہیں۔۔ اس کے برعکس وہ خواتین جو بہت زیادہ جنک فوڈ کھاتی ہیں ان کا حمل نہ صرف تاخیر سے ٹھرتا ہے بلکہ ان کے حمل میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے چانسز  بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

وزن کی زیادتی یا کمی نہ ہونے دیں

Don't let your weight be too high or too low

An image of Don't let your weight be too high or too low.

جس طرح وزن زیادہ ہونا نقصان دہ ہے اسی طرح کم وزن بھی اولاد کی خواہش مند خواتین کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے اپنا بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) ضرور کروائیں ۔ بی ایم آئی سے آپ کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آ پ کے قد کے حساب سے آپ کا وزن کم ہے یا؟، سہی ہے؟ یا زیادہ ہے؟ یا بہت زیادہ ہے؟ اگر آپ کا بی ایم آئی زیادہ یعنی (30سے اوپر) ہے 

یا بہت کم یعنی (18.5 سے کم) ہوگا تو آپ کو ماہواری میں کمی یا بے قائدگی کی شکایت ہو سکتی ہے ۔ موٹاپے سے زچگی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں جیسے شوگر، بچے میں جسمانی کمزوری، یا سی سیکشن کرنے کی ضرورت وغیرہ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ جب آپ پریگنینسی کے لیے کوشش کر رہی ہوں تو آپ کا وزن آپ کے قد کے حساب سے ٹھیک ہونا چاہیے۔

حمل کے ٹہرنے میں جسمانی وزن بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اگر عورت کا جسم کا وزن کم ہو گا تو اندرونی کمزوری کے سبب اول تو اس کے حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہوں گے- اور اگر حمل ٹہر بھی گیا تو ماں کی کمزوری کا براہ راست اثر بچے کی صحت پر بھی پڑے گا اور وہ پیدائش کے وقت ہی سے کمزور ہوگا جب کہ اگر عورت کا وزن حمل سے قبل بہت زیادہ ہو  تو اس صورت میں بھی عورت کے حمل کے ٹہرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں جو ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں- اسی وجہ سے اگر آپ ماں بننے کی خواہشمند ہیں تو آپ کو جسم کے وزن کو صحت مندی کے لیول تک لے کر آنا پڑے گا-

سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں

"Increase the intake of vegetables."

An image of increasing the intake of vegetables

صحت کے ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ حمل ٹہرنے اور غذا کے استعمال کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں ۔ البتہ اس بات پر سب ہی متفق ہیں کہ اگر جسم صحت مند ہوگا تو ماں بننا زیادہ آسان ہو جائے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے کہ ماں بننے کی خواہش مند خواتین کے لیے اپنی غذا کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ ایسے میں فولک ایسڈ صحت کے لیے ضروری ہے جو سب سے زیادہ پالک میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہری سبزیوں میں وٹامن بی کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے جو کہ عورت کی صحت کے لیے اہم ہے ۔

حرکت میں برکت ہےوالی بات کو یاد رکھیں

ہر وقت بیٹھے رہنا مجموعی طور پر بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ مناسب جسمانی سرگرمیاں جیسے تیز چہل قدمی، سائکلنگ اور باغبانی وغیرہ ماں بننے میں لگنے والی مدت کو مختصر کر سکتی ہیں۔ البتہ کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے ۔اس کے علاؤہ کم وقت میں زیادہ ورزش حمل ٹہرنے میں مشکلات پیدا کرسکتی ہے ۔ اگر ورزش کرنے سے حیض میں بے قائدگی پیدا ہونے لگے یا کوئی اور تکلیف محسوس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی ورزش کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔

مچھلی کھانے میں احتیاط رکھیں

کچھ مچھلیوں میں مرکری یا پارے کا لیول بہت زیادہ ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ ایسی مچھلی کے استعمال سے تولیدی صلاحیت میں نقص پیدا ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ مرکری جسم میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے اور اس سے ہونے والے بچے کی ذہنی نشونما میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے ۔ اگر آپ کو سی فوڈ کھانے کا شوق ہے تو جھینگے یا سرمئی مچھلی کھاسکتی ہیں۔ 

پرسکون رہنے کی کوشش کریں

تھوڑا بہت اسٹریس یا ذہنی دباؤ تو ہم سب ہی کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ معمولی نوعیت کی پریشانی یا بے چینی ہونا عام بات ہے اور اس سے تولیدی نظام پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوتے لیکن یہ ہی اسٹریس اگر حد سے زیادہ بڑھ جائے اور اس سے آپ کی صحت متاثر ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سٹریس آپ کی ماں بننے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے-

شدید ذہنی دباؤ عورتوں میں حمل میں تاخیر یا بانجھ پن کا خطرہ دوگنا کردیتا ہے۔ایسے میں اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل علاج جیسے یوگا وغیرہ آزما کر دیکھیں۔ زیادہ اداس یا افسردہ رہنا خواتین کو بانجھ پن کے خطرے کی جانب دھکیلتا ہے جبکہ ان کے مقابلے میں مطمئین اور پر سکون رہنے والی عورتوں میں ماں بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

متوازن غذا کا استعمال "Use a balanced diet"

An image of using a balanced diet

اگر آپ ماں بننے کی خواہشمند ہیں تو پھر آپ کو ایسی غذا کا استعمال لازمی کرنے کی عادت ڈالنی ہو گی جو کہ آپ کے ماں بننے کی صلاحیتوں کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکے- اس غذا میں کم چکنائی اور زیادہ پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ کا ہونا اشد ضروری ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ متوازن غذا ہی حمل کے ٹہرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے-

پروٹین کی وجہ سے جلد حمل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔خواتین کو چاہیے کہ اپنے کھانوں میں پروٹین کااستعمال بڑھا دیں۔ انڈے، مچھلی، دالیں، گوشت اور مرغی کا بھرپور استعمال کریں۔ان کی وجہ سے آئرن اور amino acids جسم میں جاتے ہیں اور توانائی ملنے سے ماں بننے میں مدد ملتی ہے۔

قدرتی غذاﺅں کا استعمال: کوشش کریں کہ پراسیسڈ فوڈ سے اجتناب کریں اور قدرتی کھانے استعمال کریں جیسے براﺅن رائس، سرخ چاول، جو اور گندم کااستعمال کریں۔

روزانہ ورزش کا معمول بنائیں

An image of making daily exercise a routine.

 

خواتین کو چاہئے کہ جتنا ہو سکے خود کو ایکٹو رکھیں۔۔  ریگولر ورزش کریں۔ ایکٹو رہنے سے حاملہ ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔

 

صحت مند طرز زندگی گزارنا اور نقصان پہنچانے والی عادتوں سے بچنا ماں بننے کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس امر میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ماں بننے کے تجربے کو خوشگوار بنانے کے لیے ان باتوں کا خیال رکھنا بڑی حد تک مددگار ہوسکتا ہے۔

 

لڑکے یا لڑکی کی پیدائش؟ بچے کی جنس میں عورت یا مرد کون زمہ دار

An image of the birth of a boy or a girl

Table of Contents

Birth of a boy or girl? Who is responsible for determining the baby’s gender—the man or the woman?

An image of the person responsible for the baby's gender

زمانہ قدیم سے ہی یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کی ذمہ دار عورت ہے اور بعض لوگ تو بیٹا نہ پیدا ہونے کے الزام میں عورت کو طلاق کا حق دار بھی سمجھتے ہیں یا کم از کم دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق اس عام پائے جانے والے خیال کے بالکل برعکس ہیں اور ان تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ بچے کی جنس طے کرنے میں عورت کا کوئی کردار نہیں بلکہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار مکمل طور پر مرد کے جینز پر ہے۔

 

اس سے پہلے بہت تحقیقات ثابت کرچکی ہیں کہ جنسی ملاپ میں عورت کی طرف سے XX کروموسوم دیئے جاتے ہیں جبکہ مرد کی طرف سے XY کروموسوم دئیے جاتے ہیں۔ مرد کا Y کروموسم بیٹے اور X کروموسوم بیٹی کی پیدائش کی وجہ بنتا ہے۔ یہ بات مکمل طور پر واضح ہوچکی ہے کہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار صرف مرد کے جینز پر ہے اور اس میں خاتون کے جینز کا کوئی کردار نہیں

تحقیق کے مطابق مردوں کے ہاں زیادہ بیٹوں یا بیٹیوں کی پیدائش کا موروثی طور پر منتقل ہونے والے جینز سے تعلق ہے۔ تحقیق کے مطابق مردوں میں موروثی طور پر یہ صلاحیت منتقل ہوتی ہے جب کہ 

عورت کے بھائیوں یا بہنوں کی تعداد اس کی اولاد کی جنس پر اثر انداز نہیں ہوتی

غلط فہمیاں اور حقائ

Misconceptions and Facts responsible for the Baby's Gender

غذا، دوائیں یا دعاؤں سے جنس کا بدلنا ممکن نہیں۔

عورت کو مورد الزام ٹھہرانا سراسر سائنسی جہالت ہے۔

An image of misconceptions and facts responsible for the baby's gender

 میڈیکل طریقے

Medical Methods

An image of medical methods for baby gender

IVF + PGD (Preimplantation Genetic Diagnosis): اس طریقے میں ایمبریوز کا جینیاتی ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور پھر جنس کا انتخاب ممکن ہوتا ہے۔

یہ صرف چند ممالک میں اور خاص طور پر جینیاتی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا ہے، عام جنس منتخب کرنے کے لیے نہیں۔

گرمیوں میں بچوں کی نازک جلد کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے اور کئر کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟

An image of the care of children's delicate skin

Table of Contents

قدرت کی ان گنت نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت بچے ہوتے ہیں۔ بچے قدرت کا وہ بیش قیمت اور انمول تحفہ ہیں جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی اور کھلکھلاتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند نازک ہوتے ہیں۔ جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشوونما نہ کی جائے تو وہ مرجھانے لگتے ہیں اسی طرح بچے بھی صحیح نگہداشت اور کل وقتی توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ بچے سب ہی اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے بچے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لیے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں وہیں وہ اپنے بچوں کو گرم موسم کی شدت سے بچانے کے لیے مناسب ملبوسات اور ٹھنڈک پہنچانے والے پاؤڈر اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔

گرمیاں اب آچکی ہیں یعنی اب آپ کے بچوں کی جلد کو پہلے سے زیادہ خیال کی ضرورت ہوگی۔گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بچوں کی جلد کے کئی مسائل بھی ساتھ لے آتا ہے اس لیے ممکن ہے کہ جو نئے والدین بنے ہیں وہ پریشان ہوں کہ بچوں کی جلد کا خیال کس طرح رکھا جائے؟بچوں کی جلد گرمیوں سے زیادہ متاثر نہ ہو اس کے لیے آپ کو روزانہ کی بنیاد پر جلد کی حفاظت سے متعلق مخصوص عمل دہرانا ہوگا۔ درجہ حرارت میں زبردست اضافہ بچوں میں بے چینی اور پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ گرمیوں کے دوران عام طور پر ہیٹ ریش یعنی جلد پر سرخی مائل دانے، ڈائپر ریش، جلد کی خشکی اور گرمی دانوں کی شکایت کی جاتی ہے۔ بچوں کی جلد بہت ہی پتلی اور نازک ہوتی ہے، پسینے سے بند مساموں کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، یا اس سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

An image of skincare for children's

بچے جلد کے مسائل سے زیادہ پریشان نہ ہوں اس کے لیے آپ ڈاکٹر کی تجویز کردہ مصنوعات کا استعمال کریں اور جلد کی نمی برقرار رکھیں، اسے خشک نہ ہونے دیں اور جلد کی ضروریات کا خاص رکھیں۔

"Bathing to refresh the skin"بچوں کی سکن کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

جلد کو ترو تازہ کرنے کے لیے نہلانا

گرمیوں میں بچوں کو تقریباً روزانہ نہلانا چاہیے۔ اگر بچے کو گرمی دانے نکل آئیں تو پھر نہلانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ بچے ایسی صورت حال میں بہت گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے اس وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔

بچوں کی جلد سے پسینہ دُور کرنے اور جلد کو صاف رکھنے کا ایک بہترین طریقہ بچوں کو نہلانا ہے۔ گرمیوں کے دوران گرم پانی کے بجائے نیم گرم پانی استعمال کریں۔ بچوں کی جلد ترو تازہ کرنے کے لیے آپ ایسے صابن یا واش لوشن کا انتخاب کرسکتے ہیں جن میں نیم جیسی مختلف جڑی بوٹیوں کا عرق شامل ہو۔ نیم بچے کی جلد کے تحفظ کے لیے کافی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اگر نہانے سے متعلق مصنوعات میں تربوز کا عرق شامل ہو تو اس سے بچے کی جلد کو ٹھنڈا اور ترو تازہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ 

گرمیوں میں پسینہ آنا ایک فطری بات ہے، پسینے کی حالت میں بھی بچے کو نہ نہلائیں اور نہ ہی نہلانے کے فوری بعد گیلی حالت میں پنکھے کے نیچے بٹھائیں۔ پسینہ کسی نرم کپڑے یا تولیے سے خشک کریں اور پھر بچے کو نہلائیں۔ نہانے کے بعد پنکھے کی ہوا بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے لہٰذا پنکھے کی مصنوعی ہوا سے بچے کو بچائیں اور قدرتی ہوا کا معقول انتظام کریں جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں۔

An image of bathing to refresh the skin

گرمی دانے کی پریشانی

 

اپنے بچے کو گرمی دانوں سے محفوظ بنانے کے لیے پرکلی ہیٹ پاؤڈر یا کسی بھی اچھی کمپنی کے ٹھنڈے پاؤڈر کا استعمال کریں۔ یہ آپ کے بچوں کی جلد کو آرام میں کافی مدد کرتا ہے۔ اگر پاؤڈر میں نیم اور خس جیسے قدرتی اجزا شامل ہیں تو یہ اور بھی اچھی بات ہے کیونکہ نیم سے گرمی دانوں کی جھنجھلاہٹ ختم ہوتی ہے اور جلد کو آرام پہنچانے میں مدد ملتی ہے، جبکہ خس بچے کی جلد کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کافی مفید تصور کیا جاتا ہے۔

بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے انہیں بچائیں۔ دھوپ میں براہ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں اور اگر انہیں لے کر ہی جانا پڑے تو دھوپ سے بچاؤ کا سامان مثلاً سن سکرین یعنی دھوپ سے نقصان پہنچانے والے لوشن یا چھتری کا اہتمام کریں۔ اگر بچوں کو دانے ہوں تو انہیں روزانہ نہلا کر گرمی دانوں کا پاؤڈر لگائیں اور جہاں تک ممکن ہو انہیں ہوا دار جگہ پر رہنے دیں۔

لوشن کا استعمال

 

آپ ایلوویرا، نٹ گراس کے تیل اور سرسوں کے تیل جیسے قدرتی اجزا کی خصوصیات کے ساتھ دستیاب لوشن کا استعمال کریں۔ ایلوویرا بچے کی جلد کی خشکی ختم کرنے میں مدد کرتا ہے، نٹ گراس کا تیل باریک دانوں کی شدت کو کم کرتا ہے، جبکہ سرسوں کا تیل خارش اور کھجلی میں کمی لاتا ہے۔

 

بچوں کو پریشانی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے سے بچائیں

بچے اسی وقت گرمیوں کے موسم کا لطف اٹھاسکتے ہیں جب وہ خود کو پُرسکون محسوس کریں گے۔ خیال رکھیے کہ گرمیوں کے دوران بچوں کو لائٹ کاٹن اور لیلن کے کپڑے پہنائیں- بچے کے لباس کی خریداری میں عموماً مائیں ظاہر کو دیکھ کر ایک نہایت اہم عنصر کو فراموش کر دیتی ہیں اور وہ ہے آرام دہ لباس۔ ماؤں کو آرام دہ لباس اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔

خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے کوئی بھی لباس جو جلد پر رگڑ اور بے آرامی کا باعث بنتا ہو، نہ پہنائیں۔ مصنوعی دھاگوں سے بنے ہوئے لباس جلد میں الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ خصوصاً گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈے سوتی لباس بچے کے بیرونی درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔

ہلکے اور کھلی ہوئی تراش کے لباس نہایت مناسب ہوتے ہیں اور بچے کو گھنٹوں مطمئن اور خوش و خرم رکھتے ہیں۔ بچوں کو ہلکے ہوا دار کپڑے پہنائیں جن سے ہوا آسانی سے گزر سکے اور وہ پسینہ جذب کرتے ہوں۔  گرمیوں میں ہلکے کاٹن کی فراک اور ٹی شرٹ بہتر رہتی ہے۔ جب بھی لباس کا انتخاب کریں تو اس کو یقینی بنائیں کہ ڈوری یا زپ وغیرہ سوتے میں بچے کو تنگ نہ کریں۔

اگر گرمیوں میں موزے پہنانے ہوں تو وہ ہلکے ہونے چاہئیں۔ گرمیوں میں سوتی لباس پہنانا چاہیے۔ بچے اس میں زیادہ آسانی اور راحت محسوس کرتے ہیں۔

ڈائپر ریش کریم کا استعمال "Diaper rash cream for child"

An image of diaper rash cream on a child

 

گرمیوں کے دوران اگر ہر تھوڑی دیر بعد ڈائپر بدلا جائے تو اس سے بچے کی جلد کی تازگی برقرار رہتی ہے اور ڈائپر ریش یعنی ڈائپر کی وجہ سے ہونےلگی والے ہلکے دانے یا دھپڑ سے بھی بچا جاسکتا ہے۔بچوں کی جلد بے حد حساس ہوتی ہے لہذا اگر بچوں کا ڈائپر وقت پر تبدیل نہ کیا جائے تو ان کی جلد پر سرخ دھبے اور لکیریں پڑ جاتی ہیں اور سوزش ہو جاتی ہے۔

اگر یہ ریشز بڑھ جائیں تو ان میں جلن اور خارش بچوں کو تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ڈائپر پہنانے میں تھوڑی سی احتیاط بچوں کو اس پریشانی سے بچا سکتی ہے ۔ بچے کی جلد کا خیال رکھنے کے لیے ایسی ڈائپر کریم کا انتخاب کریں جس میں بادام کا تیل شامل ہو، بادام کا تیل جلد کو خشکی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاؤہ مناسب سائز کے ڈائپرز کا انتخاب کریں 

تا کہ ڈائپر ریش نہ ہوں اگر ڈائپر بہت زیادہ ٹائٹ ہو یا صحیح طرح فٹ نہ ہو تو ریشز ہو سکتے ہیں۔ بچوں کو زیادہ دیر ڈائپر میں نہ رہنے دیں۔ ہر 3 سے 4 گھنٹے بعد ڈائپر ضرور تبدیل کریں۔ہمیشہ معیاری کمپنی کا ڈائپر استعمال کریں- ڈائپر کی تبدیلی کے دوران بچوں کی جلد کو لازمی دھلائیں۔ خشک کرنے کے لئے زیادہ نہ رگڑیں بلکہ کسی نرم تولیہ سے ہلکے ہاتھ سے خشک کریں۔

جلد کی صفائی کے لیے بیبی وائپس کا استعمال " Baby wipes for skin cleaning"

An image of the use of baby wipes for skin cleaning

بچوں کو کہیں بھی کسی بھی وقت تروتازہ کرنے کے لیے بیبی وائپس کا استعمال بہت ہی مفید ہے۔ بچوں کے ان وائپس میں ایلو ویرا کی خصوصیت بھی شامل ہو تو اور بھی اچھی بات ہے کیونکہ ایلو ویرا جلد کی صفائی کے لیے کافی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

بہت زیادہ صابن یاالکحل اور خوشبو والے وائپس استعمال نہ کریں۔ اس سے جلد بہت خشک ہوجاتی ہے جو ڈائپر ریشز کی وجہ بنتی ہے ۔

 

ممتا کا احساس ہی اتنا دلکش ہے کہ اسے فراموش کرنا ممکن نہیں۔ شادی کے بعد کسی بھی لڑکیوں کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد ممتا کے رتبے پر فائز ہوسکے اور جس روز وہ اپنے قدموں تلے جنت کی نوید سنتی ہے اس روز وہ خود کو ہوائوں میں اڑتا، پرسکون، پر امید اور زندگی سے بھر پور محسوس کرتی ہے۔ کیونکہ اب وہ اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ننھی جان بھی جڑی ہے۔

دنیا میں آنے کی خوشی تو ایک حقیقت ہے مگر اس کے ساتھ بچے کو سنبھالنے، اس کی ضروریات سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کی فکر ماؤں کو پریشان رکھتی ہے ماؤں کے لئے ضروری ہے کہ ایسے موسم۔کے دوران وہ بچوں کی صحت کا بطور خاص خیال رکھیں۔موسم چونکہ سخت ہوتا ہے اس لئے ان کے بیمار پڑجانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے ۔معمولی بخار،کھانسی،نزلہ یازکام سے کام شروع ہوتا ہے اور پھر بیماری بڑھتی جاتی ہے۔اس لئے احتیاطی تدابیر کی اشد ضرورت رہتی ہے ۔

پریگنینسی کے دوران خون کا بہاؤ ہونا اور اس کے حمل پر اثرات

An image of Bleeding Effects pregnancy

Table of Contents

bleeding during pregnancy and its effects on pregnancy

حمل کے پہلے تین مہینے  یا حمل کے پہلے ٹرائمسٹر میں آپ کے جسم میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں جس کی کافی وجوہات ہو سکتی ہیں۔اگرچہ حمل کے شروع میں آپ کے اندر بیرونی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آتی لیکن تب بھی آپ کے جسم کے اندر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے۔ حمل کے پہلے تین مہینوں میں تھوڑا بہت خون بہنا عام بات ہو سکتی ہے۔ایک مطالعے کے مطابق 30 فیصد خواتین کو پہلے تین ماہ میں داغ یا ہلکا خون بہنے کا مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ ابتدائی حمل کا ایک بہت عام سا حصہ ہو سکتا ہے۔ بہت سی خواتین کو خون بہنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اس کے باوجود صحت مند حمل مکمل کرتی ہیں۔ لیکن پھر بھی ڈاکٹر سے ایک دفعہ چیک اپ لازمی ہے

لیکن پریگنینسی کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی یعنی (9 ماہ کے حمل کے آخری 6 ماہ) کے دوران ویجاینہ سے خون بہنا حمل کے پہلے تین مہینوں میں خون بہنے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔ دوسرے اور تیسرے سہ ماہی کے دوران خون بہنا غیر معمولی بات ہے۔ 

 

An image of BLEEDING effects on pregnancy

"خون بہنے کی وجوہات" Causes of bleeding

 پریگنینسی کے دوران خون بہنے کی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آپ کو  دھبے یا خون بہنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ آئیے کچھ عام وجوہات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

 

حمل کے پہلے سہ ماہی یا 3 ماہ کے دوران خون بہنے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

حمل کے پہلے سہ ماہی میں  خون بہنے کا مسئلہ بہت سے مختلف عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

 

An image of hormonal changes

 

امپلانٹیشن بلیڈنگ

حمل کے شروع ہونے سے پہلے ماہواری کی تاریخ کے دنوں میں ہی معمول سے کم فلو کے ساتھ خون کا داغ لگتا ہے ۔ اس دوران یوٹرس کی دیوار میں ایمبریو کی ایمپلانٹیشن ہوتی ہے، جسے امپلانٹیشن بلیڈنگ کہتے ہیں۔

 

اسقاط حمل

اگر آپ کو  خون کا داغ لگ رہا ہو اور درد ہو رہا ہو تو ابارشن کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب آپ کو انفیکشن ہو، جیسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن، یا پانی کی کمی ہو،یا پھر کچھ دوائیوں کا ری ایکشن بھی ہوسکتا ہے ۔

 ان وجوہات کے علاوہ، مزید وجوہات میں بھاری وزن اٹھانا، جنسی تعلق قائم کرنا ، یا جذباتی تناؤ شامل ہوسکتا ہے۔

 ملاپ کے بعد خون بہنا

 جنسی ملاپ کے بعد اندام نہانی سے بعض اوقات خون بہتا ہے۔ حمل کے دوران یہ نارمل ہو سکتا ہے

 

ایکٹوپک حمل

 آپ کو ایکٹوپک حمل ہوسکتا ہے (جسے ٹیوبل حمل بھی کہا جاتا ہے)۔ یہ آپ کی میڈیکل ہسٹری یا الٹراساؤنڈ اور بعض صورتوں میں  خون کے ٹیسٹ سے ہی پتہ چل سکتا ہے ۔ ۔ ایکٹوپک حمل اس وقت ہوتا ہے جب فرٹیلائزڈ انڈا بچہ دانی کے باہر چپک جاتا ہے، اکثر یہ فیلوپین ٹیوب میں چلا جاتا ہے۔ جیسے فرٹیلائزڈ انڈا بڑھتا ہے، یہ فیلوپین ٹیوب کو پھاڑ سکتا ہے اور جان لیوا خون بہنے کا سبب بن سکتا ہے۔ علامات  میں درد، خون بہنا، یا ہلکا سر درد شامل ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر ایکٹوپک حمل، حمل کے دسویں ہفتے سے پہلے درد کا باعث بنتے ہیں۔

 

حمل کے آخری 6 ماہ کے دوران خون بہنے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

An image of low-lying placenta, or placenta previa

حمل کے دوران خون بہنے کی سب سے عام وجہ نال یا بچے کی آنول کا مسئلہ ہوتا ہے۔ کچھ خون بہنا سروکس کا منہ یعنی بچہ دانی کا منہ جلدی کھلنے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

 

آنول کا نیچے کی طرف ہونا یا پلاسینٹا پریویا

بچے کی نال، جو کہ ایک ایسا ڈھانچہ ہوتا ہے جو بچے کو ماں  کے یوٹرس کی دیوار سے جوڑتا ہے۔ لیکن پلاسینٹا پریویا میں یہ بچے دانی کے منہ کو تھوڑا یا مکمل طور پر کور کر لیتا ہے۔ اس نالی کے نیچے ہونے کی وجہ سے جب خون آتا ہے تو اسے پلاسینٹا پریویا کہتے ہیں۔ اس کنڈیشن میں حمل کے آخر میں نال کی کچھ خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور پھٹ جاتی ہیں۔ اس دوران خون کا بہاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک ایمرجنسی حالت ہوتی ہے ایسی حالت میں فورا ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے

 

نال یا آنول کی خرابی

یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب ایک عام نال یوٹرس کی دیوار (بچہ دانی) سے وقت سے پہلے الگ ہو جاتی ہے اور خون نال اور بچہ دانی کے درمیان جمع ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی علیحدگی کا کیس تمام حمل میں سے 200 میں سے 1 میں ہوتا ہے۔ ۔ نال کی خرابی کے خطرے میں یہ وجوہات  شامل ہوتی ہیں:

-ہائ بلڈ پریشر (140/90 یا اس سے زیادہ)

-صدمہ

-کوکین کا استعمال

-تمباکو کا استعمال

An image of a rupture of the uterus

 

بچہ دانی کا پھٹ جانا

 بچہ دانی جب غیر معمولی طور پر کھل جاتی ہے ، تو اس کی وجہ سے بچہ تھوڑا یا مکمل طور پر پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ ویسے تو بچہ دانی کا پھٹنا بہت ہی کم ہوتا ہے، لیکن ماں اور بچے دونوں کے لیے بہت خطرناک ہوتا ہے۔ تقریباً 40% خواتین جن کی بچہ دانی پھٹ جاتی ہے وجوہات میں ان کی بچہ دانی کی پہلے سرجری ہوتی ہے یعنی سیزرین ڈیلیوری۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کی ڈلیوری سی سیکشن سے ہوئ ہے تو کم از کم ڈھائی سال کا وقفہ کریں۔ کیونکہ ایک دفعہ سی سیکشن ہو کے ٹانکے لگے ہوتے ہیں تو اگر وقفہ کم ہو تو پریگنینسی کے دوران جب یوٹرس بچے کے سائز کے حساب سے پھیلتی ہے تو بچہ دانی کے پھٹنے کا خطرہ ہوتا ہے

 اس کے علاؤہ اگر آپ کی ڈاکٹر نے آپ کی ڈلیوری نارمل نہیں بتائی تو کسی بھی قسم کا ٹرائل ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہ کریں خاص طور پر یہ جو دائیوں والا ٹرینڈ ہے۔ یہ نارمل ڈیلیوری کے لیے درد لگانے کی دوائیاں لگا دیتی ہیں اور جب بچے کی پوزیشن ہی نارمل والی نہیں تو بچہ کیسے ڈلیور ہو گا لیکن یہ دوائیوں کی ڈوز بڑھاتی رہتی ہیں کہ زیادہ دردیں لگے اور کسی طرح بچہ ڈلیور ہو جاۓ لیکن ضرورت سے زیادہ دوائیوں کی وجہ سے لیبر پین زیادہ ہوتی کیونکہ بچے کی پوزیشن نارمل والی نہیں ہوتی تو بچہ ڈلیور نہیں ہوتا اور سارا زور ماں کی بچہ دانی پر پڑتا ہے اس طرح سے بھی یوٹرس یعنی بچہ دانی پھٹ سکتی ہے

حمل کے دوران کسی بھی قسم کی غیر معمولی علامات کی صورت میں وجوہات جاننے کے لئے اور اپنی اور بچے کی صحت کے لیے فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں

 

بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے10 مفید غذائیں کون سی ہیں؟  بچوں کو صحت مند بنانے کے لیے کیا ٹپس ہیں؟

An image of 10 healthy/food items or 10 nutritious foods

  سال سے 12 سال کے درمیان بچے تیزی سے بڑھتے ہیں اس کے لیے انھیں مناسب غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی غذائیں جو انھیں پروٹین، کیلشیم ، آئرن اور وٹامنز فراہم کرسکیں ان کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اگر بچے کو یہ غذائیں نہ ملیں تو وہ کمزور اور بیمار بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ذہنی اور جسمانی کارکردگی پر بھی خراب اثر پڑتا ہے ۔ یہ اہم غذائیں اناج ، پھل ، سبزیوں اور ڈیری پروڈکٹس سے حاصل ہوسکتی ہیں۔

ہمیں اپنے اردگرد اکثر ایسی خواتین نظر آتی ہیں جو بچے کو صحت مند بنانے کے چکر میں خوب کھلاتی ہیں اور بعض اوقات تو ضرورت سے زیادہ ہی کھلا دیتی ہیں ۔مائوں کا اس طرح کھلانا بچوں میں موٹاپے کا باعث بنتا ہے اور بچپن کا موٹاپا بڑے ہوکر مختلف بیماریوں کا پیش خیمہ بن جاتا ہے ۔

مائوں کو چاہیے کہ ابتدا ء سے ہی بچوں کی متوازن غذا پر توجہ دیں ۔ انہیں شروع سے ہی پھل اور سبزیاں کھلانے کی کوشش کریں تا کہ ان کی یہ سب کھانے کی عادت بنے ۔محض بچے کی پسند کے پیش نظر اسے روغنی غذائوں کا عادی نہ بنائیں ۔اس عادت سے آگے چل کر مشکلات پیدا ہوتی ہیں- بچوں کی ذہنی وجسمانی نشوونما کے لیے وٹامنز سے بھرپور غذا کے بارے میں معلومات رکھنا ہر خاتون کے لیے ضروری ہے ۔اسکول جانے والے بچوں کو غذائیت سے بھر پور غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔چار سے آٹھ سال کے دوران بچوں کی نشوونما تیزی سےہوتی ہے اس لئے اس دوران بچوں کو غذائیت سے بھر پور غذا کی بہت ضروری ہوتی ہے۔

بڑھتے بچوں کے لیے بہترین غذائیں

An image of healthy foods

بیریز

اسٹرابیری اور بلو بیری وٹامن سی ، اینٹی اوکسی ڈنٹ اور فائٹوکیمیکل سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ سیلز کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتے ہیں اور قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔

ان بیریز کو آئسکریم ، دہی اور سیریلز کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اسٹرابیری ملک شیک بھی بچوں کو بہت پسند آتا ہے۔۔ 

بچوں کو بچپن سے کھانے پینے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں تاکہ ان میں سب چیزیں کھانے کی عادت ہو اور یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز انہیں اچھی نہیں لگتی۔

انڈے

انڈے وٹامن اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں انڈوں کا استعمال ذہنی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

وٹامن B12 سے بھرپور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کا قد بڑھتا ہے۔آپ کو چاہیے کہ بچوں کو دن میں کم از کم ایک انڈہ ضرور کھلائیں،اگر بچے دو یا تین انڈے کھانا چاہیں تو منع کرنے کی بجائے انہیں کھانے کو دیں۔اس عمر میں انڈے بالکل بھی خطرناک نہیں ہوتے بلکہ اس کی وجہ سے ان کا قد بڑھے گا۔ انڈے ابال کر ، تل کے یا آملیٹ بنا کے بچوں کو دیں اس کے علاوہ سوپ میں انڈے بہت ہی مزے کے لگتے ہیں تو آپ سوپ بنا کے بھی دے سکتی ہیں ۔ اس کے علاؤہ انڈے کا سالن بھی بنا کر بچوں کو دیا جاسکتا ہے۔

بچوں کو کھانے میں رغبت کے لئے ان کو خوبصورت پلیٹوں اور پیالوں میں کھانے ڈال کر دیں ۔اس طرح سے بچوں میں بھوک بڑھے گی اور وہ صحت مند جسم کے ساتھ پروان چڑھیں گے۔

An image of use in milk

گائے کا دودھ

 

بڑھتے ہوئے بچوں کے لئے دودھ انتہائی ضروری ہوتا ہے

گاۓ کا دودھ کیلشیم اور فاسفورس حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ ہڈیوں اور مسلز کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہیں ۔ بچوں کو فل فیٹ ملک دیں ۔ اگر بچے کا وزن زیادہ بھی ہے تب بھی اسکو نشونما کے لیے انرجی کی ضرورت ہے۔اگر آپ کا بچہ دودھ جلدی نہیں پیتا یا ضد کرتا ہے تو دودھ کو سیریلز یا کوکیز کے ساتھ دیں اس کے علاوہ دودھ کو پھلوں کے ساتھ بلینڈ کر کے بھی دیا جاسکتا ہے۔بچوں کو دودھ ،دہی اور اس کی بنی اشیاء بھی دینی چاہیے،کیوں کہ اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو بچوں کی ہڈیوں کی نشو ونما کے لیے ضروری ہے۔

دودھ ایک مکمل غذا ہے اور اس کا استعمال بچوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اگر آپ اپنے بچوں کو روزانہ دودھ پینے کی عادت ڈال دیں گے تو ان کی نشوونما میں تیزی آجائے گی

 

اناج سے بنی اشیاء

 

ثابت اناج سے بنائی گئی اشیاء میں فائبر ہوتا ہے جس سے نظام ہضم بہتر رہتا ہے اور قبض نہیں ہوتی بچوں کو اسنیکس کے طور پر ثابت اناج سے بنے بسکٹ اور سیریلز دیں۔

 

گوشت 

گوشت آئرن اور پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے۔ آئرن ذہن کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔

مچھلی ، مرغی یا گائے کے گوشت کی چھوٹی بوٹیاں بنا کر یا قیمہ کر کے انڈے بریڈ کرمز ابلے ہوئے آلوئوں کے ساتھ ملا کر میٹ بالز یا پیٹیس بنالیں۔ اس کے علاؤہ کسی بھی ڈش میں ڈال کر بچوں کو کھلائیں۔۔

چکن میں موجود پروٹین کی وجہ سے بچوں توانائی ملتی ہے جس سے ان کی نشوونما بہتر ہوتی ہے لہذا ہفتے میں کم ازکم دوبار بچوں کو گوشت ضرور کھلائیں۔بکرے کے گوشت کی یخنی سے نہ صرف بچوں کی نشوونما میں مدد ملے گی بلکہ وہ بیماریوں مثلاًنزلہ و زکام سے محفوظ رہیں گے۔

 

پی نٹ بٹر

پی نٹ بٹر میں مونوسیچوریٹڈ فیٹس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ یہ بٹر بچوں کو توانائی اور پروٹینز فراہم کرتا ہے۔

بسکٹ یا سلائس پر لگا کر دیں اس کے علاوہ یہ روکھا بھی کھایا جاسکتا ہے۔

 

مچھلی

مچھلی میں پروٹین کی موجودگی ہڈیوں اور مسلز کو مضبوط بناتی ہے۔ چکنے گوشت والی مچھلیاں ، سالمن ، سرڈائن اور ٹونا میں وافر مقدار میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ موجود ہیں جو بینائی کو تیز کرنے کے ساتھ دماغ اور نروز کی بہتر نشونما کرتے ہیں۔

مچھلی کے گوشت کو چاول کے آٹے یا بریڈ کرمز میں کوٹ کر کے فرائی کریں یا ابلے ہوئے آلو کے ساتھ ملا کر فش بالز بنائیں ایسی چیزیں بچے شوق سے کھاتے ہیں اور یہ غذایت سے بھرپور بھی ہوتی ہیں۔

 

پنیر

پنیر پروٹین ، کیلشیم ، فاسفورس اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہے اور ہڈیوں کی نشونما کے لیے بہترین ہے ۔ بچوں کو موزریلا چیز بہت پسند ہوتا ہے انھیں پنیر سلائس اور کیوبز کی شکل میں دیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ پیزا کی شکل میں یا پاستا ، نوڈلز اور فرائڈ رائس کے ساتھ بھی دیا جاسکتا ہے ۔

 

بروکولی 

بروکولی میں موجود غذائیت بینائی کے لیے نہایت مفید ہے اور سیلز کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتی ہے۔ اس میں موجود فائبر نظام ہضم بہتر کرتا ہے اور قبض سے بچاتا ہے ۔ بروکولی کے چھوٹے پھول کاٹ لیں سلاد ، ٹماٹو کیچپ کے ساتھ دیں کش کیے ہوئے پنیر کے ساتھ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بروکولی کو پیزا کی ٹاپنگ اور آملیٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

An image of healthy food use

خوش رنگ پھل

گاجر ، شکرقندی، ٹماٹر اور پپیتے میں بیٹا کیروٹین وافر مقدار میں موجود ہے جو جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ وٹامن اے بینائی اور جلد کے لیے بہترین ہے اس کے علاوہ جسم کے ٹشوز کی بہتر نشونما کرتا ہے۔

 

دالیں، دلیہ، گوشت ،مچھلی ،انڈا اورچکن جیسی خوراک سے بچوں کو آئرن ،وٹامنز،پروٹین اور پوٹاشیم کا حصول ممکن ہو جاتا ہے اور جسم وذہن کی نشوونما بھی وجود میں آئے گی۔

An image of vibrant fruits

بچوں کی خوراک کے لیے کچھ اہم ٹپس

 

-کولڈ ڈرنکس بچوں کی صحت کے لئے مضر ہیں ۔ اس لیے اس کا کم سے کم استعمال کروائیں

 

-کھانا کھانے کے دوران بچوں کو ٹی وی نہ دیکھنے دیں ورنہ وہ دل جمعی کے ساتھ اور سکون سے کھانا نہیں کھا سکیں گے۔

 

-کچھ بچوں میں موٹاپے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ورزش نہیں کرتے اور بھاگ دوڑ سے بھی کتراتے ہیں ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کوا پنے ساتھ ورزش کروائیں ۔

 

-مائوں کو چاہیے کہ سکول بھیجتے وقت بچوں کو ناشتہ لازمی کروائیں ۔

 

-بچوں کو غذائی اشیاء بدل بدل کردیں، تاکہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر ہوں ۔یہ کوشش رہے کہ بچوں کو بچپن سے کھانے پینے کی عادت ڈالیں اور بدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں 

 

-اس عمر میں بچے، عموماً فاسٹ فوڈیا جنک فوڈ کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔جنک فوڈ بچوں کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے ایسے میں مائوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔وہ بچوں کو ان کی پسند کی غذا بنا کر کھلائے اور ایسی غذا بنا کر دے کہ اس میں وٹامنز اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہو۔ابتداء سے مائیں اپنے بچوں کے لیے جن غذاؤں کا انتخاب کریں گی تو وہ مستقبل میں ان بچوں کی صحت اور ان کے کھانے پینے کی عادات وذہنی نشوونما میں بہتری کا باعث بنےگی۔

An image of fast food to avoid

-کھیل کود کے ساتھ غذائی مینو بھی تبدیل کرنا چاہیے۔پھلیاں ،پالک اور دیگر سبزیوں کی مختلف ڈشز بچوں کو کھلائیں۔ان میں وٹامنز اور فولاد کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

 

-مائیں بچوں کو ناشتہ کرنے کا عادی بنائیں۔جو بچے ناشتہ نہیں کرتے ان میں وٹامن بی کی کمی دیکھی گیی،اس لئے ناشتے میں سبزیاں دیں۔سلاد کے ساتھ فروٹس بھی دیے جاسکتے ہیں ،اس کے ساتھ ڈبل روٹی دیں۔بچوں میں ابتداء سے ہی ورزش کی عادت ڈالیں

 

سکول جاتے وقت زیادہ پیسے نہ دیں تا کہ بچے اوٹ پٹانگ چیزیں کھا کر پیٹ خراب نہ کریں

 

-باازاری مشروب سے دور رکھیں گھر کی پکائی ہوئی چیزوں کو کھانے کے لئے دیں اس طرح بچوں کو صاف ستھری اور صحت مند خوراک حاصل ہوگی جس کے کھانے سے وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تیز ہوں گے

 

-بچوں کو فاسٹ فوڈ گھر میں بنا کر دیں اور ان میں سبزیاں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر شامل کردیں تاکہ بچوں کو ان کی علیحدہ علیحدہ ذائقے  محسوس نہ ہوں ۔ مثال کے طور پر آپ پیزا یا پاستا میں ٹماٹر ، شملہ مرچ ،بند گوبھی اور زیتون جیسی کئی صحت بخش سبزیوں کا استعمال کر سکتی ہیں-بچوں کے پسندیدہ کھانوں جیسے نوڈلز وغیرہ میں سبزیاں باریک کاٹ کر شامل کر دی جائیں تو  بھی متوازن غذا کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے

 

-چھوٹی چھوٹی مقدار میں موسم کے مطابق بچوں کی مناسبت سے ایسی خوراک دیں جو زود ہضم ہو۔ یاد رہے کہ بچہ تیز خوشبو والا گرم کھانا پسند نہیں کرتا۔ بچے کو ضرورت سے زیادہ نہ کھلائیں اس سے اس کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہونگے۔ تھوڑی تھوڑی خوراک بچے کو کھانے کو دیں تا کہ وہ آرام و آسانی کے ساتھ حلق میں اُتار سکے۔

 

-خوب پلائیں، سکول جاتے وقت لنچ باکس اور پانی کی بوتل ضرور دیں۔اس طر ح آپ کا بچہ مکمل طور پر صحت یاب رہے گا ۔

چھوٹے بچوں کو کھانا کھلانا ماؤں کے لئے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ۔ ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ صحت مند اور تندرست ہو ۔ بچے کی صحت متوازن غذا سے مشروط ہے

قدرت نے قسم قسم کی غذائیں، اناج اور پھل پیدا کیے ہیں۔ہر پھل سبزی اور اناج کی اپنی منفرد غذائی افادیت ہے ۔صحت مند رہنے کے لیے ان نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ پرانے وقتوں میں لوگ ان تمام غذاؤں کا بھر پور استعمال کرتے تھے

زمانے کے بدلتے انداز کے جہاں لوگوں کے رہنے سہنے کے طور طریقوں کو بدل دیا ہے وہاں غذا اور غذائیت سے متعلق کئی تصورات بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔

صحت مند غذا اب پسند نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ جو کچھ کھایا جارہا ہے وہ کس حد تک ہمارے بچوں اور انکی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہے۔

 

ہارمونز کا لیول متوازن رکھنے والی غذائیں کون سی ہیں؟

An image of maintaining hormonal balance

Table of Contents

 

جسم میں متوازن ہارمون اور چمکدار جلد کا کون خواہش مند نہیں ہوتا۔کچھ غذائیت سے بھرپور کھانے ہر ایک کو اس قابل کر سکتے ہیں ۔ہارمونز ہمارے موڈ ،نظام ہضم توانائ ،نشونماء اور جلد کی ساخت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

آگر ہم ایسی غذائیں نہ کھائیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہے تو ہمارا جسم صحیح مقدار میں ہارمونز پیدا نہیں کرسکے گا۔اس طرح ہارمونز کا توازن قائم نہیں رہے گا کیونکہ جسم کو نشونما کے ذرائع حاصل نہیں ہو سکیں گے۔خواتین میں ہارمونز کا نظام زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے اور اس میں انتشار کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔یہ جاننا ضروری ہے کہ ہارمونز کا نظام متاثر ہو تو مزاج، رویہ، اچھی شخصیت اور ظاہری روپ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ہارمونل عدم توازن ایک عام مسئلہ ہے جس میں بانجھ پن ، افسردگی یا حراستی میں کمی اور پٹھوں کی طاقت جیسے بہت سے حالات ہیں۔خوش قسمتی سے ، اس مسئلے کے علاج اور ہارمون کو متوازن رکھنے کے لئے قدرتی اور طبی طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ آپ کی غذا اور طرز زندگی میں کچھ آسان تبدیلیاں کرنا مددگار ثابت ہوسکتے ہیں ، لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی پریشانی ہے تو آپ کو پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہئے

ہارمونز بنانے والی غذا

 

ہمارے جسم کو تین بڑی غذاؤں یعنی کاربوہائڈریٹ، پروٹین اور فیٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔

فیٹس ہارمونز کو متوازن بنانے کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔برسوں سے ہم سنتے آرہے ہیں کہ چکنائی سے پاک کھانے اچھے ہیں جبکہ کولیسٹرول اور فیٹس اچھے نہیں ہیں لیکن یہاں معاملہ کچھ الٹا ہے۔نئے ہارمونز بنانے اور متوازن رکھنے کے لئے ہمیں صحت مند فیٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔کچھ فیٹی ایسڈ اور کولیسٹرول کی مدد سے ہارمونز بنتے ہیں۔اگر ہم یہ غذائیں نہ لیں تو ہارمونز کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔کیونکہ ہمارے جسم کو صحیح غذائیت نہیں ملتی۔ہمارے جسم کو نئے سیل بنانے اور ہارمونز کو بننے کے لئے فیٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ عورت کے تولیدی نظام کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں ۔

متوازن ہارمونز کے لئے غذائیں

پروٹین سے بھرپور ہونی چاہیے اینٹی اوکسی ڈنٹ سے بھر پور سبزیاں اور بعض جڑی بوٹیاں جسم کی نشونما میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ

پروٹین ,میوے ،پھلیاں ،مسور کی دال ،گائے کا گوشت ،مچھلی ہارمونز کو متوازن رکھنے کے لیے مفید ہوتی ہیں۔۔

"تخم بالنگو" Basil Seeds

An Image of Basil Seeds

 بالنگو جسے چیا سیڈ بھی کہا جاتا ہےاس میں دودھ سے پانچ گنا زیادہ کیلشیم ہوتا ہے اور دودھ سے سات گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے، اور ہارمون کے مسائل سے دل برداشتہ  خواتین کے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات یہ کہ اس میں قدرتی اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی کافی زیادہ مقدار ہوتی ہے، اس لیے روزانہ ایک گلاس دودھ یا پانی میں دو چمچ تخم بالنگو ڈال کر پی جایا کریں، یہ شربت نیند کو بہتر کرنے، اکثر قسم کے کینسر، خون میں شوگر لیول کو کنٹرول کرنے، انتڑیوں کی صفائی کرنے، اور سب سے بڑھ کر آپ کی ہارمونز پرابلم کو حل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اور انسان کے مدافعتی نظام کو طاقت ور کرنے میں بھی بے مثال ہیں۔ 

ہارمونز کو متوازن رکھنے والے فیٹس "Fats "

An image of coconut oil

ناریل کا تیل

ناریل کا تیل دل کے لیے نقصان دہ ہے یہ بات غلط ہے بلکہ یہ تیل دل کے اکثر امراض میں دل کی حفاظت کا کام سرانجام دیتا ہے ان سب امراض سے چھٹکارا پانے کے لیے روزانہ دو سے تین کھانے کے چمچ ناریل کا تیل لازمی پیئں یا کھانا پکانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

ناریل کا تیل اور اس سے بنی اشیاء ہارمونز کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔۔اس میں موجود لارک ایسڈ جو ہارمونز کی پیداوار کے لئے بہت مفید ہے۔اور جلد کو صحت مند بناتا ہے ۔جسم میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا اور وائرس کوختم کرتا ہے اور توانائی فراہم کرتا ہے۔آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اور جسم کی نشونما تیز کرتا ہے۔

مکھن اور گھی کا استعمال

مکھن یا گھی وٹامن اے، ڈی ،ای اور کے ٹو سے بھرپور فیٹس فراہم کرتا ہے۔یہ غذائیں ہارمونز کی پیداوار کا ذریعہ ہیں ۔مکھن وافر مقدار میں فیٹی ایسڈ فراہم کرتا ہے جو قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور جسم کی نشونما کو تیز تر کرتا ہے اور جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے جسم میں نقصان دہ بیکٹیریا اور وائرس سے مقابلہ کرتا ہے۔

انڈے کی زردی

انڈے کی ذردی میں لاتعداد وٹامن اور معدنیات ہوتے ہیں جن مین وٹامن بی ٹو ، بی 9، وٹامن  اے، آئرن ،کیلشئم،فاسفورس اور پوٹاشئم شامل ہوتے ہیں ۔یہ سب صحت مند نظام تولید ،ہارمونز کے توازن اور صحت مند جلد کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔

 

اس کے علاوہ میوے، بیج ،زیتون اور زیتون کا تیل، مچھلی کا تیل،اور دودھ سے بنی خالص دیسی اشیاء ہارمونز کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

"سبزیوں کا استعمال"Use of Vegetables

An Image of Use of Vegetables

گہرے رنگ کی سبزیاں

گہرے سبز رنگ کی سبزیاں جیسے بروکولی، پالک، بند گوبھی، کھیرا اینٹی اوکسیڈنٹ سے بھرپور ہوتی ہیں اور ہارمونز کے لیول کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔۔

خوش رنگ سبزیاں

نارنجی شملہ مرچ لال، بند گوبھی، سفید اور لال پیاز ،ٹماٹراور گاجر۔ اس کے علاوہ اسٹارچ والی سبزیاں بھی نظرانداز نہ کریں ۔شکر قندی،شلجم اور چقندر وغیرہ یہ تمام سبزیاں ہارمونز کے توازن کو بر قرار رکھنے کے لیے نہایت ہی مفید ہیں

کون سی غذائیں ہارمونز کے عدم توازن میں نہیں کھانا چاہیے؟

-تلی ہوئی ، میٹھی اور چربی والی کھانوں سے پرہیز کریں۔

میٹھی اور چربی والے کھانوں سے ہارمونل توازن بگڑنے کا خطرہ بڑھتا ہے اس لیے ایسے کھانوں سے پرہیز کریں۔۔

-جنک فوڈ کھانے سے avoid کریں

-پروسیز شدہ اور پیک شدہ کھانے نہ کھائیں

-کیفین اور الکحل سے پرہیز کریں۔

ڈائٹ پلان بنایئں اور اسکے مطابق کھائیں پئیں۔۔

-صحت مند وزن رکھیں۔ زیادہ وزن یا موٹاپا ہارمونل عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے اپنے قد کے مطابق وزن کو maintain رکھیں۔۔

An image of food to avoid

چھوٹے بچوں کی کھانسی اور زکام کا گھریلو علاج

An Image of Cough in Young Children

موسم بدلتے ہی نزلہ، زکام، کھانسی ،ناک بہنا وغیرہ اور اس طرح کے دیگر مسائل کوئی نئی بات نہیں۔اس طرح کی بیماریاں چھوٹے بچوں پر زیادہ جلدی اثر انداز ہوتی ہے- دراصل اپنی ناتواں قوت مدافعت کے باعث نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔

 کھانسی بذات خود کوئی مرض نہیں بلکہ یہ دوسرے امراض کی علامت ہوسکتی ہے۔کھانسی اگر مستقل رہے تو دوسرے امراض پیدا ہونے لگتے ہیں۔کھانسی دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک خشک کھانسی اور دوسری بلغمی کھانسی۔کھانسی اگر پرانی ہو جائے تو عموماً بلغمی ہو جاتی ہے۔خشک کھانسی عام طور پر وائرل یعنی وبائی ہوتی ہے جب کہ اس کی دیگر وجوہات نزلہ اور زکام یا کسی قسم کی الرجی ہوسکتی ہے۔

عام طور سے زکام کو کھانسی کی اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔کھانسی کی شدت کی صورت میں گرم اشیاء کے استعمال سے کھانسی میں کمی آتی ہے۔بظاہر کھانسی ایک عام سامرض ہے لیکن مرض کوئی بھی ہوجب شدت اختیار کرتا ہے تو تکلیف کا سبب بنتا ہے۔اسی لئے اس تکلیف سے نجات کے لئے کارآمد اور آزمودہ ٹوٹکے ہیں جن کے باقاعدہ استعمال سے کھانسی میں پہلے کمی اور پھر کھانسی ختم ہوجائے گی۔ اس ویڈیو کے ذریعے ہم آپ کو کچھ گھریلو علاج اور کچھ ایسی چیزیں جن کے استعمال سے آپ گھر بیٹھے اپنے بچوں کو کھانسی اور نزلہ زکام سے نجات دے سکتی ہیں۔

 

اب بات کرتے ہیں گھریلو علاج کی کہ بچوں کی کھانسی نزلہ و زکام کے لیے نہایت مفید ہے۔۔

An Image of Cough in Young Children

کالا شہتوت کا استعمال "The use of black mulberry"

An image of the use of black mulberry

کالا شہتوت ایک کلو لے کر بلینڈ کر لیں۔ پھر اس میں ایک کپ چینی اور چار گلاس پانی شامل کر کے پکنے رکھ دیں۔جب پک کر گاڑھا ہو جائے اور اس میں لیس آنے لگے تو کھانسی کی دوا تیار ہے۔ ٹھنڈا کر کے بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔بڑوں کے لئے ایک گلاس پانی میں تین چمچ ملا کر پلائیں اور بچوں کو ایک گلاس پانی میں ایک چمچ ملا کر پلا دیں کھانسی ٹھیک ہوجائے گی

"شہد" Honey

An Image of Cough in Infants UsingHoney

شہد تو ویسے ہی شفاء کا خزانہ ہے۔ یہ کھانسی اور گلے کی سوزش میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔استعمال کے لیے ایک چائے کا چمچ لیموں کا جوس اور دو چائے کے چمچ شہد لے کر آپس میں مکس کر دیں اور بچے کو دن میں دو سے تین مرتبہ پلائیں۔شہد کو نیم گرم دودھ میں ملا کر بھی دیا جا سکتا ہے۔ایک گلاس نیم گرم دودھ لے کر حسب ذائقہ شہد لیں اور بچے کو دیں۔خیال رکھیں کہ ایک سال سے چھوٹے بچے کو شہد نہیں دیں۔

"لیموں کا استعمال"Use of lemon in cough

An Image of the Use of Lemon in Coughs

لیموں خشک کھانسی اور گلے کی سوزش میں بہت مفید ہے۔اس کے اندر پایا جانے والا وٹامن سی بچوں کے اندر قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور نزلہ زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں سے بچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔طریقہ استعمال کے لیے مچار لیموں لیں ان کا رس نکالیں اور چھلکوں کو ایک برتن میں ڈال دیں۔ایک کھانے کا چمچ ادرک بھی لے کر اسی برتن میں ڈالیں۔اب اس برتن میں اُبلتا ہوا پانی ڈال لیں یہاں تک کہ یہ ساری چیزیں پانی میں بھیگ جائیں۔برتن کو ڈھک کر دس منٹ تک پڑا رہنے دیں اور اس کے بعد چھلنی سے چھان کر ایک کپ میں اُنڈیلیں۔اب اس محلول میں برابر مقدار میں نیم گرم پانی شامل کر کے اس کو پلٹا کر رکھ لیں،ساتھ میں حسبِ ذائقہ شہد بھی ملا لیں تاکہ ذائقہ اچھا ہو جائے۔ایک دن میں دو سے تین مرتبہ بچے کو پینے کے لیے دیں۔ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے شہد کی جگہ چینی استعمال کریں۔۔

بچے کو پینے کے لئے سوپ دیں Give the child soup to drink

An Image of Giving the Child Soup to Drink

چکن کا سوپ بھی ایک سال سے بڑے بچوں میں کھانسی اور نزلے کے لیے بہت مفید ہے۔یہ کھانسی سے نجات دیتا ہے اور نزلہ زکام کے اثرات ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔سوپ گھر میں خود بھی بنایا جا سکتا ہے۔چکن کے ساتھ ساتھ سبزیاں بھی شامل کر کے سوپ کو مزید فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔گاجر،پالک اور چقندر شامل کر سکتے ہیں۔دن میں دو سے تین مرتبہ سوپ پینے کے لیے بچوں کو دیں۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ بچوں میں بخار کے لیے بہت مفید ہے۔سرکہ ویسے تو ہر گھر میں ہوتا ہی ہے تو اگر چھوٹے بچے کو بخار ہو جائے تو آرام کے لیے آپ سرکے سے فائدہ اُٹھا سکتی ہیں۔ایک تہائی گلاس میں سرکہ اور دو گلاس ٹھنڈا پانی لے کر مکس کریں۔دو چھوٹے تولیے یا جاذب کپڑے لے کر اس میں بھگو دیں۔تھوڑی دیر بعد کپڑے نکال کر نچوڑ لیں اور ایک کپڑا پیشانی پر اور ایک کپڑا پیٹ پر رکھ دیں۔دس منٹ کے بعد کپڑے تبدیل کر دیں۔اس عمل کو تھوڑی دیر تک دُہراتی رہیں یہاں تک کہ بخار کم محسوس ہونے لگے۔

-دودھ میں کالا زیرہ ڈال کر پکا کر چھان کر پی لیں۔کھانسی دور ہو جائے گی۔کوشش کریں شام چار بجے سے پہلے اسے پیئیں۔ساتھ ہی ٹھنڈی اشیاء سے پرہیز کریں

-تلسی کے پتوں کا رس اور ادرک کا رس ملا کر اور آدھا چمچ شہد اچھی طرح ملا کر صبح و شام لے لیں۔ کھانسی کو روکنے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

-چھوٹے بچے کو کھانسی ہو تو چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر شہد میں ملا کر چٹادیں

-ایک چمچ لونگ اور دو چمچ انار کے چھلکے پیس کر اس پاؤڈر کا ایک چوتھائی چمچ لے کر آدھی چمچی شہد ملا کر روزانہ تین بار چاٹنے سے کھانسی ٹھیک ہوجاتی ہے

-ہلدی یا گرم پانی کی بھاپ لینا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

کھانسی کم کرنے یا روکنے والے مختلف شربت دیکھنے میں بہت بھلے لگتے ہیں۔ جیب پہ بھی خاصا بوجھ ڈالتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے بچنا بہتر ہے۔ تھوڑی بہت کھانسی ہونا فائدہ مند ہے۔ اس سے سانس کی نالی صاف ہوتی رہتی ہے- موسم کے بدلتے ہی اکثر افراد کھانسی ، نزلہ اور زکام کے شکار ہو جاتے ہیں جس سے روز مرہ کی روٹین کافی متاثر ہوتی ہے ، ان چھوٹی مگر پیچیدہ بیماریوں سے بچنے کے لیے کوئی خاص دوا بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتی ، لہٰذا ان سے بچنے کے لیے اپنے کچن کا رخ کریں ۔ اور ہماری بتائ گئی ہوم رمیڈی کو فالو کریں۔۔

Мобильные приложения и впуск для онлайн-казино: Слотика Казино детализированное описание.

Подвижные диалоговый-игорный дом позволяют игрокам получать доступ для бесчисленному разнообразию представлений из любого прибора во всякое время. Они вдобавок перемножают пользоваться бонусами а еще знаться из дружищами.

Сегодняшние забавы перемножают вменить в обязанность гб скоро только для установки вдобавок обновления, так же они употребляют заряд аккумуляторы бешено быстро. Continue reading “Мобильные приложения и впуск для онлайн-казино: Слотика Казино детализированное описание.”